پائلٹ فری ٹریڈ زون ، اقتصادی ترقی کی مضبوط اساس

(Shahid Afraz Khan, Beijing, China)
چین کی اقتصادی پالیسی سازی میں آزاد تجارتی زونز کو نمایاں اہمیت دی گئی ہے جس سےبے شمار معاشی ثمرات حاصل ہوئے ہیں۔شنگھائی فری ٹریڈ زون ملک کا اولین تجارتی زون کہلاتا ہے جو پودونگ میں 2013میں قائم کیا گیا۔اس کا رقبہ 120مربع کلو میٹر سے زائدہے جبکہ شنگھائی کی درآمدات و برآمدات میں اس تجارتی زون کی ایک کلیدی اہمیت ہے۔تجارتی زون کے قیام کے بعد جہاں بیرونی سرمایہ کاروں کی دلچسپی دیکھنے میں آئی وہاں گزشتہ سات برسوں کے دوران ہزاروں نئی کمپنیوں کا اندراج بھی کیا گیا ہے۔تجارتی زون میں سازگار کاروباری ماحول کے لیے مالیاتی جدت ، باسہولت تجارت اور افرادی وسائل کے شعبے کی ترقی کو تیزی سے آگے بڑھایا گیا۔

عالمی سطح پر دنیا تسلیم کرتی ہے کہ چین نے گزشتہ چالیس برسوں میں جس تیز رفتاری سے ترقی کی ہے دیگر کوئی ایسی مثال ہمارے سامنے موجود نہیں ہے۔چین کی اقتصادی ترقی کے نمایاں پہلووں کا اگر مختصراً جائزہ لیا جائے تو ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار کاروباری ماحول کی فراہمی ، صنعتکار دوست پالیسیوں کا تسلسل ، ٹیکس و کاروباری لاگت میں کمی ، مسلسل معاشی اصلاحات اور تجارتی زونز کے قیام سے کاروباری اداروں کو سہولیات فراہم کرنا نمایاں عوامل ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی اس وقت پہلی ترجیح چین کی بڑی منڈی سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے کاروبار کووسعت دینا ہے۔اس کی ایک عمدہ مثال چین کے شہر شنگھائی کا انتہائی مصروف کاروباری مرکز "پودونگ" ہے جسے حالیہ عرصے میں بیرونی سرمایہ کاری کے ایک پرکشش ترین مقام کا درجہ حاصل ہو چکا ہے۔یہاں عالمی شہرت یافتہ امریکی کار ساز ادارے "ٹیسلا" سمیت "ڈزنی لینڈ" اور "کاسٹکو" جیسے بے شمار کاروباری ادارے سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

چین کی اقتصادی پالیسی سازی میں آزاد تجارتی زونز کو نمایاں اہمیت دی گئی ہے جس سےبے شمار معاشی ثمرات حاصل ہوئے ہیں۔شنگھائی فری ٹریڈ زون ملک کا اولین تجارتی زون کہلاتا ہے جو پودونگ میں 2013میں قائم کیا گیا۔اس کا رقبہ 120مربع کلو میٹر سے زائدہے جبکہ شنگھائی کی درآمدات و برآمدات میں اس تجارتی زون کی ایک کلیدی اہمیت ہے۔تجارتی زون کے قیام کے بعد جہاں بیرونی سرمایہ کاروں کی دلچسپی دیکھنے میں آئی وہاں گزشتہ سات برسوں کے دوران ہزاروں نئی کمپنیوں کا اندراج بھی کیا گیا ہے۔تجارتی زون میں سازگار کاروباری ماحول کے لیے مالیاتی جدت ، باسہولت تجارت اور افرادی وسائل کے شعبے کی ترقی کو تیزی سے آگے بڑھایا گیا۔چین میں معاشی اصلاحات کے سلسلے کو آگے بڑھانے میں بھی شنگھائی فری ٹریڈ زون کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ کاروبار کے حوالے سے چاہے "منفی فہرست" سے وابستہ اصلاحات ہوں یا پھر صنعتکاروں کے لیے پرکشش مراعات ، ان سب کی آزمائش شنگھائی تجارتی زون میں کی گئی ہے ۔منفی فہرست کے حوالے سے یہاں متعارف کروائی جانے والی اصلاحات کے نتیجے میں مالیات ،ٹرانسپورٹیشن ،توانائی ،وسائل ،زراعت اور ثقافت جیسے شعبہ جات کو مزید تقویت ملی۔بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے اُن کے داخلے کو مزید آسان بنایا گیا ، جبکہ اعلیٰ ہنرمند پیشہ ور افراد کی خدمات حاصل کرنے کے لیے موئثر پالیسیاں اپنائی گئیں۔ شنگھائی تجارتی زون میں بیرونی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے غیر ملکی سرمائے سے چلنے والے بنکوں ، سیکیورٹیز فرمز ،فنڈ مینجمنٹ کمپنیوں اور فیوچر کارپوریشنز کے کاروبار کو وسعت دی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہاں مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوں نے اپنے اپنے علاقائی صدر دفاتر قائم کرنا شروع کر دیے۔ اسی طرح غیر ملکی سفارتخانوں ،قونصل خانوں اور عالمی مالیاتی تنظیموں کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دیا گیا تاکہ دنیا بھر سے سرمایہ کار یہاں کا رخ کریں۔ شنگھائی تجارتی زون نے مختلف ممالک سے ہنرمند افرادی قوت کو اپنی جانب متوجہ کیا جو یہاں کے بہترین معیار زندگی اور اعلیٰ معیاری پیشہ ورانہ ماحول سے بے حد متاثر ہوئے۔غیر ملکی افراد اور اُن کے اہل خانہ کو عالمی معیار کی تعلیمی ،طبی اور رہائشی سہولیات فراہم کی گئیں جس سے شنگھائی میں متنوع ثقافتی رنگوں کو بھی فروغ ملا۔ پودونگ میں شنگھائی نیو یارک یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جس سے اس وقت 80ممالک اور علاقوں سے تقریباً دو ہزار طلباء اور اساتذہ وابستہ ہیں۔

