سیلف کیتھیٹرائزیشن: ’ڈاکٹر نے ایسا طریقہ بتایا جس سے رفع حاجت پر کنٹرول حاصل ہوا، اب وہیل چیئر پر ہی بھرپور زندگی گزار رہی ہوں‘

 
’ڈاکٹرز نے گھر والوں کو واضح طور پر بتا دیا تھا کہ اب میں کبھی بیٹھ نہیں سکوں گی، سکول نہیں جا سکوں گی اور اپنے کپڑے بھی درست طریقے سے نہیں پہن سکوں گی مگر میں نے نہ صرف اعلیٰ تعلیم حاصل کی، پسند کی شادی کی، بہت اچھے ادارے میں نوکری کی بلکہ میں اب ایک مکمل اور بھرپور زندگی گزار رہی ہوں۔‘
 
صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی 40 سالہ فہمینہ پوری جس وقت ہمیں اپنی ’وہیل چیئر کے چیلینجز سے اپنے خوابوں کی تکمیل‘ تک کا سفر سُنا رہی تھیں تو ان کی آنکھوں میں عزم و حوصلے کی چمک واضح تھی۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ ہم اس وقت ایک مضبوط اور نامساعد حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے والی خاتون کے سامنے بیٹھے ہیں۔
 
وہ کہتی ہیں کہ ’ہر نوجوان لڑکی کی طرح اپنا کیرئیر بنانے کے لیے میں نے بھی بہت سے خواب دیکھ رکھے تھے مگر صرف چودہ سال کی عمر میں ایک ٹریفک حادثے میں میری ریڑھ کی ہڈی بُری طرح متاثر ہوئی۔ بظاہر مجھے کوئی چوٹ نہیں آئی تھی مگر میں اپنی ٹانگوں کو حرکت دینے سے قاصر تھی۔‘
 
فہمینہ کے مطابق اس حادثے کے بعد ڈاکٹرز نے اُن کے گھر والوں کو آگاہ کر دیا تھا کہ سپائنل کارڈ انجری یعنی ریڑھ کی ہڈی میں شدید چوٹ کے باعث اب وہ زندگی بھر چل پھر نہیں سکیں گی، مگر اس حقیقت سے فہمینہ خود آٹھ ماہ تک بے خبر رہیں۔
 
جب ایک دن انھیں اس حقیقت کا ادراک ہوا تو انھوں نے اس پر افسوس کرنے کے بجائے اپنے خوابوں کی تکمیل کی ٹھان لی۔
 
 
فہمینہ بتاتی ہیں کہ ’ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ کے باعث سب سے زیادہ چیز جو مجھے پریشان کرتی تھی وہ میرا یورین اور سٹول کی فیلنگ (یعنی رفع حاجت کے احساس) کا ختم ہو جانا تھا۔‘
 
’اس چوٹ کے باعث میں سہارے کے بغیر بیٹھ بھی نہیں سکتی تھی، ایکسیڈینٹ کے بعد میں بالکل ایسے ہو گئی تھی جیسے ایک دن کا بچہ۔‘
 
ان کے منہ سے یہ سب سنتے ہوئے اندازہ کرنا مشکل نہ تھا کہ کم عمری سے ہی وہیل چیئر پر بیٹھ کر زندگی کے چینلجز سے نمٹتی فہمینہ پوری کو یہ کامیابیاں طشتری میں رکھی نہیں ملی تھیں۔
 
منفی سماجی رویوں کے باوجود ناممکن کو ممکن بنانے کے سفر کی اس کہانی کو سناتے ہوئے انھوں نے ماضی کے چند مزید اوراق پلٹے۔
 
’اس معذوری کے ساتھ مجھے اپنے ان سارے خوابوں کو پورا کرنا تھا۔ مجھے اپنی امی کا بیٹا بن کے بھی دکھانا تھا جس کے لیے میں نے اپنے اندر بہت ساری ہمت پیدا کی اور میں نے کہا کہ میں ان لوگوں کو وہ سب کچھ کر کے دکھاؤں گی جو میرے ایکسیڈینٹ کے بعد یہ باتیں کرتے تھے کہ یہ اب کچھ نہیں کر سکتی ہے، یہ اب گھر کی چار دیواری میں رہے گی، کچھ اور نہیں کر سکے گی۔‘
 
’زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے رفع حاجت پر کنٹرول ضروری تھا‘
ڈاکٹرز کی جانب سے صاف جواب ملنے کے بعد فہمینہ کی والدہ نے ان کی صحت کی بحالی کی ٹھان لی اور انھیں خودمختار بنانے کے لیے دن رات ایک کر دیے۔ لیکن ریڑھ کی ہڈی کے نچلے حصہ پر چوٹ نے ان کے رفع حاجت کی ضرورت کے احساس کو مکمل طور پر ختم کر دیا تھا۔
 
’میں جب سکول جاتی تھی تو امی مجھے کپڑے کی نیپی باندھ کے بھیجتی تھیں۔ اس زمانے میں پیمپرز بھی نہیں تھے۔ کالج بھی ایسے ہی گزارا۔ زندگی کے تیرہ، چودہ سال میرے اسی جدوجہد میں لگے کہ مجھے کوئی ایسا طریقہ سکھا دے جس سے میرا یورین اور سٹول میرے کنٹرول آ جائے تاکہ میں زندگی میں آگے بڑھ سکوں، میں بہت سارے ڈاکٹرز کے پاس گئی مگر سب نے کہا کہ اس کا کوئی حل نہیں۔‘
 
 
اگرچہ یہ مسئلہ اپنی جگہ موجود رہا مگر فہمینہ آگے بڑھتی گئیں یہاں تک کہ اکنامکس میں ماسٹرز کرنے کے بعد انھوں نے ورلڈ بینک میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا اور یہاں فہمینہ کو اپنی زندگی کے بڑے مسئلے کا حل ملا۔
 
اور اس مسئلے کا حل دیا امریکہ سے آنے والی ایک کنسلٹنٹ نے جو خود بھی وہیل چیئر یوزر تھیں۔
 
انھوں نے فہمینہ کو ایک ٹیوب کے ذریعے مثانہ خالی کرنے کے عمل یعنی ’سیلف کیتھیٹرائزیشن‘ سے متعارف کروایا۔
 
’میں نے سیلف کیتھیٹرائزیشن کرنا سیکھی جو خود ایک مشکل عمل تھا۔ اس میں خود سے ایک پائپ کے ذریعے مثانہ خالی کرنا ہوتا ہے۔ اس کو سیکھنے میں مجھے چھ ماہ لگے مگر شکر ہے کہ اس سے میری زندگی بہت آسان ہو گئی۔ اب مجھے پتا ہوتا ہے کہ ہر چار گھنٹے بعد مجھے واش روم جانا ہے۔ کموڈ پر بیٹھ کر مثانہ خالی کرنا ہے اور باہر آنے سے پہلے دوبارہ مناسب حالت میں خود کو لانا ہے۔‘
 
فہمینہ کے مطابق سیلف کیتھیٹرائزیشن سیکھنے کے بعد ان کا رفع حاجت کا مسئلہ بھی آسان ہوتا گیا۔
 
’سیلف کیتھیٹرایزیشن میں انفیکشنز کا خطرہ کم مگر تربیت کے بغیر کرنا رسک ہے‘
ماہر امراض نسواں ڈاکٹر رباب بانو کے مطابق ایسی خواتین جن کو بڑھتی عمر میں پٹھے کمزور پڑنے یا دیگر عارضوں کے باعث پیشاب پر کنٹرول نہ رہے یا خصوصاً وہیل چیئر باؤنڈ ملازمت پیشہ خواتین جن کو آفس جا کر کام کرنا ہو ان کے لیے ’انڈویلنگ یورینری کیتھیٹڈرل‘ تجویز کیا جاتا ہے۔
 
’اس عمل میں مریض کو اپنا مثانہ خود خالی کرنا سکھایا جاتا ہے جس سے ان کا طرز زندگی بہتر ہوتا ہے۔ اس طریقہ میں متاثرہ شخص کو خود ایک ٹیوب پیشاب کی نالی میں داخل کر کے مثانے کو خالی کرنا ہوتا ہے۔ اس عمل کو ہر تین سے چار گھنٹے بعد دہرانا ہوتا ہے۔‘
 
ڈاکٹر رباب بانو کے مطابق وہیل چیئر باؤنڈ افراد اس میں زیادہ آرام محسوس اس لیے بھی کرتے ہیں کہ ڈویلنگ کیتھیٹڈرل کے برعکس یورین بیگ ساتھ لے کے نہیں گھومنا ہوتا اور مریض سماجی طور پر شرمندگی محسوس نہیں کرتا اور روز مرہ کی زندگی نارمل طریقے سے گزارنے میں مدد ملتی ہے۔
 
’مثانے کے اندر رکھے جانے والے ڈویلنگ کیتھیٹڈرل کے برعکس سیلف کیتھرائزیشن زیادہ محفوظ طریقہ ہے جس میں انفیکشن کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔ تاہم اس کو باقاعدہ تربیت کے بغیر استعمال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ خواتین میں پیشاب کی نالی بہت تنگ اور چھوٹی ہوتی ہے اور بے احتیاطی یا نا تجربہ کاری کے باعث زخم کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس کو استعمال کرنے کے لیے بہت تربیت اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے اور ہائی جین یعنی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھنا ہوتا ہے تاکہ انفیکشنز سے محفوظ رہا جا سکے۔‘
 
’جس دن موٹر وے پر گاڑی چلائی، ایسا لگا کہ میں نے دنیا فتح کر لی ہے‘
زندگی کو اپنی پسند کے ڈھب پر لانے کے بعد فہمینہ نے اپنے دیگر خوابوں کی تکمیل کی جانب قدم بڑھائے۔
 
