پاکستان کی کھیلوں کی فیڈریشنز میں چیئرمین کا عہدہ: قانونی خلا اور شفافیت کی خاموشی

پاکستان کے کھیلوں کا شعبہ گزشتہ کئی سالوں سے ایک ایسے انتظامی تضاد کا شکار ہے جو شاید عام شہری یا کھلاڑیوں کی توجہ سے باہر ہے، لیکن اس کے اثرات براہِ راست کھیلوں کی شفافیت، فیصلہ سازی اور بین الاقوامی معیار پر پڑتے ہیں۔ یہ تضاد بنیادی طور پر نیشنل اسپورٹس فیڈریشنز (NSF) اور ایسوسی ایشنز کے آئین میں موجود چیئرمین کے عہدے کے اطلاق اور قانونی حیثیت سے متعلق ہے۔

فی الحال پاکستان میں 41 سے زائد قومی فیڈریشنز اور ایسوسی ایشنز PSB (Pakistan Sports Board) کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔ یہ تمام ادارے اپنے آئین PSB کو جمع کروا چکے ہیں، مگر یہاں ایک حیران کن حقیقت سامنے آتی ہے: کچھ فیڈریشنز میں چیئرمین کو سب سے بڑا عہدہ بنایا گیا ہے، جبکہ کچھ میں صدر (President) کو اعلیٰ عہدہ قرار دیا گیا ہے، اور چند میں پیٹرن چیف یا دیگر متبادل عہدے ریکارڈ ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ فیڈریشنز نے اپنے آئین میں اپنی مرضی کے مطابق عہدوں کو ترتیب دیا، لیکن PSB نے اب تک اس تنازع پر کوئی واضح موقف یا عملی کارروائی نہیں کی۔
اگر ہم چند نمایاں فیڈریشنز پر نظر ڈالیں تو یہ تضاد واضح طور پر نظر آتا ہے اتھلیٹکس فیڈریشن آف پاکستان میں صدر سب سے بڑا عہدہ ہے، اور چیئرمین کا کوئی عہدہ نہیں۔ آرچری فیڈریشن، بیڈمنٹن ایسوسی ایشن، باسکٹ بال فیڈریشن اور سائیکلنگ فیڈریشن میں بھی صدر اعلیٰ عہدہ ہے۔ دوسری طرف، تائیکوانڈو ایسوسی ایشن، بیس بال ایسوسی ایشن، پاکستان برج ایسوسی ایشن اور الپائن کلب آف پاکستان میں چیئرمین سب سے بڑا عہدہ ہے۔ کچھ فیڈریشنز نے پیٹرن چیف کے نام سے ایک خصوصی عہدہ بنایا ہے، جس کا قانونی یا انتظامی دائرہ واضح نہیں۔ سنوکر، باکسنگ اور باڈی بلڈنگ میں صدر سب سے بڑا عہدہ ہے اور چیئرمین کا کوئی عہدہ نہیں۔

یہ تضاد نہ صرف کھیلوں کے انتظام میں الجھن پیدا کرتا ہے بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ PSB اس مسئلے پر خاموش کیوں ہے، جبکہ اس کی اپنی قواعد و ضوابط میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ NSF میں سب سے بڑا عہدہ صدر ہونا چاہیے۔ پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ٹرم رولز 2025 اور PSB Constitution 2022 واضح کرتے ہیں کہ NSF میں سب سے اہم اور تسلیم شدہ عہدہ صدر (President) ہوگا۔ چیئرمین، CEO یا پیٹرن چیف کے عہدے سرکاری طور پر تسلیم شدہ نہیں ہیں۔

اس کے باوجود، متعدد فیڈریشنز نے اپنے آئین میں چیئرمین یا متبادل اعلیٰ عہدے رکھے ہیں، جس سے PSB کے قواعد کی خلاف ورزی ظاہر ہوتی ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ فیڈریشنز انتظامی آزادی کے نام پر اپنی مرضی سے آئین بنا رہی ہیں، لیکن اس عمل سے کھیلوں میں انتظامی شفافیت اور بین الاقوامی معیار متاثر ہو رہا ہے۔

