خیبرپختونخواہ گیمز کی واپسی، نوجوانوں کیلئے نئی امید، شمولیت اور میرٹ کا واضح پیغام
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
کم و بیش گیارہ ماہ کے وقفے کے بعد خیبرپختونخواہ گیمز ایک بار پھر صوبائی دارالحکومت پشاور میں شروع ہونے جارہے ہیں۔ چار فروری سے شروع ہونے والے یہ مقابلے سات فروری تک جاری رہیں گے اور اس بار ان کا دائرہ، تیاری اور ژن پہلے سے کہیں زیادہ واضح نظر آتا ہے۔ یہ صرف کھیلوں کا ایونٹ نہیں بلکہ نوجوان کھلاڑیوں، خصوصاً انڈر 21 سطح کے ٹیلنٹ کیلئے خود کو منوانے کا ایک اہم موقع ہے۔
ابتدا میں یہ مقابلے بیس جنوری سے شروع ہونا تھے، تاہم ریجنل سپورٹس آفیسرز نے بی ایس کے طلبہ کے امتحانات کے باعث تاریخوں میں تبدیلی کی درخواست کی۔ اس درخواست کو ڈائریکٹر جنرل سپورٹس نے منظور کرتے ہوئے نئی تاریخوں کا اعلان کیا۔ اب جب یہ ایونٹ اپریل میں منعقد ہورہا ہے تو خود حکام کا کہنا ہے کہ یہ تاخیر مجموعی طور پر بہتر ثابت ہوئی، کیونکہ موسم نسبتاً سازگار ہے اور انتظامی سطح پر بھی تیاری کا زیادہ وقت ملا ہے۔
ان کھیلوں کی افتتاحی تقریب پشاور سپورٹس کمپلیکس میں منعقد کی جائے گی، جہاں وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کی شرکت متوقع ہے۔ اس تقریب میں کم و بیش پانچ ہزار کھلاڑیوں اور شہریوں کی شرکت کا امکان ہے۔ حکام کے مطابق وزیراعلیٰ کی موجودگی نہ صرف نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرے گی بلکہ صوبے میں کھیلوں کو دی جانے والی اہمیت کا عملی اظہار بھی ہوگی۔
لافتتاحی تقریب کا ایک اور اہم پہلو پشاور سپورٹس کمپلیکس میں زیر التواء ٹارٹن ٹریک کا افتتاح ہے۔ یہ ٹریک تقریباً چار سال سے تاخیر کا شکار تھا اور اب کم و بیش ایک ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے۔ کنٹریکٹر کا کہنا ہے کہ یہ ٹریک بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے اور کم از کم بیس سال تک قابلِ استعمال رہے گا، جس کی وہ خود گارنٹی دے رہے ہیں۔ ایتھلیٹس اور کوچز کیلئے یہ ایک بڑی پیش رفت ہے، کیونکہ طویل عرصے سے جدید سہولیات کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔
چار روزہ ان مقابلوں میں مرد اور خواتین دونوں کے ایونٹس شامل ہوں گے، اور یہ مقابلے ریجنل سطح پر منعقد کیے جارہے ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ صوبے کے ہر ریجن سے ٹیلنٹ کو سامنے لایا جائے اور صرف چند بڑے شہروں تک کھیلوں کو محدود نہ رکھا جائے۔
سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے ڈائریکٹر آپریشنز جمشید بلوچ کے مطابق کھلاڑیوں کا انتخاب ریجنل سپورٹس آفیسرز نے متعلقہ اسپورٹس ایسوسی ایشنز کے تعاون سے کیا ہے۔ سلیکشن کمیٹیوں میں آر ایس او اور ایسوسی ایشنز کے نمائندے شامل تھے اور پہلے ہی واضح ہدایات دی گئی تھیں کہ ٹیمیں صرف میرٹ پر تشکیل دی جائیں۔ ان کے مطابق تمام ریجنز سے مختلف کھیلوں کی مرد و خواتین ٹیمیں ان مقابلوں میں حصہ لے رہی ہیں۔
اس سال ایک اہم اور مثبت قدم یہ اٹھایا گیا ہے کہ ایک ہی کھیل میں کوئی بھی کھلاڑی ڈبل انٹری نہیں لے سکے گا۔ یعنی ایک کھلاڑی ایک ہی ایونٹ میں شرکت کرے گا۔ جمشید بلوچ کے مطابق اس فیصلے کا مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے اور چند مخصوص ناموں کی اجارہ داری ختم ہو۔ اس سلسلے میں تمام ریجنز کو واضح ہدایات جاری کی جاچکی ہیں۔
یہ مقابلے انڈر 21 سطح کے ہیں، تاہم عمر کی حد میں لچک رکھی گئی ہے۔ اصل توجہ کارکردگی اور صلاحیت پر ہے، تاکہ ایسے بہترین کھلاڑی سامنے آئیں جو آگے چل کر قومی سطح پر خیبرپختونخواہ کی نمائندگی کرسکیں۔ حکام کے مطابق کسی بھی ڈیپارٹمنٹ کے کھلاڑی کو ان مقابلوں میں شامل نہیں کیا جارہا، تاکہ نئے اور ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کو آگے آنے کا موقع ملے۔