 
حادثے سے قبل سائیکل چلانے اور ’دیواریں ٹاپنے‘ کی شوقین فہمینہ کو اب گاڑی چلانا سیکھنی تھی جو شوق ہی نہیں اب ان کی ضرورت بھی تھا۔
 
اور دوسرا خواب تھا کامیاب ازدواجی زندگی اور فیملی کی تکمیل کا، فہمینہ نے اپنی محنت اور لگن سے یکے بعد دیگرے جو چاہا، وہ پا لیا۔
 
’شادی سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کیا تو ڈاکٹر نے کہا کہ شادی تو آپ کر رہی ہیں مگر شاید آپ کا حمل نہ ٹھہر سکے کیونکہ نچلے دھڑ میں کسی حرکت کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ لیکن شکر ہے کہ شادی کے ایک ماہ بعد ہی میں حاملہ ہو گئی اور آج میں اپنی فیملی اپنے شوہر اور اپنی بیٹی کے ساتھ ایک کامیاب زندگی بسر کر رہی ہوں۔‘
 
’ڈرائیونگ کرنے کا مجھے بہت شوق تھا، اور وہ شوق میں نے شادی کے بعد پورا کیا۔ شادی کے بعد میرے شوہر نے خود مجھے گاڑی چلانا سکھائی۔ ہم نے آٹو گاڑی لی اس کو ہینڈ کنٹرول کیا، پہلی بار میں نے جب موٹر وے پر گاڑی چلائی تو مجھے لگا کہ میں نے دنیا فتح کر لی ہے کیونکہ یہ بہت بڑا میرا خواب تھا جو پورا ہوا۔‘
 
معذوری سے جڑے لوگوں کے منفی رویوں کو ’آگے بڑھنے کی طاقت بنایا‘
زندگی کی کایا پلٹا دینے والے حادثے کے بعد جہاں فہمینہ کی والدہ نے مسلسل آگے بڑھنے کا حوصلہ فراہم کیا وہیں وہ اس مشکل وقت میں منفی سماجی رویے بھی مسلسل ان کے آڑے آتے رہے مگر فہمینہ نے عام لوگوں کے برعکس ان حوصلے شکن رویوں کو اپنی طاقت بنا لیا۔
 
’میرے حادثے کے کچھ ماہ بعد میرے والد برین ہیمبرج سے وفات پا گئے تھے۔ تعزیت کرنے والے عزیز رشتہ دار اظہار افسوس کے دوران والدہ سے میری معذوری اور آنے والی زندگی کی مشکلات کی تصویر کھینچتے ہوئے کہتے کہ ’تین بیٹیوں میں سے ایک معذور ہو گئی جس کی شادی بھی نہیں ہو گی۔‘
 
’اس طرح کے الفاظ مجھے بہت چبھتے تھے تاہم لوگوں کے ان منفی رویوں سے گھبرانے کے بجائے میں نے اسی کو اپنی طاقت بنایا اور زندگی میں آگے بڑھتی گئی۔‘
 
اپنی کامیاب ازدواجی زندگی کے بارے میں فہمینہ کا کہنا تھا کہ جب شادی ہو بھی رہی تھی تو انھیں ڈر بھی تھا کہ پتا نہیں ان کے سسرال والے بھی انھیں قبول کریں گے کہ نہیں کریں گے، یا وہ دلہن بن کے لوگوں کے سامنے کیسے جائیں گی۔
 
 
تاہم انھیں اپنے شوہر پر مکمل اعتماد تھا جو خود معذور افراد کی صحت اور طرز زندگی کی بحالی پر کام کرتے ہیں۔
 
’شادی کے بعد میں اپنے شوہر کے ساتھ مل کر ایسے افراد کی کاؤنسلنگ اور مدد کرتی ہوں جو کسی حادثے کے باعث معذوری کا شکار ہو گئے ہوں تاکہ وہ اپنی زندگی نارمل طریقے سے گزار سکیں، اس مقصد کے لیے مختلف ہسپتالوں میں اپنے رابطہ نمبر بھی دیے ہوئے ہیں۔‘
 
فہمینہ نے اپنی زندگی کے مختلف ادوار پر بات کرنے کے بعد اپنی کہانی کو ان الفاظ میں سمیٹا۔
 
’میں نے اپنی معذوری کو خوش دلی سے قبول کیا اور پھر وہ سب کچھ کرنے کی ٹھان لی جو ایک نارمل یا عام انسان زندگی میں کرتا ہے۔ جب ہم اپنی معذوری کو قبول کر لیں گے تو پھر کوئی بھی چیز مشکل یا ناممکن نہیں ہو گی، لیکن شرط یہی ہے کہ آپ اپنے اندر خود کتنی ہمت اس کے لیے رکھتے ہیں۔‘
 
Partner Content: BBC Urdu
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
08 Feb, 2021 Views: 21723

Comments

آپ کی رائے