نصاب کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی باتیں

(shabbir Ibne Adil, Karachi)
شبیر ابن عادل
برسر اقتدار آنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے نئی نسل کو تاریخ اور شاعر مشرق علامہ اقبال کے فلسفے سے روشناس کرانے کیلئے اقدامات کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے کہا تھا کہ صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے اسلامی تاریخ اور اقبالیات کو نصاب میں شامل کیا جائے۔ نئی نسل کو اسلام کی تاریخ، مسلمانوں کے عروج اور برصغیرکے سب سے بڑے مفکر علامہ اقبال کی سوچ سے روشناس کرایا جائے۔ وزیرِاعظم کا مزید کہنا تھا کہ علامہ اقبال کا فلسفہ انسان کی سوچ کو آزاد اور تخیل کو بلندی فراہم کرتا ہے۔ ریاست مدینہ کے اصول آج بھی اسی طرح مسلمہ ہیں جس طرح اسلام کے ابتدائی دور میں تھے اور ان ہی اصولوں پر عمل پیرا ہو کر مسلمانوں نے انتہائی قلیل عرصے میں دنیا کی امامت سنبھالی۔ ریاستِ مدینہ کے بنیادی اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے آج بھی ہم اپنا مقام حاصل کرسکتے ہیں۔
لوگوں کو خیالی دنیا میں رکھنے کی حد تک تو یہ باتیں بڑی خوبصورت ہیں اور اس سے بھی خوبصورت باتیں کی جاسکتی ہیں۔ ریاست ِ مدینہ کی باتیں تو موجودہ حکومت اقتدار میں آنے کے بعد سے کرہی رہی ہے۔اور اس حوالے سے آئے دن تبصرے ہوتے ہی رہتے ہیں۔ مگر نصاب کے حوالے سے وزیر اعظم کی باتیں بہت خوبصورت اور سحر انگیز ہیں۔ اگر اُن پر خلوصِ دل سے عمل کرلیا جائے تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ کیونکہ آج کے بچے ہی کل ملک سنبھالیں گے، زندگی کے تمام شعبوں چاہے وہ حکومت ہو، سیاست ہو، پاک فوج ہو، بیوروکریسی یا عدلیہ یا میڈیا یا دیگر اہم ادارے، ان کو رفتہ رفتہ نئی نسل ہی سنبھالتی ہے۔
ہمارے ملک کے تعلیمی اداروں کی صورتحال یہ ہے کہ اسلامی نصاب تو بہت دور کی بات ہے،چند اعلیٰ نجی اداروں میں جن کی شاخیں ملک کے کونے کونے میں قائم ہیں اور وہ بھاری فیسیں وصول کرتے ہیں، کفر و الحاد کی تعلیم دے رہے ہیں۔ وہاں اسلام کی تعلیم کا تصور تک نہیں۔ اس کے علاوہ انگلش میڈیم کے نام پر قائم ہونے والے پرائیوٹ اسکول قومی زبان کے خاتمے میں مصروف ہیں اور وہاں سے فارغ ہونے والی نئی نسل اپنی قومی زبان اردو سے واقف ہی نہیں۔ ہاں رومن اردو میں موبائل پر پیغامات ضرور بھیجتے ہیں۔ اسی طرح کفر و الحاد کی تعلیم دینے والے چند اعلیٰ تعلیمی اداروں سے ہر سال ایک لاکھ سے زائد لڑکے اور لڑکیا ں فارغ ہوکر اس معاشرے کا حصہ بن رہے ہیں اور زندگی کے مختلف شعبوں میں اعلیٰ عہدے سنبھال رہے ہیں۔ جن کو نہ اسلام کا پتہ ہے، نہ تحریک پاکستان، اور ا س کے ہیروز اور نہ قیام پاکستان کے بنیادی مقاصد کا۔
پہلے تو اس بات پر شور مچا ہوا تھا کہ ملک کے دینی مدارس کو جدید تعلیمی اداروں سے ہم آہنگ کردیا جائے، کیونکہ دینی مدارس سے فارغ ہونے والے طلبہ جدید تعلیم سے بالکل ناواقف ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے بہت کوششیں ہوئیں۔ لیکن علمائے کرام کے اس موقف سے کہ جدید تعلیمی اداروں کو بھی دینی مدارس سے ہم آہنگ کیا جائے، اقتدار کے ایوانوں میں خاموشی چھا گئی۔
