حضرت ابوبکر صدیق ؓ۔ فضائل و مناقب

(shabbir Ibne Adil, Karachi)


تحریر: شبیر ابن عادل
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ انبیاء اور رسل کے بعد سب سے عظیم انسان ہیں، رسول اللہ ﷺ پر مردوں میں سب سے پہلے ایمان لائے، انہیں دنیا ہی میں جنت کی بشارت ملی، تمام غزوات میں شریک رہے، حضور ؐ سے اپنی بیٹی حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے نکاح کیا، اور جانشین رسول ؐ کا اعلیٰ ترین اعزاز پایا۔
صرف حضرت ابوبکر ؓ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان کی چار نسلیں صحابی تھیں، یعنی ان کے والدین ، وہ خود ، ان کے بچے اور پوتے اور نواسے۔
نبی کریم ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ ہجرت کا اعزاز حاصل ہوا جس کے متعلق حضرت عمر فاروق اعظم ؓ فرمایا کرتے تھے کہ ابوبکر ؓ مجھے غارثور کی ایک رات دے دیں، جو انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ گزاری اور اس کے بدلے میری زندگی کی تمام نیکیاں لے لیں۔
دورِرسالت کے آخری ایام میں رسول اللہ نے حضرتِ ابوبکر ؓ کو نمازوں کی امامت کا حکم دیا۔ آپؓ نے مسجدِنبویؐ میں سر کار دوعالم کے حکم پرمصلیٰ رسولؐ پر17 نمازوں کی امامت فر مائی۔ نبی کریم کا یہ اقدام آپؓ کی خلافت کی طرف واضح اشارہ تھا۔
قرآن پاک کی کئی آیات حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں نازل ہوئیں:
ہجرت کے موقع پر جب وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غار ثور میں تھے تو کفار کو غار کے سامنے دیکھ کر کچھ پریشان ہوئے، اس موقع پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:

ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہ لاَ تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہ، عَلَیْہِ۔ (التوبۃ:٤٠)
'' آپ دو میں سے دوسرے تھے ، جب وہ دونوں (یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ)غار میں تھے ، جب (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ےار سے فرماتے تھے ، غم نہ کر ، بیشک اﷲ ہمارے ساتھ ہے تو اﷲ نے اس پر اپنی تسکین نازل فرمائی''۔ (کنزالایمان)
صدرُالافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ
''حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی صحابیت اس آیت سے ثابت ہے۔ حسن بن فضل نے فرمایا، جو شخص حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی صحابیت کا انکار کرے وہ نص قرآنی کا منکر ہو کر کافر ہوا''۔ (تفسیربغوی، تفسیر مظہری، تفسیر خزائن العرفان)
مرزا مظہر جانِ جاناں رحمہ اللہ '' اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا'' کی تفسیر میں فرماتے ہیں،
'' حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے ےہی فضیلت کافی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے بغیر کسی فرق کے، اﷲ تعالیٰ کی اس معیت کو ثابت کیا جو انہیں خود حاصل تھی ۔ جس نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت کا انکار کیا اس نے اس آیت کریمہ کا انکار کیا اور کفر کا ارتکاب کیا''۔(تفسیر مظہری)
''سَکِیْنَتَہ، عَلَیْہِ'' کی تفسیر میں حضرت عبداﷲبن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ،
'' یہ تسکین حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ پر نازل ہوئی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تو سکینت ہمیشہ ہی رہی تھی''۔(ازالۃالخفاء ج ٢:١٠٧، تاریخ الخلفاء : ١١١)


وَالَّذِیْ جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِہ اُولٰئِکَ ہُمُ الْمُتَّقُوْنَ۔ (الزمر:٣٣)
'' اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جنہوں نے انکی تصدیق کی، یہی ڈر والے ہیں''۔(کنزالایمان از اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ)
بزاروابن عساکررحمہما اللہ نے اس آیت کے شان نزول کے متعلق روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اس طرح ارشادفرمایا، ''قسم ہے اُس رب کی جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رسول بناکر بھیجا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے اس رسالت کی تصدیق کرائی''۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (تاریخ الخلفاء:١١٢)
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حق لیکر آنے والے سے مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور تصدیق کرنے والے سے مراد حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ دیق رضی اللہ تعالی عنہ ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی یہی مروی ہے۔ (تفسیرکبیر، تفسیر مظہری، ازالۃ الخفاء ج٢:٢٢٥)
وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبّہ جَنَّتٰنِ (الرحمٰن:٤٦)
''اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے،اسکے لیے دو جنتیں ہیں''۔ (کنزالایمان از اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ)
ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے روایت کی ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں نازل ہوئی۔ (تفسیرمظہری، تفسیر درمنثور)
وَلاَ یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَالسَّعَۃِ اَنْ یُّؤْتُوْا اُولِی الْقُرْبٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَالْمُہٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلْیَعْفُوْا وَلْیَصْفَحُوْا۔
'' اور قسم نہ کھائیں وہ جو تم میں فضیلت والے اور گنجائش والے ہیں قرابت والوں اور مسکینوں اور اﷲ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے کی ، اور چاہیے کہ معاف کریں اور درگزرکریں۔ (النور:٢٢،کنزالایمان)
یہ آیت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں نازل ہوئی جب آپ نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والوں کے ساتھ موافقت کرنے پر اپنے خالہ زاد بھائی مسطح کی مالی مدد نہ کرنے کی قسم کھائی جو بہت نادار و مسکین بدری صحابی تھے۔ آپ نے اس آیت کے نزول پر اپنی قسم کا کفارہ دیا اور انکی مالی مدد جاری فرمائی۔ صدرُالافاضل رقمطراز ہیں ،'' اس آیت سے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی فضیلت ثابت ہوئی، اس سے آپ کی علوشان ومرتبت ظاہر ہوئی کہ اﷲتعالیٰ نے آپکو ابوالفضل (فضیلت والا)فرمایا''۔(تفسیر خزائن العرفان،تفسیر مظہری)
ایک مرتبہ یہودی عالم فخاص نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا اے ابوبکر! کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ ہمارا رب ہمارے مالوں میں سے قرض مانگتا ہے، مالدار سے قرض وہی مانگتاہے جو فقیر ہو، اگر تم سچ کہتے ہو تو پھر اﷲتعالیٰ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ اسکی گستاخانہ گفتگو سن کر غضبناک ہوئے اور اسکے منہ پر زوردار تھپڑ مارا اور فرمایا ، اگر ہمارے اورتمہارے درمیان صلح کا معا ہدہ نہ ہوتا تو میں تیری گردن اڑا دیتا۔ فخاص نے بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جا کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی شکایت کی۔ آپ نے اسکی گستاخانہ گفتگو بیان کردی ۔ فخا ص نے اس کا انکار کردیا تو اﷲتعالیٰ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی تصدیق کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی۔
لَقَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّ اللّٰہَ فَقِیْر'' وَّ نَحْنُ اَغْنِیَاءَ۔ (اٰلِ عمران: ١٨١)
''بیشک اﷲنے سنا جنہوں نے کہا کہ اﷲمحتاج ہے اور ہم غنی''۔ (کنزالایمان)
وَاتَّبِعْ سَبِیْلَ مِنْ اَنَابَ اِلَیَّ ۔
'' اور اسکی راہ چل جو میر ی طرف رجوع لایا''۔ (لقمٰن: ١٥)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کا ارشاد ہے کہ یہ آیت سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ جب وہ اسلام لائے تو حضرت عثمان، طلحہ، زبیر ، سعد بن ابی وقاص، عبدالرحمٰن بن عوف ثنے انکی رہنمائی کے سبب اسلام قبول کیا۔ (تفسیر مظہری)
لَا یَسْتَوِیْ مِنْکُمْ مَنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ اُولٰئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْم بَعْدُ وَقَاتَلُوْا وَکُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْر (الحدید:١٠)
تم میں برابر نہیں وہ جنہوں نے فتح مکہ سے قبل خرچ اور جہاد کیا، وہ مرتبہ میں ان سے بڑے ہیں جنہوں نے بعد فتح کے خرچ اور جہاد کیا اور ان سب سے اللہ جنت کا وعدہ فرما چکا ، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ (کنزالایمان)
یہ آیت حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ آپ سب سے پہلے ایمان لائے اور سب سے پہلے اﷲ کی راہ میں مال خرچ کیا۔ (تفسیر بغوی)
قاضی ثناء اﷲرحمہ اﷲ فرماتے ہیں ، یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ تمام صحابہ سے افضل اور صحابہ کرام تمام لوگوں سے افضل ہیں کیونکہ فضیلت کا دارومداراسلام قبول کرنے میں سبقت لے جانے ، مال خرچ کرنے اورجہاد کرنے میں ہے۔ جس طرح آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی ہے کہ جس نے اچھا طریقہ شروع کیا تو اسے اسکا اجر اور اس پر عمل کرنے والوں کا اجربھی ملے گا جبکہ عمل کرنے والوں کے اجر میں بھی کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ (صحیح مسلم)
علماء کا اس پر اجماع ہے کہ حضرت ابوبکرؓ سب سے پہلے اسلام لائے اور آپکے ہاتھ پر قریش کے معززین مسلمان ہوئے۔ راہ خدا میں مال خرچ کرنے والوں میں بھی سب سے آگے ہیں۔ کفار سے مصائب برداشت کرنے والوں میں بھی آپ سب سے پہلے ہیں۔ (تفسیر مظہری)
وَسَیُجَنَّبُہَا الْاَتْقَی O الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَہ، یَتَزَکّٰیO وَمَا لِاَحَدٍ عِنْدَہ، مِنْ نِّعْمَۃٍ تُجْزٰیO اِلاَّ ابْتِغَاءَ وَجْہِ رَبّہِ الْاَعْلٰیO وَلَسَوْفَ یَرْضٰی O
''اور اس (جہنم )سے بہت دور رکھا جائے گا جو سب سے بڑا پرہیزگار جو اپنا مال دیتا ہے کہ ستھرا ہو اور کسی کا اس پر کچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے ، صرف اپنے رب کی رضا چاہتا ہے جو سب سے بلند ہے اور بے شک قریب ہے کہ وہ (اپنے رب سے)راضی ہو گا''۔ (والیل:١٧ تا ٢١،کنزالایمان )
اکثر مفسرین کا اتفاق ہے یہ آیات مبارکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں نازل ہوئیں۔ (تفسیرقرطبی ،تفسیر کبیر ،تفسیرابن کثیر ،تفسیرمظہری)
ابن ابی حاتم رحمہ اللہ نے حضرت عروہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے سات غلاموں کو اسلام کی خاطر آزاد کیا۔اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ (تفسیر مظہری،تفسیرروح المعانی)
صدرُالافاضل رحمہ اللہ رقمطراز ہیں کہ جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو بہت گراں قیمت پر خرید کر آزاد کیا تو کفار کو حیرت ہوئی اور انہوں نے کہا ،بلا ل کا ان پر کوئی احسان ہو گا جو انہوں نے اتنی قیمت دے کر خریدا اور آزاد کیا ۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ظاہر فرما دیا گیا کہ حضرت صد یق اکبر کا یہ فعل محض اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے، کسی کے احسان کا بدلہ نہیں۔ (خزائن العرفان)
