کرونا وائرس نے کیا شادیوں کو محدود، لاکھوں روپے والے عروسی ملبوسات بنانے والے کاریگر اس وقت کس حال میں زندگی گزارنے پر مجبور

image
 
شادی کی تاریخ طے ہونے کے بعد جو کام سب سے پہلے کیا جاتا ہے وہ دلہن کے عروسی لباس کا آرڈر دیا جاتا ہے- اس کے لیے گھر کی خواتین بڑے بڑے بوتیک کے چکر کاٹتی ہیں جو ان کو مختلف ڈیزائن کے مہنگے ملبوسات ٹھنڈی دکانوں میں بٹھا کر دکھاتے ہیں مہنگے مشروبات سے ان خواتین کی میزبانی کی جاتی ہے اور اس کے بعد انتہائی احترام کے ساتھ لاکھوں روپے کے آرڈر یہ ڈیزائنر لیتے ہیں -
 
موسم کی مناسبت سے جوڑے کا رنگ اور اس کے اوپر مہنگا زری کا کام اور اس کی ڈیزائنگ طے کی جاتی ہے نگ اور موتیوں کی سجاوٹ کے سبب ان جوڑوں کی قیمت مزید بڑھ جاتی ہے- منفرد نظر آنے کے شوق میں اس جوڑے میں ایسے ایسے اضافے کروائے جاتے ہیں جو اس جوڑے کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتے ہیں ہر نگ اور موتی کا اضافہ اس جوڑے کی قیمت کو اور بھی بڑھا دیتا ہے-
 
اور بلاآخر لاکھوں روپے کا آرڈر وصول کر لیا جاتا ہے جس میں ایڈوانس کے نام پر خطیر رقم لی جاتی ہے اور چھ مہینے بعد کا اور بعض اوقات سال بعد کا ٹائم دے دیا جاتا ہے جب کہ اس جوڑے کو تیار کرنا ہوتا ہے اور اس طرح صرف چند گھنٹوں کے لیے پہنے جانے والے جوڑے کی تیاری کا عمل شروع ہو جاتا ہے-
 
عروسی جوڑے کی تیاری کا پہلا مرحلہ
ڈیزائنر سب سے پہلے مقررہ کپڑے کی خریداری کرتا ہے اور اس کو طے شدہ رنگ میں رنگواتا ہے اس کے لیے جوڑے کے ساتھ اس کا دوپٹہ بھی رنگوایا جاتا ہے عام طور پر شیفون ، آرکنڈی یا ٹشو کا استعمال ایسے جوڑوں کے لیے کیا جاتا ہے- بعض اوقات سردی کی مناسبت سے ویلوٹ کا کپڑا بھی لیا جا سکتا ہے اس کے بعد کپڑے کی مناسبت سے دوپٹے کو رنگوایا جاتا ہے-
 
image
 
عروسی جوڑے کی تیاری کا دوسرا مرحلہ
عروسی جوڑا عام طور پر یا تو شرارے یا غرارے کی صورت مین ہوتا ہے یا پھر آج کل لانگ میکسی کے انداز کے سوٹ یا پھر لمبے گاؤن کی صورت میں بھی ہوتے ہیں جن کے اوپر زری کا بھاری کام کروایا جاتا ہے- اس لیے مقررہ ڈیزائن کے مطابق اس کے اوپر بھاری کام کا چھاپا کروایا جاتا ہے ڈیزائنر مختلف چھاپوں کے ڈيزائن کا مختلف انداز میں استعمال کر کے جوڑے کو ایک نیا رنگ دیتا ہے -
 
عروسی جوڑے کا سب سے اہم مرحلہ ذری کا کام
یہ مرحلہ سب سے اہم ہوتا ہے کراچی میں اس مرحلے کے کاریگر عام طور پر کورنگی یا پھر بنارس کی کچی آبادیوں میں رہائش پزیر ہوتے ہیں- ہر ڈیزائنر کے ذری کے کام کے لیے اپنے مقرر کاریگر ہوتے ہیں جن کو وہ لاکھوں روپے کے اس جوڑے کے بدلے میں صرف اور صرف چند ہزار دیتے ہیں-
 
کورنگی کے کچھ کاریگروں کے مطابق ان کو صرف چھ سو روپے دیہاڑی دی جاتی ہے اور ان کو آٹھ سے دس دن میں اپنا کام مکمل کرنا ہوتا ہے- اس کے بدلے میں ان کو ایک جوڑے کے تقریبا پانچ سے چھ ہزار ملتے ہیں-
 
image
 
کرونا وائرس کے سبب ذری کے کاریگروں کے مسائل
چودہ مارچ سے ہونے والے کرونا وائرس کے سبب لاک ڈاون کی وجہ سے ملک بھر کے ذری کے کاریگر شدید مسائل کا سامنا کر رہے ہیں اور بہت سارے کاریگر مجبوراً اس کام کو چھوڑ کر محنت مزدوری کرنے اور ٹھیلے لگانے پر مجبور ہو گئے ہیں- ان کے مطابق شادی کی بڑی تقریبات پر پابندی کے سبب لوگوں نے مہنگے ملبوسات کا آرڈر دینا بند کر دیا ہے جس کے سبب وہ لوگ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے ہیں-لاکھوں روپے کے ان جوڑوں کا معاوضہ ایک جانب تو ان کو انتہائی قلیل مل رہا ہے اور دوسری جانب کام نہ ملنے کے سبب دیہاڑی دار طبقہ بے روز گار ہو گیا ہے اور اس کام کو چھوڑ کر دوسرے کاموں پر مجبور ہو گئے ہیں-
 
حالیہ دنوں میں کرونا وائرس کی دوسری لہر کی وجہ سے یہ کاریگر ایک بار پھر سے خوفزدہ ہیں اور ان کو اندیشہ ہے کہ ایک بار پھر اگر شادی بیاہ کی تقریبات پر پابندی لگ گئی تو وہ بھوکے مرنے پر مجبور ہو جائيں گے یا پھر ہمیشہ کے لیے اس کام کو خیر آباد کہہ دیں گے-
YOU MAY ALSO LIKE: