مجھے تو بس ایسی لڑکی چاہیے جو-- چلی کے بارے میں 7 ایسے ناقابلِ یقین حقائق جو آپ کو حیرت میں مبتلا کردیں گے

اکثر لوگ چلی کو ملک بھر میں وسیع پیمانے پر پھیلے پہاڑوں کے سلسلے یا پھر کالی مرچ کے حوالے سے جانتے ہیں- لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح اس ملک کی ثقافت کے بھی چند عجیب رنگ ہیں جن کو دیگر ممالک کے باشندے آسانی سے نہیں سمجھ سکتے- چلی کے شہریوں کی کچھ عادات ایسی حد تک غیر معمولی ہیں کے ان کے بارے میں سننے والا تھوڑی دیر کے لیے کسی خیالی دنیا میں گم ہوجاتا ہے-
 
شکل و صورت نہیں چاہیے بس کھانا بنانا آتا ہو
چلی کے اکثر مرد شادی کے معاملے میں لڑکی کی شکل و صورت میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے بس وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی بیوی ایسی ہو جو کھانا اچھا پکا سکے اور گھر کی دیکھ بھال کر سکے- تاہم امیر خاندانوں میں چونکہ کئی نوکر موجود ہوتے ہیں تو ان کی خواتین زیادہ تر وقت اپنی دیکھ بھال میں گزارتی ہیں- اس کے لیے وہ جم اور پارلر ضرور جاتی ہیں-
 
13 تاریخ کا جمعہ بھی ایک عام دن ہے
چلی میں کوئی بھی ایسی جمعے کے دن سے خوفزدہ نہیں ہوتا جو 13 تاریخ کو آتا ہو- اس کے علاوہ چلی کے باشندے نہ تو کالی بلیوں کو منحوس قرار دیتے ہیں اور نہ ہی دیگر بری علامات کی پرواہ کرتے ہیں-لیکن یہاں 13 تاریخ کو آنے والے منگل کے دن کا معاملہ مختلف ہے- اس روز کو مقامی افراد بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہیں-
 
خواتین ہر کام کرسکتی ہیں
چلی کی خواتین کوئی بھی کام کرسکتی ہیں جو مرد کرسکتے ہیں ، وہ ہتھوڑا اور ڈرل استعمال کرنے کا طریقہ جانتی ہیں۔ یہاں تک کہ مقامی مرد حیرت میں مبتلا ہوں گے اگر کوئی عورت یہ کہے کہ وہ یہ سب کام نہیں کرسکتی ہے۔
 
روزانہ تین بار نہانا
چلی کے باشندے اپنی صحت کے حوالے سے حساس ہوتے ہیں- ان میں سے اکثر افراد تو اپنے دفتر میں بھی ٹوتھ برش اور ٹوتھ پیسٹ رکھتے ہیں اور ہر کھانے کے یا پھر چائے پینے کے بعد بھی لازمی اس کا استعمال کرتے ہیں- یہاں تک کہ چلی کے اکثر شہری تو دن میں تین تین بار نہاتے بھی ہیں- لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ صفائی سے اتنی محبت ہونے کے باوجود یہ گھر کے اندر وہی جوتے پہن کر داخل ہوتے ہیں جو انہوں نے شہر کی سڑکوں پر چلنے کے لیے پہن رکھے ہوتے ہیں-
 
رات کا کھانا کوئی خاص نہیں ہوتا
عام طور پر ، ہم رات کے کھانے کے بارے میں سوچتے ہیں کہ ایک گرما گرم کھانا ہو جو انتہائی مزیدار ہو، بھوک لگی ہوئی ہو اور کبھی کبھی میٹھا بھی ساتھ ہوت۔ لیکن چلی میں ، لوگ شام کو بہت زیادہ نہیں کھاتے ہیں۔ یہاں کے باقاعدہ ڈنر میں چائے کے ساتھ چند چھوٹے سینڈویچ ہوتے ہیں بس یہی ان کا رات کا کھانا ہوتا ہے۔
 
گرم موسم میں بھی گرم کپڑوں کا استعمال
جب درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہو تو ہمارے ہاں ہلکے پھلکے کپڑے پہننے کے ترجیح دی جاتی ہے تاکہ زیادہ گرمی محسوس نہ ہو لیکن چلی کی خواتین اس موسم میں بھی جینز کا استعمال کرتی ہیں اور وہ خود اس میں آرام دہ محسوس کرتی ہیں-
 
بیت الخلا میں ٹوائلٹ پیپر
چلی میں ، بیت الخلا میں ٹوائلٹ پیپر پھینکنے کا رواج نہیں ہے۔ اس کے لئے ایک خاص ڈسٹ بن رکھا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ، باتھ روم میں ہمیشہ ٹوائلٹ پیپر کا اسپیئر رول بھی موجود ہوتا ہے۔ اور اسے عام طور پر ایک خوبصورت سے کور یا کیس میں رکھا جاتا ہے۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
15 Jan, 2021 Views: 2952

Comments

آپ کی رائے