قاضی ثناء اﷲ پانی پتی رحمہ اللہ آخری آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں ،''یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے حق میں اس طرح ہے جس طرح حضور کے حق میں یہ آیت ہے،
وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی O (تفسیر مظہری )
''اور بےشک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے''۔
نبی کریم ﷺ نے متعدد مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے فضائل بیان فرمائے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سےروایت ہے کہ ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس نے ہمارے ساتھ حسن سلوک کیا ہوکچھ ہم کو دیا ہو اور ہم نے اس کے بدلے میں اسے کچھ نہ دیا ہو، سوائے ابوبکر ؓ کے ، انہوں نے ہمارے ساتھ جو حسن سلوک کیا اس کی مکافات اللہ تعالیٰ ہی کرے گا قیامت کے دن۔ اور کسی شخص کا بھی مال کبھی اتنا میرے کام نہ آیا جتنا ابوبکر ؓ کا مال کام آیا اور اگر میں(اپنے دوستوں میں سے ) کسی کو خلیل (جانی دوست) بناتا تو ابوبکر ؓ کو بناتا اور معلوم ہونا چاہئے کہ میں بس اللہ کا خلیل ہوں (اور میرا حقیقی دوست اور محبوب بس اللہ ہے)۔ (جامع ترمذی)
حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کسی چیز کے معاملہ کے بارے میں حضور ﷺ سے گفتگو کی، آپؐ نے اس سے فرمایا کہ پھر (بعد میں کبھی) آنا، اس عورت نے عرض کیا کہ یہ بتلائیے کہ اگر میں آئندہ آؤں اور آپؐ کو نہ پاؤں ؟ حدیث کے راوی جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ غالباً اس عورت کا مطلب یہ تھا کہ اگر میں آئندہ آؤں اور حضور ؐ دنیا سے رحلت فرماچکے ہوں تو میں کیا کروں۔ تو آپ ؐ نے فرمایا کہ اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابوبکر ؓ کے پاس آجانا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کسی قوم (کسی ایسی جماعت اور گروہ) کے لئے جس میں ابوبکر ؓ موجود ہوں درست اور مناسب نہیں ہے کہ ابوبکر ؓ کے سوا کوئی دوسرا شخص ان کا امام ہو۔ (جامع ترمذی)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ سے ارشاد فرمایا کہ تم غار میں میرے ساتھی تھے اور آخرت میں حوض کوثر پر بھی میرے ساتھی ہوگے۔ ( جامع ترمذی)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشا د فرمایا کہ جبرئیل امین میرے پاس آئے ، میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھلایا، جس سے میر امت کا جنت میں داخلہ ہوگا ۔ ابوبکر ؓ نے (حضور ؐ سے یہ سن کر عرض کیا کہ) حضور ؐ میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہوئی کہ میں بھی اس وقت حضور ؐ کے ساتھ ہوتا اور میں بھی اس دروازہ کو دیکھتا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ابوبکر تم کو معلوم ہونا چاہئے کہ میری امت میں سب سے پہلے تم جنت میں داخل ہوگے۔ (سنن ابی داؤد)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا ابوبکر ؓ ہمارے سید (سردار ) ہیں، ہم میں سب سے بہتر وافضل ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو ہم میں سے سب سے زیادہ محبوب ہیں (یعنی ان کو حضورؐ کی محبوبیت کا جو مقام حاصلل ہے وہ ہم میں سے کسی کو حاصل نہیں)۔ (ترمذی)
