تجزیاتی و استدلالی مضمون میں فرق

(Saleem Ullah Shaikh, Karachi)
اسکول کی سطح پر جب مضمون نویسی میں استدلالی اور تجزیاتی مضمون کی بات آتی ہے تو عام طور سے دونوں کو ایک ہی سمجھا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں میں بہت کم فرق ہوتا ہے اور لوگ عام طور سے اس حوالے سے الجھن کا شکار ہوتے ہیں کہ استدلالی اور تجزیاتی مضمون میں آخر فرق کیا ہے؟دراصل تھوڑا سا لیکن بنیادی فرق ہوتا ہے جس کے باعث ہم ان کو الگ الگ شمار کرتے ہیں۔ اس کا جائزہ لیتے ہیں۔

تجزیہ:کسی چیز کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا اور تقسیم کرنا ، کسی مرکب کے اجزا کو الگ الگ کرنا جن سے اس کی ترکیب ہوئی ہے.
تجزیہ کرنا:اصل حقیقت کو جانتا ، آثار کردار علائم و قرائن کے ذریعے ماہیت و اصلیت کا معلوم کرنا .

استدلال :دلیل پیش کرنا ، سند لانا ؛ دلیل ، ثبوت ، بحث ۔
استدلالی : اِستدلال سے منسوب : استدلال کرنے والا ، استدلال پر یقین رکھنے والا ۔

ایک اور لغت کے مطابق استدلال کی تعریف:
استدلالinference کا لفظ سائنسی و احصائی مضامین میں کسی ایسے طریقۂ کار، عمل یا منطق کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ جب دلائل و اسناد کی بنیادوں پر کوئی نتیجہ اخذ کیا جا رہا ہو یا حاصل ہو رہا ہو؛ نتیجہ اخذ کرنے کا یہ کام انسانی بھی ہو سکتا ہے اور آلاتی (جیسے استدلالی محرکیہ (inference engine)) بھی ہو سکتا ہے ؛ یعنی اگر محض مشاہداتی یا نظر آنے والے عوامل کی بنیادوں پر نتائج اخذ کرنے کی بجائے منطق و شواہد و دلائل کو بنیاد بنایاجائے تو اسے استدلال کہتے ہیں۔۔
اوپر ہم نے دونوں کی لغت کے مطابق تعریف رکھی تاکہ آگے جو بات کی جائے وہ واضح ہوجائے۔اب دیکھیں کہ تجزیے میں ہم کسی بھی چیز، مضمون، ایجاد یا کسی کے بیان کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں اور اپنا حاصلِ مشاہدہ قارئین کے سامنے پیش کردیتے ہیں۔سمجھنے کی بات یہ ہے کہ تجزیہ کرنے والا اپنی جانب سے کوئی حتمی رائے قائم نہیں کرتا بلکہ وہ جو بات محسوس کرتا ہے یا سمجھتا ہے اس کو قارئین یا سامعین تک پہنچادیتا ہے اور نتیجہ اُن پر چھوڑ دیتا ہے۔آسان الفاظ میں کہ سکتے ہیں کہ تجزیہ کار غیر جانب دار ہوتا ہے۔اس کی مثال عام طور سے صحافی ہوتے ہیں ۔ وہ کسی شخصیت کے بارے میں کوئی بیان دینے یا رائے قائم کرنے کی بجائے اس کا فیصلہ سامع پر چھوڑتا ہے۔
اس کے برعکس استدلال یہ ہے کہ تجزیہ کرنے والاکوئی رائے قائم کرے اور پھر اس رائے کو مقدم جانے اور اس کے حق میں دلائل،ثبوت اور شواہد پیش کرے۔آسان الفاظ میں یوں کہ لیں کہ استدلال در حقیقت مباحثے کی صورت ہے جس میں تجزیہ کرنے والافریق یا وکیل ہوتا ہےاوروہ اپنے رائے یا موقف کا پُرزور دفاع کرتا ہے، اس کے حق میں دلائل فراہم کرتا ہے اور اس کے خلاف آنے والے موقف یا رائے کو بھی دلیل سے رد کرتا ہے۔عام طور سے تعلیمی اداروں( اسکول، کالج، یونیورسٹی ، مدارس) میں ہونے والے مباحثے دراصل استدلالی مضمون ہی ہوتے ہیں۔اس میں حصہ لینے والا اپنے موقف یا رائے کے حق میں دلائل دیتا ہے، شواہد اور اعداد و شمار(FACTS & FIGURES) فراہم کرتا ہے۔ اس طرح وہ وپنے موقف کو تقویت دیتا ہے۔ اگر وہ فریقِ مخالف کی رائے یا دلیل کو رد بھی کرتا ہے تو اس کے لیے بھی وہ جوابی دلیل پیش کرتا ہے۔اس لیے وہ استدلالی مضمون کی بہترین شکل ہوتا ہے۔
امید ہے کہ اس وضاحت کے بعد طلبہ و اساتذہ کی الجھن کافی حد تک دُور ہوجائے گی۔ لیکن اگر کوئی فرد سمجھتا ہے کہ یہ تعریف درست نہیں تو وہ ہماری اصلاح کردے۔ ہم اپنی رائے سےرجوع کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saleem Ullah Shaikh

Read More Articles by Saleem Ullah Shaikh: 525 Articles with 1091209 views »
سادہ انسان ، سادہ سوچ، سادہ مشن
رب کی دھرتی پر رب کا نظام
.. View More
08 Feb, 2021 Views: 217

Comments

آپ کی رائے