ایک ہزار کھیلوں کے گراونڈز کا کمال ‘گراونڈ کم، اکاونٹ زیادہ، فائلیں لاپتہ اور کروڑوں روپے کھیل میں مصروف
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
خیبرپختونخوا میں اگر کسی شعبے نے مسلسل کارکردگی دکھائی ہے تو وہ ہے منصوبوں کا نام بدلنے اور ریکارڈ غائب کرنے کا شعبہ۔ یہاں سڑکیں کاغذوں پر بنتی ہیں، ہسپتال فائلوں میں چلتے ہیں، اور کھیلوں کے گراونڈز اکاونٹس میں دوڑتے ہیں۔ اسی اعلیٰ روایت کا شاہکار ہے “ایک ہزار کھیلوں کے گراو¿نڈز” کا منصوبہ، جو شروع تو نوجوانوں کو کھیل کی طرف لانے کے وعدے سے ہوا، مگر چند ہی برس میں اکاونٹنگ کی ایسی لیگ میں داخل ہو گیا جہاں گیند روپیہ ہے، بل بیٹ ہے اور آوٹ کبھی نہیں ہوتا۔
یہ منصوبہ بڑے جذبے کے ساتھ متعارف کرایا گیا۔ اعلان ہوا کہ صوبے بھر میں ایک ہزار کھیلوں کے میدان بنیں گے، نوجوان کھیلیں گے، ٹیلنٹ نکلے گا، اور خیبرپختونخوا کھیلوں کا مرکز بنے گا۔ مگر زمینی حقائق نے جلد ہی بتا دیا کہ یہاں کھیل کم اور “کھیل تماشہ” زیادہ ہوگا۔مالی سال 2018-19 میں جب اس منصوبے کا آغاز ہوا تو اس کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔ رقم سن کر یوں لگا جیسے گراونڈ نہیں بلکہ اولمپکس کی میزبانی ہونے جا رہی ہو۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ منصوبہ شروع کرنے سے پہلے یہ طے ہی نہیں کیا گیا کہ اسے چلانا کس نے ہے اور کیسے ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ متعلقہ تعلیم اور تجربہ رکھنے والے ماہرین کی جگہ ڈیپوٹیشن پر افسران تعینات کر دیے گئے۔ کھیل کا میدان ہو یا فنانس، اصول ایک ہی رہا کہ “کام وہ کرے گا جس کا کام نہیں”۔
جلد ہی آڈٹ اعتراضات کی بارش شروع ہو گئی۔ سو سے زائد اعتراضات سامنے آئے، مگر کسی نے اسے سنجیدگی سے لینے کی زحمت نہ کی۔ منصوبہ سست روی کا شکار رہا، مگر فائلوں کی رفتار برق رفتاری سے جاری رہی۔ یہاں کام رک جاتا ہے، مگر بل نہیں رکتے۔ جب یہ واضح ہو گیا کہ “ایک ہزار” کا ہدف شاید اگلے ہزار سال میں بھی پورا نہ ہو سکے، تو ایک انقلابی قدم اٹھایا گیا۔ منصوبے کا نام بدل دیا گیا۔ یوں “ایک ہزار کھیلوں کے گراونڈز” اچانک “متعدد کھیلوں کے گراونڈز” بن گیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب منصوبہ بندی نے لغت پر فتح حاصل کی۔ کیونکہ جب گنتی مشکل ہو جائے تو بہترین حل یہ ہے کہ گنتی ہی ختم کر دی جائے۔
لیکن اصل مزہ تو اکاونٹس کے معاملے میں آیا۔ محکمہ خزانہ نے تمام محکموں کو آسان اسائنمنٹ اکاونٹ کھولنے کے لیے سرکلر جاری کیا۔ عام فہم لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کا مطلب پرانا اکاونٹ بند کرنا ہوتا ہے، مگر یہاں منطق ذرا مختلف تھی۔ منصوبے کا اکاونٹ پہلے ہی “ڈائریکٹوریٹ جنرل آف اسپورٹس” کے نام سے موجود تھا، مگر اسے بند کرنے کے بجائے ایک جعلی خط کے ذریعے اس کا نام بدل کر “اسٹرینتھنگ آف ایچ ای ڈی” رکھ دیا گیا۔ یعنی اکاونٹ وہی، نام نیا، تاکہ پہچاننے والا بھی کنفیوز ہو جائے۔
