صبح ہوتی ہے، شام ہوتی ہے

(shabbir Ibne Adil, Karachi)
شبیر ابن عادل
زندگی ہے کہ گزرتی ہی چلی جارہی ہے، صبح ہوتی ہے، شام ہوتی ہے، زندگی یوں ہی تمام ہوتی ہے۔ خواہشیں ہیں کہ ختم ہی نہیں ہوتیں۔ وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا، سونے میں، فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پر اور ٹیلی ویژن پر فلمیں اور ڈرامے دیکھنے میں گزرتا ہی چلا جاتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ''سماجی سرگرمیاں ''اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ تعلیم، روزگار اور دیگر ذمہ داریاں بھی ثانوی حیثیت اختیار کرتی جارہی ہیں۔ اس مقولے پر عمل ہورہا ہے کہ بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست (یعنی شہنشاہ بابر عیش کرلے، دنیا دوبارہ نہیں ملے گی)۔
ہمارے ہم وطنوں یا امت مسلمہ کی اکثریت نہ تو دنیا کے حصول میں سنجیدہ ہے اور نہ ہی آخرت کے۔ ہماری مثال تو ایسی ہوگئی ہے کہ دھوبی کا کُتا، نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔ اور ہم اسی حال میں مطمئن ہیں، اور وقت ہے کہ تیزی سے گزرتا چلا جارہا ہے۔ ہمارے خاندان، محلے اور ہمارے حلقہئ اثر میں آئے دن لوگ مرتے رہتے ہیں اور ہمیں احساس تک نہیں ہوتا کہ کبھی ہمیں بھی مرنا ہے۔ دنیاوی لحاظ سے ہمارا حال یہ ہے کہ جتنی آمدنی ہو، اتنے اخراجات بڑھا لیتے ہیں۔ اور اضافی اخراجات اور مہنگائی سے نمٹنے ہی میں عمر کا طویل حصہ گزر جاتا ہے۔
اگر دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کرنا ہے تو یہ روّیہ ترک کرنا ہوگا، یعنی وقت کو ضائع کرنے یا وقت کے دھارے میں بے مقصد بہنے کا۔ اس رویے کو خیر باد کہنا ہوگا کہ اچھا دیکھیں گے، چلو سوچتے ہیں۔ بلکہ یہ رویہ اپنانا ہوگا کہ اب یا کبھی نہیں۔ اور بقول کبیر داس ؔ ” کام کرے، سو آج، اور آج کرے، سو اب“ ۔ کل، پرسوں یا اگلے مہینے یا ٹال مٹول کے دیگر طریقوں کو منوں مٹی تلے دفن کرکے ایک نئے عزم کے ساتھ اٹھنا ہوگا۔ ایک بھرپور جذبہ، ایک منفرد غصہ (اپنی کاہلی اور رویے کے خلاف) اور بھرپور لگن کے ساتھ۔
آپ کو ایک فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا کرنا ہے؟ یا کچھ نہیں کرنا؟۔ یعنی اگر کچھ کرنا ہے، دنیا میں بھی کامیابی اور آخرت میں بھی کامیابی۔ دونوں جگہ کامیاب اور کامران۔ اگر آپ کچھ کرنے اور آگے بڑھنے کا عزم رکھتے ہیں تو اگلی سطور پڑھیں، ورنہ چپ کرکے سوجائیں یا جو دل میں آئے، کرتے رہیں۔ لیکن اگر آپ یہ فیصلہ کرتے ہیں تو کچھ کرنا ہے تو مندرجہ ذیل پلان کا مطالعہ کریں:
سب سے پہلے اپنی ذات کی جھاڑیوں اور کانٹوں کو جڑ سے اکھاڑ کر اپنے اندر کی زمین کو صا ف کرنا ہوگا۔ یعنی پہلے ایک کاپی پینسل لے کر بیٹھیں اور خود سے باتیں کریں، اپنا جائزہ لیں، اپنی خامیوں، خوبیوں اور صلاحیتوں کا جائزہ اور ان کو کاپی پر نوٹ کرتے جانا۔ پھر اپنی زندگی کا مقصد طے کرنا، اگر طالبعلم ہیں تو کیرئیر طے کرنا، اگر روزگار (ملازمت یا تجارت) سے وابستہ ہیں تو اپنے ٹارگٹس طے کرنا اور اگر خاتون ہیں تو اپنی زندگی کی پلاننگ کرنا۔
دیکھئے، بے مقصد زندگی صرف حیوان گزارتے ہیں اور میری نظر میں بے مقصد زندگی گزارنے والے انسان بھی حیوان ہی ہیں۔ جب اپنی کاپی پر مندرجہ بالا تمام امور درج کرلیں تو پھر مقصدِ حیات کا تعین کرنے میں آسانی رہے گی۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ آپ اپنی کاپی میں پہلے صرف اپنی خوبیاں اور خامیا ں درج کریں، مقصدِ حیات نہیں۔
ہم خود اپنے مقصدِ حیات کا تعین نہیں کرسکتے، اس کے لئے ہمیں اپنے خالق سے رہنمائی حاصل کرنا ہوگی، کیونکہ جس ربّ نے ہمیں پیدا کیا ہے، اسی نے یہ بھی بتا یا ہے کہ زندگی کس طرح گزارنی ہے۔
اس حقیقت کو بھی اچھی طرح پیش نظر رکھئے کہ دینی تعلیمات کا مقصد انسان کو صرف عبادت گزار بنانا نہیں، دینی تعلیمات انسان کو انسان بناتی ہیں، ایک اچھا شہری اور ایک اچھا انسان۔ میں تو قرآن وسنت کے مطالعے سے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہمارا دین ہمیں ایک ایسے سانچے میں ڈھالتا ہے کہ ہم اپنے معاشرے کے اچھے شہری بن جائیں اور پورا معاشرہ خیرخواہی پر مبنی ہو، جہاں انصاف ہو اور نیکی کرنا آسان اور بدی کرنا مشکل ہو۔
اگلے مرحلے میں آپ اچھی طرح غسل کرکے صاف ستھرے کپڑے پہنیں گے، خوشبو لگائیں گے، بالوں میں تیل ڈالیں گے۔ غرض خوب تیار ہوکر دو رکعت نفل پوری توجہ (یعنی خشوع وخضوع) کے ساتھ پڑھیں اور اپنے ربّ اور اپنے پیدا کرنے والے سے اپنے گناہوں کی توبہ، سچے دل سے توبہ۔
پھر قرآن وحدیث، سیرت النبی ﷺ اور دیگر دینی کتب کا مطالعہ کرکے مقصد حیات معلوم کرنا۔ مقصدِ حیات معلوم کرنا کوئی مشکل کام نہیں، بہت آسانی سے معلوم ہوجائے گا۔
مقصدِ حیات معلوم ہوجانے کے بعد اپنی تمام قوتیں اس کے حصول میں لگانا ہوں گی۔
یہ خوب یاد رکھیں کہ دین صرف عبادات یا چند وظائف و اوراد کے مجموعے کا نام نہیں۔ بلکہ عبادات، معاملات، یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد، معاشرت، سماجی بہبود، حکومت اور عدالت غرض مکمل زندگی کا نام ہے۔ ہمارا دین زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کرتا ہے۔ یہ سوچ کر دینی تعلیمات کا مطالعہ کریں اور اپنی زندگی کا پلان بنائیں۔
ہماری زندگی میں بنیادی چیز محبت ہونا چاہئے۔ اپنے والدین، بہن بھائیوں،بیوی،اولاد، دوستوں غرض سب سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ سے محبت ہماری شخصیت کے باغ کو مہکا دے گی۔
اپنے آقا و مولیٰ ﷺ کی سنتوں پر عمل کا شوق اور ان کی حیات طیبہ کا مسلسل مطالعہ ہمارے باطن کے درختوں کی جڑیں گہری کرے گا۔

