نام محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی برکات

(Salman Usmani, )

حضرت جبیر بن مطعمؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲﷺسے سنا، آپﷺ فرمارہے تھے: ’’میرے (بہت سے) نام ہیں۔ میں محمدؐ ہوں۔ میں احمدؐ ہوں۔ میں ماحی(مٹانے والا) ہوں کہ اﷲ تعالیٰ میرے ذریعے سے کفر کو مٹائے گا۔ میں حاشر (جمع کرنے والا) ہوں کہ سب لوگ (روز قیامت) میرے قدموں پر اٹھائے جائیں گے۔ میں عاقب (پیچھے آنے والا) ہوں کہ جس کے بعد کوئی اور نبی نہیں آئے گا‘‘ (بخاری، مسلم)رسول اﷲﷺ کے اسمائے گرامی میں سے ہر ایک اسم کے اندر معانی ومفاہیم کا ایک جہان آباد ہے۔ صرف نام نامی اسم گرامی ’’محمد‘‘ ﷺکا ایک اعجاز ملاحظہ فرمائیں:’’محمدﷺ‘‘ کا معنی ہے جس ذات کی بے حد تعریف کی گئی ہو۔ مشرکین مکہ جو آپ ﷺ کے خون کے پیاسے بنے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ کو جب پکارتے تو انہیں مجبوراً ’’محمدﷺ ‘‘ کہنا پڑتا ۔ ایک مرتبہ انہوں نے مشورہ کیا کہ یہ تو بڑی عجیب بات ہے کہ ہم تو اپنے بتوں کے دشمن کو برا بھلاکہنا چاہتے ہیں لیکن جب بلاتے ہیں تو خود بخود ان کی تعریف ہوجاتی ہے۔ کچھ بدبختوں کے مشورے سے طے پایا کہ آئندہ ہم محمدؐ کے بجائے (نعوذباﷲ) ’’مذمم‘‘ (جس کی مذمت کی گئی ہو) کہا کریں گے۔ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے یہ سنا تو ان کو بہت صدمہ پہنچا۔ مکہ میں مشکلات اور آزمائشوں کا دور تھا۔ صحابہ رحمتِ عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوری بات بتائی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ کیا تم حیران نہیں ہوتے کہ اﷲ تعالیٰ نے مجھے قریش کے سبّ وشتم سے کیسے محفوظ رکھا ہے؟ وہ لوگ تو مذمم کو برا بھلا کہتے ہیں جب کہ میرا نام تو محمدؐ ہے۔‘‘(بخاری)