اگر ملک کے تعلیمی اداروں کاجائزہ لیں تو ان کی دو بنیادی اقسام ہیں، سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے۔ سرکاری تعلیمی ادارے اپنی بعض خامیوں کے باوجود ایک مخصوص ڈگر پر چل رہے ہیں۔ لیکن نجی یا پرائیوٹ تعلیمی اداروں کا معاملہ بے حد پیچیدہ اور تشویش ناک ہے۔ اگر صرف نصاب کے حوالے سے جائزہ لیں تو تقریباً تمام اسکولوں کا الگ الگ نصاب ہے۔ جن میں نہ تو اسلام کے لئے کوئی جگہ ہے، نہ پاکستان کے لئے، نہ ہماری تاریخ اور نہ ہی ہماری قومی زبان اردو کے لئے۔ کہیں تو کیمبرج سسٹم ہے اور کہیں کوئی اور سسٹم۔ وہاں سنگاپور اور لندن سے کتابیں آتی ہیں اور ان کے ری پرنٹ کروا کر طلبہ کو مہنگے داموں دی جاتی ہیں۔ ایک عجیب نظام چل رہا ہے۔ جس کو نہ کوئی دیکھنے والا ہے اور نہ پوچھنے والا۔
یہ امر قابل تحسین ہے کہ موجودہ وزیر اعظم عمران خان نے اس موضوع پر بات تو کی ہے۔ اب رہا یہ معاملہ کہ یہ کام کیسے کیا جائے۔ اس کا دارو مدار خلوصِ نیت پر ہے۔ فرض کریں کہ حکومت اس معاملے میں مخلص ہے تو اسے بے پناہ مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس میں سب سے پہلی رکاوٹ بیوروکریسی ہوگی۔ کیونکہ مختلف وجوہات کی بناء پر وزارتِ تعلیم کے اعلیٰ افسروں سے لے کر صوبائی سطح اور ضلعی سطح کے افسران کبھی یہ نہیں چاہیں گے کہ نصاب میں کسی قسم کی انقلابی تبدیلی کی جائے۔ اس کی بنیادی وجہ تو یہ ہے کہ وہ انگریزوں کے طبقاتی نظام پر عمل پیرا ہیں۔ یعنی کچھ اعلیٰ تعلیمی اداروں سے طبقہ امراء اور خود ان کے بچے تعلیم حاصل کریں اور اس ملک پر تا قیامت حکمرانی کرتے رہیں اور بیشتر تعلیمی اداروں سے غربیوں اور متوسط طبقوں کے بچے تعلیم حاصل کریں۔ اور کلرک بن کر اور نچلے طبقے کے کارکن بن کر اس استحصالی نظام کا حصہ بنے رہیں۔
اس لئے اگر نصاب میں تبدیلی کرنا ہے اور واقعی کرنا ہے تو اسے بیوروکریٹک جکڑ بندیوں سے نکال کر سب سے پہلے ایک ایسا بورڈ تشکیل دینا ہوگا۔ جس کے ارکان میں ماہرین تعلیم، سیاست دان(ان میں تحریک انصاف کا تعلیم سے وابستہ طبقہ بھی ہوسکتا ہے)، دانشور، سرکاری افسران، پاک فوج کے نمائندے اور دیگر افراد شامل ہوں، جن کا انتخاب وزیر اعظم خود کریں۔ یہ ارکان ملک اور اسلام کا درد رکھتے ہوں اور حقیقی معنوں میں تبدیلی لانا چاہتے ہوں۔ پھر ان کو صرف چھ مہینوں کا ٹاسک دے دیا جائے اور اسے دو حصو ں میں تقسیم کیا جائے۔
پہلے حصے کی مدت تین ماہ ہو، اس عرصے میں وہ اسکولوں کے موجودہ نصاب کا جائزہ لیں اور اسے تبدیل کریں۔ اس کی کتابیں لکھوائی جائیں اور ان کو پرنٹ کرایا جائے اور اُن نصابی کتابوں کو معیار اور مستند قرار دے کر سرکاری اور پرائیوٹ تعلیمی اداروں میں صرف وہی کتابیں نصاب کا حصہ ہوں۔ دیگر تمام کتابوں کو ضائع کردیا جائے۔ اس کام کو اتنی اہمیت دی جائے کہ خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کی نہ صرف رجسٹریشن منسوخ کی جائے، بلکہ ان کو قومی تحویل میں لے لیا جائے۔ اس حوالے سے موثر قانون سازی کرنا ہوگی۔ اگر صوبے اس حوالے سے مزاحم ہوں تو ۸۱ ویں ترمیم میں ترمیم کرکے تعلیم کو صوبوں سے لے کر وفاق کے حوالے کیا جائے۔ صرف ان درسی کتابوں کو برقرار رکھا جائے، جو نئے نصاب کے مطابق ہوں۔