اپنے اخلاق کو سنوارنا ہوگا، تاکہ دوسرے لوگ ہم سے مل کر خوش ہوں۔
ایسے طریقے اپنانا ہوں گے کہ ہم دوسروں کے کام آسکیں اور ہماری ذات سے دوسروں کو فائدہ ہو۔ کیونکہ ہم دوسروں کے لئے جیتے ہیں۔
دنیا وی نعمتوں کو ضرور حاصل کریں، تاکہ آپ اور آپ کے اہل خانہ دوسروں کے محتا ج نہ ہوں، لیکن سب کچھ بھول کر دنیا ہی کے ہوکر نہ رہ جائیں۔
ہر رات سونے سے قبل بستر پر لیٹ کر دن بھر اپنی کارکردگی کا جائزہ لینا اور اپنا احتساب خود کرنا اور موت کو کثرت سے یاد کرنا۔
اس کام کو مسلسل اور ہر دم جاری رکھنا ہوگا،ساری عمر اپنے آپ پر توجہ دینا ہوگی، بالکل اسی طرح جیسے ہم اپنے جسم پر اور اپنے لباس پر توجہ دیتے ہیں۔ اور ہاں آخری، مگر اہم بات، وہ یہ کہ دوسروں کے ساتھ چلنا ہوگا اور دوسروں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ تب ہی کامیابی ہمارے قدم چومے گی اور اتنا لطف آئے گا کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: shabbir Ibne Adil

Read More Articles by shabbir Ibne Adil: 81 Articles with 12837 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Jan, 2021 Views: 114

Comments

آپ کی رائے