احتیاطاً ایک نیا اکاونٹ بھی کھول لیا گیا، کیونکہ اگر ایک اکاونٹ میں سوال اٹھ جائیں تو دوسرا موجود ہونا چاہیے۔ دستاویزات کے مطابق 23 کروڑ 87 لاکھ روپے اس اکاونٹ میں منتقل کیے گئے، مگر یہ رقم اصل سرکاری اکاونٹ میں جمع ہی نہیں کرائی گئی۔یہاں رقم نے وہی کیا جو عام شہری نہیں کر سکتا۔ یعنی بغیر پتہ چھوڑے غائب ہو گئی۔ ٹینڈرز سے بچنے کے لیے ایک اور زبردست حکمت عملی اپنائی گئی۔ ہر کام کی لاگت جان بوجھ کر پانچ لاکھ روپے سے کم ظاہر کی گئی، کیونکہ پانچ لاکھ سے اوپر ٹینڈر لازمی ہوتا ہے۔یوں ایک بڑا منصوبہ سینکڑوں چھوٹے چھوٹے کاموں میں تقسیم کر دیا گیا۔ کام بڑے، بل چھوٹے، اور نیت سب سے بڑی۔
جن فرموں کے ذریعے اخراجات دکھائے گئے، ان میں سے کئی ایسی تھیں جن کے مالکان کا نام تک کاغذات میں درج نہیں۔ صوبائی انسپیکشن ٹیم نے جب ان فرموں کے مالکان کو طلب کرنا چاہا تو معلوم ہوا کہ ان کا وجود صرف فائلوں تک محدود ہے۔یہ شاید وہ واحد کاروباری حضرات ہیں جو بغیر نام کے اربوں کے منصوبوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔اعداد و شمار مزید دلچسپ ہیں۔ سات سال میں 298 ذیلی منصوبوں کی منظوری دی گئی، جن کی مجموعی لاگت 4 ارب 30 کروڑ روپے بنتی ہے۔ مگر ان میں سے صرف 155 چھوٹے منصوبے مکمل ہو سکے۔
اس منصوبے کے باقی یا تو زمین کے تنازعات کا شکار ہیں، یا ٹھیکیدار ناراض ہیں، یا پھر صرف کاغذوں میں زندہ ہیں۔ مالی تفصیلات کے مطابق 2 ارب 17 کروڑ روپے سے زائد رقم جاری کی جا چکی ہے، اور تقریباً اتنی ہی رقم خرچ بھی دکھا دی گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کی صرف تین گاڑیوں کے لیے 60 لاکھ روپے کا فیول بجٹ رکھا گیا تھا، مگر دو سال میں 52 فیول کارڈز جاری کر دیے گئے۔یعنی تین گاڑیاں نہیں، پورا قبیلہ چل رہا تھا۔
اسی مد میں 2 کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ ہو گئے۔ گاڑیوں اور مرمت کے لیے 50 لاکھ روپے مختص تھے، مگر خرچ ایک کروڑ سے اوپر چلا گیا۔ شاید گاڑیاں نہیں، تاریخ کی سب سے مہنگی اسکوٹر مرمت ہو رہی تھی۔ اب صوبائی انسپیکشن ٹیم کہہ رہی ہے کہ کم از کم 23 کروڑ روپے کی کرپشن سامنے آ چکی ہے، جبکہ 2019 سے 2023 تک کا اہم ریکارڈ ہی غائب ہے۔ یعنی جس منصوبے کا مقصد گراونڈ بنانا تھا، اس نے ریکارڈ گمشدگی کا نیا گراونڈ تیار کر دیا ہے۔
تحقیقات ابھی جاری ہیں، اور اگر رفتار یہی رہی تو ممکن ہے یہ منصوبہ مکمل نہ سہی، مگر ایک مستقل مزاج مثال بن جائے کہ خیبرپختونخوا میں اگر کوئی چیز پوری ہوتی ہے تو وہ ہے “فائل کا غائب ہونا” اور “رقم کا راستہ بدلنا”۔آخر میں سوال یہ نہیں کہ گراونڈ کہاں ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب منصوبوں کا حساب ہی نہ ملے تو کھیل کون سا کھیلا جا رہا ہے، اور کھلاڑی کون ہیں؟
#KPKSportsScandal #OneThousandGrounds #MissingMillions #PublicMoney #SportsGovernance #CorruptionStory #AccountGames #Kikxnow
|