حضرت علی ؓ کے فرزند حضرت محمد بن حنفیہ ؒ سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد ماجد (حضرت علی مرتضیٰ ؓ ) سے دریافت کیا کہ امت میں رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے بہتر اور افضل کون ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ابوبکر۔ میں نے کہا کہ ان کے بعد کون؟تو انہوں نے فرمایا کہ عمرؓ۔۔ (محمد بن حنفیہ کہتے ہیں) پھر مجھے خطرہ پیدا ہواکہ (اگرمیں اسی طرح دریافت کروں کہ عمرؓ کے بعدکون؟) تو یہ نہ کہہ دیں کہ عمرؓ کے بعد عثمان ؓ (اس لئے میں نے سوال اس طرح کیا) پھر عمر ؓ کے بعد آپ ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں اس کے سوا کچھ نہیں کہ مسلمانوں کا ایک آدمی ہوں۔ (صحیح بخاری)
حضرت علی ؓ نے اپنے بارے میں یہ بات بطور تواضع و انکساری کے یہ بات کہی ، ورنہ اس وقت امت میں سب سے افضل خود حضرت علی ؓ کی ذات بابرکات تھی کیونکہ حضرت عثمان اس سے پہلے شہید کئے جاچکے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے فرماتے تھے کہ ہم لوگ رسول اللہ ؐ کے زمانے میں ابوبکر ؓ کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے تھے ، ان کے بعد عمرؓ ، ان کے بعد عثمانؓ۔ پھر ہم رسول اللہ ﷺ کے تمام اصحاب کو چھوڑ دیتے تھے، ان کے درمیان ایک کو دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے تھے۔ ( صحیح بخاری)
حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں جب ہمیں صحابہ کے درمیان انتخاب کے لئے کہا جاتا تو سب میں افضل اور بہتر ہم ابوبکر ؓ کو قرار دیتے ، پھر عمر بن خطابؓ کو پھر عثمان بن عفان ؓ کو۔ (صحیح بخاری)
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن باہر تشریف لائے اور مسجد میں داخل ہوئے (اور آپؐ کے ساتھ ) ابوبکر ؓ و عمر ؓ بھیتھے، ایک ان دونوں میں سے آپ کے داہنی جانب اور دوسرے بائیں جانب اور آنحضرت ؐ ان دونوں کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے (اسی حال میں ) آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ ہم تینوں قیامت کے دن اسی طرح اٹھائے جائیں گے۔ (جامع ترمذی)
حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ کب تک تم لوگوں میں باقی رہوں گا (تو جب میں تمہارے اندر نہ رہوں ) تو تم اقتداکیجیومیرے بعد ان دونوں ابوبکر ؓ و عمر ؓ کی ۔ (جامع ترمذی)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ ہرنبی کے دو وزیرہوتے ہیں آسمان والوں میں سے (یعنی ملائکہ میں سے ) اور دو وزیر ہوتے ہیں زمین میں بسنے والے انسانوں میں سے، تو آسمان والوں میں سے میرے وزیر جبرائیل و میکائیل ہیں اور زمین والوں میں سے میرے وزیر ابوبکرؓ و عمرؓ ہیں ۔ (جامع ترمذی)
حضرت علی مرتضی ٰؓ سے روایت ہے کہ میں اکثر رسول اللہ ﷺ کو یوں فرماتے سنا کرتا تھا کہ میں اور ابوبکر اور عمر تھے۔ میں نے اور ابوبکر اور عمر نے یہ کام کیا، میں اور ابوبکر اور عمر گئے ۔ (صحیح بخاری)

اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہ کرام ؓ سے محبت کرنے کی توفیق دے ، محبت کا لازمی تقاضا عمل ہوتا ہے۔ ہم جن سے محبت کرتے ہیں یا اپنا آئیڈیل بناتے ہیں، ان کے کاموں کی نقل کرتے ہیں ۔ اگر یہی عمل ہم صحابہ کرام ؓ کی زندگیوں سے سیکھیں یعنی وہ اپنے ربّ کی بندگی کس طرح بجالاتے تھے۔ اوررسول اللہ ﷺ سے ان کے تعلق کا معاملہ کیا تھا اور ہم اپنی زندگیوں کو ان کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق ڈھال لیں تو دنیا اور آخرت دونوں جگہ کامیابی و کامرانی ہمارا مقدر ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: shabbir Ibne Adil

Read More Articles by shabbir Ibne Adil: 87 Articles with 17499 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Feb, 2021 Views: 167

Comments

آپ کی رائے