یہ تضاد مختلف مسائل اور خطرات کی بنیاد فراہم کرتا ہے اگر کسی فیڈریشن میں چیئرمین کو سب سے بڑا عہدہ دیا جائے اور صدر کو ماتحت رکھا جائے، تو فیصلہ سازی میں الجھن پیدا ہوتی ہے۔ انتخابات، مالی فنڈز کی تقسیم اور اعلیٰ سطح کے فیصلوں میں واضح خطوط نہ ہونے سے غیر ضروری تنازعات جنم لیتے ہیں۔ غیر تسلیم شدہ عہدوں پر فنڈز کی تقسیم یا استعمال میں غیر قانونی اقدامات کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف کھلاڑی متاثر ہوتے ہیں بلکہ عوامی اعتماد بھی متزلزل ہوتا ہے۔

بین الاقوامی معیار کے خلاف عمل: عالمی سطح پر کھیلوں کی گورننس کے اصول واضح ہیں۔ ہر فیڈریشن کو شفاف اور یکساں حکمرانی فریم ورک کے تحت کام کرنا ہوتا ہے۔ چیئرمین جیسے غیر تسلیم شدہ عہدوں کا موجود ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کی فیڈریشنز بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتیں۔PSB کی خاموشی: اب تک PSB نے اس مسئلے پر واضح اور یکساں حکمت عملی اختیار نہیں کی۔ یہ خاموشی فیڈریشنز میں یہ تاثر پیدا کرتی ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق عہدے رکھ سکتی ہیں، جس سے گورننس کے معیار پر اثر پڑتا ہے۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کچھ فوری اقدامات ضروری ہیں PSB کو تمام NSF کے آئین کا فوری جائزہ لینا چاہیے اور غیر تسلیم شدہ عہدوں کو ختم کرنے کی ہدایت دینی چاہیے۔ چیئرمین، پیٹرن چیف اور CEO جیسے غیر تسلیم شدہ عہدے ختم کر کے صدر کو سب سے بڑا اور مرکزی عہدہ قرار دینا ضروری ہے۔ انتخابات اور فنڈز کی تقسیم کے لیے واضح اور یکساں گورننس فریم ورک بنایا جائے تاکہ ہر فیڈریشن شفاف اور قانونی طریقے سے کام کرے۔ آئندہ شفافیت اور بین الاقوامی معیار کے لیے تمام NSF آئین PSB کے ماڈل آئین کے مطابق ہونی چاہیے۔

پاکستان کے کھیلوں میں چیئرمین یا دیگر غیر تسلیم شدہ عہدوں کا رجحان انتظامی عدم توازن، شفافیت کے مسائل اور قانونی خلا کو اجاگر کرتا ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی، تو نہ صرف فیصلہ سازی میں الجھن پیدا ہوگی بلکہ کھلاڑیوں، کوچز اور عوام کا اعتماد بھی متاثر ہوگا۔ PSB کی خاموشی اور فیڈریشنز کے اپنے آئین کے مطابق عہدوں کی مرضی کھیلوں کی ترقی اور بین الاقوامی معیار کی پیروی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

پاکستان میں کھیلوں کی شفافیت اور معیاری انتظام کے لیے یہ ضروری ہے کہ PSB اور متعلقہ فیڈریشنز فوری طور پر اس مسئلے کا حل نکالیں، تاکہ ہر کھلاڑی اور شائق کھیل صاف اور قانونی ماحول میں ترقی کر سکے۔

#PakistanSports #NSFConstitution #TransparencyMatters #SportsGovernance #CriticalReport #PresidentVsChairman #LegalGap #SportsAdministration

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 913 Articles with 726814 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More