کانگڑی ،فیرن اور سماوار کا حسین امتزاج

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

سرینگر سے سبزار احمد بٹ نے ایک مراسلہ میں کانگڑی اور فیرن کے بارے میں ایک خوبصورت اور معلوماتی تحریر قارئین کے ذوق مطالعہ کے لئے پیشکرنے کی طرف متوجہ کیا۔بعض احباب صفحہ قرطاس پر اپنے الفاظ کے جیسے موتی بکھیر دیتے ہیں۔آج کی سیاست گری اور افراتفری نے تہذیب و ثقافت اور سماجی موضوعات کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔ بلاشبہ موسم کی تبدیلی ایک قدرتی عمل ہے اور اس عمل سے پوری دنیا واقف ہے۔ پوری دنیا میں موسم تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ہر موسم کی اپنی اہمیت اور افادیت ہے۔ بہار، گرما، خزاں، سرما،کسی بھی موسم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ سرما کا موسم اگر چہ ہر جگہ سردی کی سوغات لے کر آتا ہے تاہم کشمیر میں سرما کی الگ ہی اہمیت اور انفرادیت ہے۔ اس میں ہر کوئی ٹھٹھر کر رہ جاتا ہے۔کشمیر میں اس موسم میں برفباری ہوتی ہے بلکہ بہت زیادہ برفباری ہوتی ہے اور خون جما دینی والی سردی ہوتی ہے۔ 21 دسمبر سے شروع ہونے والے چلہ کلان میں کشمیر کے نل، ندی، نالے وغیرہ جم جاتے ہیں۔بچے جمی ہوئی جھیلوں کے اوپر کھیلتے ہیں۔ اس دوران لوگ گھروں کے اندر رہنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ کشمیر کے لوگ برفباری کی وجہ سے سال کے تقریباً چار مہینوں کے لیے محصور ہو کر رہ جاتے ہیں اور اس دوران کشمیری کبھی سوکھی سبزیوں پر گزارہ کرتے تھے جو انہوں نے بہار کے موسم میں جمع کی ہوں یا سکھائی ہوں۔یعنی کشمیری لوگوں کو بہار کے موسم میں ہی سرما کے لیے مکمل تیاری کر لینی پڑتی ہے۔مگر اب سبزیاں ہر موسم میں وافر مقدار میں دستیاب رہتی ہیں۔ کولڈ سٹورز جہ جگہ کھل چکے ہیں۔اب پتہ ہی نہیں چلتا کہ کون سا پھل یا سبزی کس موسم کی ہے۔ سرما کے ان چار مہینوں میں سب سے زیادہ پریشانی سردیوں سے ہوتی ہے۔ کشمیر کے مردوں کی ایک بڑی تعدادبھارت کی مختلف ریاستوں کا رخ کرتی تھی جہاں وہ مزدوری بھی کرتیتھے اور سردی سے بھی بچتیتھے۔مگر اب بھارت میں مودی حکومت میں ہندو انتہا پسندوں نے کشمیریوں پر حملے شروع کر دیئے ہیں۔وادی کے لوگ سردیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے آزماتے ہیں تاہم سرما کے موسم میں بجلی کی آنکھ مچولی کچھ زیادہ ہی عروج پر ہوتی ہے جس وجہ سے بجلی پر چلنے والے جدید آلات پھیکے پڑ جاتے ہیں۔جب کہ بھارت کشمیر سے دیگر قدرتی وسائل کی لوٹ مار کی طرح ہزاروں میگا واٹ بجلی چوری کر کے لے جاتا ہے اور کشمیریوں کو گپ اندھیروں میں چھوڑ دیتا ہے۔
آزاد کشمیر حکومت نے گزشتہ سال پہلی بار کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کے طور پر فیرن اور کانگڑی کا دن منایا اور اعلان کیا کہ یہ دن ہر سال دسمبر میں منایا جائے گا۔ حکومتی سیکریٹری صاحبان اور دیگر افسران نے بھی اس دن کو انجوائے کیا۔کشمیر میں سردی کا مقابلہ کرنے کے لیے کانگڑی سب سے زیادہ موثر ثابت ہو رہی ہے۔کشمیری لوگ صدیوں سے کانگڑی کا استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ کانگڑی کے لفظی معنی مٹی کی انگیٹھی یا آتش دان کے ہیں۔ کانگڑی دراصل بید کی لچکدار ٹہنیوں سے بنی ہوئی ایک خوبصورت ٹوکری ہوتی ہے جس کی ہتھی ہوتی ہے اور اس کے اندر پکی مٹی کی ایک موٹی انگیٹھی(کْنڈل) نصب ہوتی ہے۔ اس میں دہکتے ہوئے کوئلے ڈالے جاتے ہیں جو انسان کو سات سے آٹھ گھنٹے گرم رکھتے ہیں اور تقریباً ہر کشمیری کانگڑی نام کی چیز کو اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے۔ اس سے آدمی اپنے آپ کو گرم رکھتا ہے۔ شام کو سونے سے پہلے کانگڑی سے بستر گرم کیاجاتا ہے جبکہ دن میں کانگڑی فیرن کے اندر اٹھائی جاتی ہے۔کانگڑی کے شوق میں لوگ کبھی بستر ہی نہیں اپنا جسم میں جلا دیتے ہیں۔
کانگڑی کشمیری روایت کا حصہ بن چکی ہے۔ اس کے بغیر کشمیر میں سرما گزارنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کانگڑی بنانے والے لوگ (چھج ساز) اسی کاروبار سے اپنی روزی روٹی کماتے ہیں۔ گاہکوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کے لئے چھجساز بہت خوبصورت اور دلکش کانگڑیاں بناتے ہیں اور جگہ جگہ جا کر بیچتے ہیں۔کشمیر میں چرار شریف کی کانگڑی بہت مشہور ہے جسے یہاں کے لوگ بڑے شوق سے خریدتے ہیں۔کانگڑی میں استعمال ہونے والے مٹی کے برتن(کْنڈل) سے کمہاروں کی بھی اچھی خاصی کمائی ہوتی ہے۔ کانگڑی کی قیمت بھارتی کرنسی میں دو سو سے آٹھ سو روپے تک ہو سکتی ہے۔ یہ سب کانگڑی کی بناوٹ اور مواد پر انحصار کرتا ہے۔ کانگڑی کشمیری تہذیب و ادب کا حصہ بن چکی ہے۔کانگڑی کے ساتھ ایک ژالن(چبھو) نام کی چیز ڈوری سے باندھ کر رکھی جاتی ہے جو کانگڑی کے ساتھ لٹکتی رہتی ہے،جو کانگڑی میں موجود کوئلے کو بیچ بیچ میں الٹ پلٹ کرنے کے کام آتی ہے جس سے حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔ کانگڑی کبھی کبھی خطرناک بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ کبھی ہاتھ سے گر جائے تو قیمتی سے قیمتی کپڑا بھی پل بھر میں راکھ ہو جاتا ہے بلکہ ہاتھ پیر جلنے کی بھی نوبت آتی ہے۔ خدا نخواستہ کبھی جھگڑا ہوتا ہے تو اس وقت بھی اس ہتھیار کا استعمال مخصوص انداز میں کیا جاتا ہے۔ اگر اس کی نوبت نہ بھی آئے تاہم کانگڑی چلانے کی دھمکی ضرور دی جاتی ہے تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ کانگڑی کا استعمال بڑی ہوشیاری کا کام ہے اور بچوں کو تو کانگڑی کے استعمال سے پرہیز ہی کرنا چاہیے۔بھارتی فورسز کے خلاف مظاہروں کے دوران بھی کانگڑی کا استعمال ہوتا ہے۔