انعامات کے حوالے سے بھی ایک متوازن پالیسی اپنائی گئی ہے۔ نیشنل گیمز میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے کھلاڑی اگر یہاں بھی پوزیشن حاصل کرتے ہیں تو انہیں اضافی انعام نہیں دیا جائے گا، بلکہ وہی ایک انعام دیا جائے گا جو صوبائی حکومت پہلے ہی اعلان کرچکی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد شفافیت اور وسائل کے درست استعمال کو یقینی بنانا ہے۔
کھلاڑیوں کی رہائش اور دیگر سہولیات کیلئے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ خواتین کے مقابلے چارسدہ میں ہوں گے، جہاں ان کی رہائش کے مناسب انتظامات کیے گئے ہیں۔ مردان میں ہونے والے مقابلوں کیلئے مرد کھلاڑیوں کو ہاسٹلز میں رکھا جائے گا، جسے حکام مقامی ثقافت کے عین مطابق قرار دیتے ہیں۔ خواتین کے انتظامات کی نگرانی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سپورٹس رشیدہ غزنوی کررہی ہیں۔
انٹر بورڈ میں ہونیوالے مقابلوں میں حصہ لینے والی خواتین کھلاڑیوں کو انٹر بورڈ پشاور میں رہائش دی جائے گی، جبکہ مرد کھلاڑیوں کو شہر کے مختلف ہوٹلوں میں ٹھہرایا جائے گا۔ کھلاڑیوں کو لانے لے جانے کیلئے کرایہ بھی ادا کیا جائے گا، چاہے وہ بی آر ٹی استعمال کریں یا دیگر مقامی ذرائع۔ حکام کا کہنا ہے کہ سہولت، تحفظ اور عزتِ نفس کو اولین ترجیح دی جارہی ہے۔
ان خیبرپختونخواہ گیمز کی سب سے نمایاں اور قابلِ تعریف خصوصیت معذور افراد کی شمولیت ہے۔ پہلی مرتبہ صوبائی سطح پر سپیشل افراد کو باقاعدہ مقابلوں کا حصہ بنایا جارہا ہے۔ ان میں سے کچھ مقابلے پشاور اور کچھ کوہاٹ میں منعقد ہوں گے۔ اب تک تقریباً ساڑھے چار سو معذور کھلاڑی رجسٹریشن کراچکے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اس اقدام کو سنجیدگی سے لیا جارہا ہے۔
یہ مقابلے ان تنظیموں کے تعاون سے منعقد کیے جارہے ہیں جو معذور افراد کیلئے کام کررہی ہیں، تاکہ ہر کھلاڑی تک رسائی ممکن ہو۔ وہیل چیئر کرکٹ کے مقابلے کوہاٹ میں ہوں گے، جبکہ سٹینڈنگ کرکٹ کے مقابلے پشاور میں کرائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ پستہ قد کھلاڑیوں کے مقابلے بھی شامل کیے گئے ہیں، جن کیلئے پشاور سپورٹس کمپلیکس کے ہاسٹل میں رہائش کا بندوبست کیا گیا ہے۔
سپیشل افراد کیلئے ٹرانسپورٹ کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں اور انہیں بھی دیگر کھلاڑیوں کی طرح برابری کی بنیاد پر الا?نس دیا جائے گا۔ یہ اقدام نہ صرف کھیلوں میں شمولیت کا عملی مظاہرہ ہے بلکہ معاشرتی سطح پر ایک مثبت پیغام بھی دیتا ہے کہ صلاحیت کو کسی جسمانی کمزوری سے نہیں ناپا جاسکتا۔
مجموعی طور پر خیبرپختونخواہ گیمز کا یہ ایڈیشن محض ایک اسپورٹس ایونٹ نہیں بلکہ ایک سمت کا تعین کرتا نظر آتا ہے۔ میرٹ پر سلیکشن، جدید سہولیات، شفاف انعامی پالیسی، خواتین اور معذور کھلاڑیوں کی شمولیت اور نوجوانوں پر فوکس، یہ سب وہ عناصر ہیں جو اگر برقرار رہے تو صوبائی کھیلوں کا مستقبل مضبوط ہوسکتا ہے۔
نوجوان کھلاڑیوں کیلئے یہ ایک سنہری موقع ہے، والدین اور کوچز کیلئے ایک حوصلہ افزا اشارہ، اور صوبے کیلئے یہ پیغام کہ کھیل صرف تفریح نہیں بلکہ کردار سازی، صحت اور مثبت شناخت کا ذریعہ بھی ہیں۔ پشاور ایک بار پھر کھیلوں کا مرکز بننے جارہا ہے، اور امید یہی ہے کہ یہ گیمز نہ صرف کامیاب ہوں گے بلکہ آنے والے برسوں کیلئے ایک معیار بھی قائم کریں گے۔
#KhyberPakhtunkhwaGames #SportsForAll #YouthSportsKP #InclusiveSports #PeshawarSports #Under21Athletes #SportsDevelopment #KPYouth #AccessibleSports #FutureChampions #kikxnow #digitalcreator #musarratullahjan #khelrahahaykp #under21sports #under21kp2026
|