ملک میں تعلیم کا ایک اور یکساں نظام ہو، اس حوالے سے صرف ایک امتحانی بورڈ ہو، یعنی حکومت کا بورڈ۔ دیگر تمام بورڈز کو ختم کیا جائے۔ جن میں کیمبرج سسٹم، آغا خان بورڈ اور دیگر امتحانی بورڈز شامل ہیں۔
نصاب میں تبدیلی کے دوسرے مرحلے میں یعنی چھ مہینے کی مدت کے اگلے تین ماہ میں کالجوں اور جامعات کے نصاب کا بھی جائزہ لیاجائے اور نجی جامعات سے یہ اختیار واپس لیاجائے کہ وہ اپنی مرضی کے نصاب کی تعلیم دے سکتی ہیں۔
اس میں یہ اہتمام بھی کیا جائے کہ مخلوط تعلیم کا خاتمہ کیا جائے۔ کیونکہ مخلوط تعلیم کے اثرات نے ہمارے معاشرے کو برباد کردیا ہے۔ اس حوالے سے تفصیل میں جانا نہیں چاہتا۔ دوم یہ کہ طلبہ کی تعلیمی زندگی کو مختصر کیا جائے۔ کیونکہ موجودہ تعلیمی زندگی۲۲۔ ۳۲ سال کی ہے۔ یعنی کوئی بچہ تین سال کی عمر سے اسکول جانا شروع کرتا ہے تو ۵۲۔ ۶۲ سال کی عمر میں ماسٹرز کرکے اپنی تعلیم مکمل کرپاتا ہے۔ پھر روزگار کی تلاش اور شادی کے مرحلے تک پہنچتے پہنچتے مزید پانچ سال صرف ہوجاتے ہیں۔ نوجوان لڑکے لڑکیوں کی تاخیر سے شادی ایک بہت بڑے معاشرتی ناسور کا سبب بن رہی ہے۔ اس حوالے سے یورپی ملک فِن لینڈ کے نئے نظام تعلیم سے مدد لی جاسکتی ہے۔ جہاں بچہ تین نہیں سات سال کی عمر سے اسکول جانا شروع کرتا ہے اور دس سال کی مدت میں گریجویشن یا ماسٹرز کرکے اپنی تعلیم مکمل کرلیتا ہے۔ اس طرح وہاں انیس بیس سال کی عمر میں شادی ہوجاتی ہے۔
نئے نصاب کی تیاری کے حوالے سے عوام سے تجاویز لی جائیں۔ میری مراد عوام کے اس طبقے سے ہے، جو تعلیم سے وابستہ ہیں، جو دانشور ہیں، مصنفین، ادیب، اور قوم کا درد رکھنے والے مخلص افراد۔ اس حوالے سے ایک تنظیم بھی قائم کی جاسکتی ہے اور پورے ملک میں اس کی شاخیں بھی۔ اس کام سے لبرل، آزاد خیال اور ملک کو اسلام اور پاکستانیت سے دور لے جانے والے عناصر کومکمل طور پردور رکھا جائے اور ان کی تجاویز پر کوئی توجہ نہ دی جائے۔ اس کام میں پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا دونوں سے مدد لی جائے، یعنی ان پر مباحث یعنی ٹاک شوز کا اہتمام کیا جائے۔
بیوروکریسی اور بعض حلقوں کی کوشش ہوگی کہ اس کام کو اتنا طول دیا جائے کہ موجودہ حکومت کی مدت ختم ہوجائے اور اس قسم کی تبدیلی محض خواب رہ جائے۔ اس عمل کو روکنے کے لئے سختی سے کام لینا ہوگا۔ اسی طرح کی سختی جو تجاوزات کے خاتمے کے لئے کی گئی۔ اور وزیر اعظم کو بذاتِ خود اس کام کی نگرانی کرنا ہوگی۔ ورنہ یہ خواب کبھی شرمندہئ تعبیر نہ ہوسکے گا۔
۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: shabbir Ibne Adil

Read More Articles by shabbir Ibne Adil: 81 Articles with 13276 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Jan, 2021 Views: 138

Comments

آپ کی رائے