کانگڑی کو فیرن کے اندر اٹھایا جاتا ہے۔ فیرن اونی کپڑے کا بنا ہوا ایک لمبا کْرتا ہوتا ہے جس کی لمبائی گھٹنے سے نیچے تک ہوتی ہے جو باقی پہنے کپڑوں کے اوپر پہنا جاتا ہے جس کے دائیں جانب ایک جیب یا دونوں جانب جیبیں ہوتی ہیں۔ فیرن کشمیر کا روایتی لباس ہے۔ فیرن اور کانگڑی کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ کشمیری لوگ صدیوں سے فیرن کا استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ موجودہ دور میں مختلف انداز میں فیرن سلوائے جاتے ہیں اور درزی حضرات فیرن بنانے میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں تاکہ لوگ ان سے فیرن خریدیں۔ فیرن پر کئی بار بھارت کی طرف سے پابندی لگانے کے حکم نامے بھی جاری کر دیئے گئے۔ کبھی فیرن کو سکیورٹی رسک قراد دیا گیا تو کبھی یہ بتا کر پابندی لگائی گئی کہ اس سے ملازمین سستی اور کاہلی کا شکار ہو جاتے ہیں اور ٹھیک طرح سے اپنا کام نہیں کر پاتے ہیں تاہم جن محکموں میں ابھی تک ڈریس کوڈ متعین نہیں کیا گیا ہے وہ سرما میں فیرن کا استعمال کرتے ہیں۔ اس لباس کا استعمال برابر جاری ہے۔ بڑے بڑے آفیسرز بھی فیرن پہنتے ہیں تو کبھی ٹیلی ویژن پر آنے والے مہمان فیرن پہن کرجلوہ گرہوجاتے ہیں۔ کبھی سیاست دان عوامی مجلسوں میں فیرن پہن کر آتے ہیں اور لوگوں کا دل جیتنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس روایتی لباس کی شان بڑھاتے ہیں۔ کشمیر کے مرد و زن فیرن کا استعمال کرتے ہیں۔