اس نام مبارک کا کمال دیکھیں کہ کائنات میں جس ہستی کی خدا تعالیٰ کے بعد سب سے زیادہ تعریف ومنقبت بیان کی گئی، وہ آپ ﷺ ہی کی ذات ہے۔قرآن مجید میں آپ ﷺ کی تعریف وتحسین ہے جو ڈیڑھ ہزار برس سے مسلسل پڑھا جارہا ہے اور قیامت تک اس کی تلاوت ہوتی رہے گی۔ہر دور میں ہر طرح کے انسانوں نے ہر طرح آپ ؐکی تعریف کی۔ نثر ہو یا نظم، زبان ہو یا قلم، ہر زمانے کے خوش بخت لوگ آپﷺ کی مدح وستائش میں مصروف رہے۔آج بھی جزائر شرق الہند سے لے کر بر اعظم امریکہ تک اس تسلسل سے اذان میں آپ ﷺ کی رسالتؐ کا اقرار واعلان ہوتا ہے کہ چوبیس گھنٹے کا کوئی لمحہ ایسا نہیں جاتا جس میں مشرق ومغرب شمال وجنوب کہیں نہ کہیں آپﷺ کی عظمت کا ترانہ، نہ گونج رہا ہو۔علامہ شرف الدین بوصیریؒ صاحب ’’قصیدہ بردہ‘‘ کیا خوب فرماتے ہیں:منزہ عن شریک فی محاسنہٖ،فجو ہر الحسن فیہ غیرمنقسم فان رسول اﷲ لیس لہٗ حدٌّ فیعرب عنہ ناطق بفم فمبلغ العلم فیہ انہ بشرٌ وانہ خیر خلق اﷲ کلہم:آپ ﷺ اپنی خوبیوں اور کمالات میں یکتا ہیں اور ان میں آپ ﷺ کا کوئی شریک نہیں۔ آپﷺکا حسن وکمال صرف آپﷺہی میں ہے جسے تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ اﷲ کے رسول ﷺ کی تعریف کی کوئی حد نہیں کہ کوئی انسان اپنے منہ سے اس کا مکمل اظہار کرسکے۔آپ ﷺ کے بارے میں ہم یہی جانتے ہیں کہ آپ ﷺ بشر ہیں اور اﷲ کی مخلوق میں سب سے بہتر اور افضل)حلقہ بگوشان اسلام کیلئے تو آپ ﷺ کی تعریف ہمیشہ ہی باعث سکون وقرار رہی ہے‘ لیکن نام ’’محمد‘‘ ﷺ نے اپنا اعجاز غیروں سے بھی ایسا منوایا کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔ابوطالب کہتے ہیں:دعوتنی وزعمت انک ناصحی ولقد صدقت وکنت ثم امیناوعرضت دیناً لا محالۃ انہ من خیر ادیان البریۃ دیناً:(تم نے مجھے اسلام کی طرف بلایا ہے اور تم سمجھتے ہو کہ تم میرے خیر خواہ ہو، بے شک تم نے سچ کہا اور تم تو امین بھی ہو۔ تم نے ایک ایسا دین پیش کیا ہے جو بلاشک وشبہ ساری کائنات کے مذاہب سے بہتر اور افضل ہے)پھر ایک اور زاویہ نگاہ سے دیکھیں کہ محمدﷺ کا معنی ہے ’’جس ذات کی سب سے زیادہ تعریف کی گئی ہو‘‘ جب آپ ﷺ قابل تعریف ہیں تو آپﷺ کی ہر حرکت واداء، آپ ﷺ کا قول وعمل، آپ ﷺکی شکل وشباہت، آپ ﷺ کا لباس اور سامان زینت، آپﷺ کی معیشت، ومعاشرت، آپ ﷺ کی صلح وجنگ اور آپ ﷺکی طرف صحیح طور پر منسوب ہر بات قابل تعریف ٹھہرے گی۔ظاہر سی بات ہے کہ جو ذات قابل تعریف ہوگی اس کا ہر وصف باعث حسن وجمال اور وجہ خیر وکمال ہوگا۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ ؐکی ذات تو حمد وستائش کی مستحق ہو اور آپﷺکی سنتوں اور طریقوں پر حرف اعتراض اٹھایا جاسکے۔اسی لیے جب بھی کسی سنت مبارکہ کے بارے میں سوال ہوگا کہ یہ کیوں اور کیسے ہے؟ تو اس کا ایک ہی پہلا اور آخری جواب ہوگا کہ یہ سرکار دوعالم ﷺ کا طریقہ ہے اور بس! اس کے علاوہ ہر مصلحت وحکمت محض عارضی اور ناقص قرار پائے گی۔ گویا آپ ؐکی ذات ہر خوبی کا مبداء اور منبع ہے تو آپﷺکی سنت مطہرہ ہر کمال کی انتہاء اور معراج ہے۔بہت سے والدین کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ جب ہم اپنے بیٹے کا نام’’محمد ‘ ؐ‘ رکھیں گے اور پھر کسی موقع پر ڈانٹ ڈپٹ سے کام لینا پڑے تو ہم اس نام کو لے کر کیسے برا بھلا کہہ سکتے ہیں؟ بلاشبہ یہ شبہ بھی اہل ایمان کی سرکار دو عالم ﷺسے محبت کی نشانی ہے لیکنیاد رکھنا چاہیے کہ محمدؐ نام رکھنے کی اجازت خود پیارے آقا ﷺ سے صحیح احادیث میں ثابت ہے۔ صحیح بخاری میں کئی مرتبہ یہ حدیث پاک آتی ہے:سموا باسمی ولا تکنوا
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salman Usmani

Read More Articles by Salman Usmani: 82 Articles with 34793 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Oct, 2020 Views: 311

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