چین کی جانب سے شنگھائی فری ٹریڈ زون سمیت اصلاحات اور کھلے پن کو فروغ دینے کی موئثر پالیسیاں اپنانے سے "پودونگ" نے نمایاں ترقی کی ہے ، گزشتہ تیس برسوں سے جاری ترقیاتی سفر کے باعث یہ علاقہ چین اور دیگر دنیا کے درمیان اقتصادی روابط کا ایک مضبوط پل بن چکا ہے۔اس علاقے کی جی ڈی پی گزشتہ تیس برسوں کے دوران 210گنا اضافے سے سن انیس سو نوے کے 06ارب یوان کے مقابلے میں گزشتہ برس 1.27ٹریلین یوان تک پہنچ چکی ہے۔اس اقتصادی مرکز کا مالیاتی منافع 431.6ارب یوان تک پہنچ چکا ہے ، بیرونی سرمایے کے بہاو کی مالیت 8.77ارب ڈالرز ہو چکی ہے۔یہ بات قابل زکر ہے کہ شنگھائی کے اس مالیاتی مرکز"پودونگ" میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے 332علاقائی صدر دفاتر قائم ہو چکے ہیں جبکہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سے وابستہ مراکز کی تعداد بھی 240ہے۔

پودونگ کی ایک اور وجہ شہرت یہاں کی بلند و بالا عمارتیں بھی ہیں۔یہاں موجود شنگھائی ٹاور کی اونچائی 632میٹر ہے جو اسے چین میں بلند ترین عمارت کا درجہ دیتی ہے جبکہ دنیا میں برج خلیفہ کے بعد یہ دوسری بلند ترین عمارت ہے۔شنگھائی ٹاور آنے والے سیاحوں کی سالانہ تعداد بھی دس لاکھ سے زائد ہے۔اسی طرح عالمی شہرت یافتہ شنگھائی بندرگارہ بھی یہاں واقع ہے جو کینٹینر بزنس کے حوالے سے مسلسل دس برسوں سے دنیا میں سرفہرست ہے۔ پودونگ کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی کارگو کے حوالے سےمصروف ترین ہوائی اڈوں میں شمار کیا جاتا ہے ،گزشتہ برس یہاں 3.63ملین ٹن کارگو کی ترسیل کی گئی جو اسے کارگو کے حوالے سے دنیا کا اہم ترین مرکز بناتا ہے۔

شنگھائی میں حاصل شدہ کامیابیوں کی روشنی میں چین کی کوشش ہے کہ مستقبل میں تجارت کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیا جائے ، اس ضمن میں ڈیجیٹل ٹریڈ ، بگ ڈیٹا ایکسچینج سمیت دیگر تمام ذرائع کے موئثر استعمال سے دنیا بھر سے سرمایہ کاروں کو راغب کرتے ہوئے اشتراکی اور مشترکہ مفاد پر مبنی ترقی کو آگے بڑھایا جائے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahid Afraz Khan

Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 112 Articles with 24510 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Nov, 2020 Views: 193

Comments

آپ کی رائے