کشمیری عورتیں فیرن پر نقش و نگاری کا کام کروا کے فیرن کے ساتھ ساتھ اپنی خوبصورتی بڑھاتے ہیں۔ یہاں تک کہ فیرن پر دس بیس ہزار کا تِلا لگایا جاتا ہے۔فیرن پر گلکاری کرنے سے فیرن پْر کشش بن جاتا ہے۔ یہ کام ہاتھوں سے بھی کیا جاتا ہے اور مشین سے بھی تاہم ہاتھ سے لگایا ہوا تِلا بہت خوبصورت بھی ہوتا ہے اور مہنگا بھی۔ کبھی کبھی فیرن ریاست سے باہر بلکہ ملک سے باہری لوگوں کو بھی بطور تحفہ پیش کیا جاتا ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ فیرن یا پھرن فارسی لفظ پیراہن کی بگڑی ہوئی شکل ہے جس کے معنی لباس کے ہیں۔

سماوار بھی سرما میں کام آنے والا ہتھیار ہے۔ یہ ترامے کا بنا ہوا صراحی یا کیتلی نما تھرماس ہوتا ہے جس کے اندر کوئلے دہکتے ہیں۔اس میں دس سے بیس پیالی نمکین چائے اور زعفرانی قہوہ تیار ہوتا ہے۔گرمی ہو یا سردی،کشمیر میں صبح ناشتہ کے وقت اور دن کے تیسرے پہر سماوار چائے نوش کرنا روز مرہ کا معمول ہے۔تا ہم سردیوں میں اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

کشمیر میں کانگڑی ،فیرن اور سماوار کے بغیر سرما کا وقت گزارنا بہت ہی مشکل ہے۔سماوار،فیرن اور کانگڑی ایسے ہتھیار ہیں جن سے ٹھٹھرتی سردی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور یہ کشمیری تہذیب، تمدن، ادب اور ثقافت کا حصہ ہیں۔ کشمیر میں سرما کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ اس دوران دنیا کے کونے کونے سے سیاح کشمیر کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کے لیے کشمیر کا رخ کرتے ہیں۔ کشمیر کے مختلف صحت افزا مقامات خاص طور گلمرگ میں کافی چہل پہل ہوتی ہے۔ کشمیر کے پہاڑوں اور میدانوں میں سفید چادر بچھی ہوئی ہوتی ہے۔ اس دوران کشمیری لوگ گرم ملبوسات کا اہتمام کرتے ہیں تاکہ سردی سے بچا جا سکے۔سرما میں پوری وادی برف کی لپیٹ میں ہوتی ہے ہر طرف سے دلکش نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ کوئی دلہن سفید پوشاک زیب تن کئے دولہیکا انتظار کر رہی ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 575 Articles with 220676 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
28 Dec, 2020 Views: 112

Comments

آپ کی رائے