“ دوست آپ سے کیا توقعات رکھتے ہیں“؟ کیا اچھے انسان ہونے کی یہ خوبیاں آپ میں موجود ہیں؟

 
“شکل سے تو پڑھے لکھے تو لگتے ہو، تم سے اس بات کی امید نہیں تھی“
“کیا فائدہ ایسی تعلیم کا، پڑھ لکھ کر سب ڈبو دیا تم نے “
کہتے ہیں گدھے کے سر پر سو من کتابیں بھی لاد دو تو وہ انسان نہیں بن جاتا۔ یہی حال انسانوں کا بھی ہے۔ لوگ ڈگریاں تو پھر بھی لے لیتے ہیں لیکن اچھے انسان نہیں بن پاتے۔ جس کا نتیجہ اوپر بیان کئے گئے جملوں کی صورت میں نکلتا ہے۔ نیچے ہم بات کریں گے کہ اچھا انسان کیسا ہوتا ہے، ارد گرد کے لوگ اور دوست آپ سے کیا توقع رکھتے ہیں اور ایک تعلیم یافتہ شخص میں وہ کونسی خوبیاں ہونی چاہئیں جن کی بدولت وہ خود کو اچھا انسان ثابت کر سکے۔
 
1۔ اخلاق اچھا ہو
سب سے پہلی اور بنیادی چیز انسان کا اخلاق ہوتا ہے لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے اگر کوئی زیادہ تعلیم یافتہ ہے اس میں اتنا ہی نخرا اور غرور بھی ہوگا۔ اس طرح کا برا رویہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس انسان نے امتحان پاس کرنے اور ڈگری لینے کے لئے کتابیں تو پڑھ لیں لیکن ان کتابوں نے اس کی شخصیت میں کوئی فرق نہیں پیدا کیا۔ اخلاق اچھا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان بڑے چھوٹے میں فرق کئے بغیر سب کے ساتھ ایک جیسا اچھا سلوک کرے مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کسی ادارے کا مالک ہے اور اس کا ملازم اس سے بات کرنے سے اس لئے ہچکچاتا ہے کیونکہ وہ اس کی بے عزتی کرے گا یا اگر کوئی لڑکی اپنی ساس سے اس لئے بدتمیزی کرتی ہے کیونکہ وہ زیادہ پڑھی لکھی ہے تو ایسا اخلاق رکھنے والے لوگوں کو اچھا نہیں کہا جاسکتا۔
 
2۔ معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنا
ضروری نہیں کہ معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے کوئی بڑا کام ہی کیا جائے بلکہ ہم جہاں جس مقام پر ہیں وہیں کسی نہ کسی کے ساتھ بھلائی کر کے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ اگر اس سلسلے میں آپ چڑیا اور جانوروں کے لئے کھانے اور پانی کا انتظام بھی کررہے ہیں تو یہ بھی آپ کی شخصیت کا ایک اچھا پہلو ہے۔ اس کے علاوہ کسی غریب بچے کو تعلیم دینا یا پھر لکھنا پڑھنا سکھانا یہ سب وہ ایسے کام ہیں جن کے زریعے آپ اپنے ارد گرد بہتری لا سکتے ہیں۔
 
 
3۔ وہ عادتیں جو بظاہر معمولی ہیں لیکن سب میں نہیں ہوتیں
خواتین کے لئے خود آگے بڑھ کر دروازہ کھولنا، بغیر آواز کیے چلنا، کچرا نہ پھیلانا، اونچی آواز میں گفتگو نہ کرنا اور ایسی بہت سی عادتیں ہیں جو ویسے تو چھوٹی لگتی ہیں لیکن ان کا خیال سب کو نہیں ہوتا۔ اس لئے اپنے آپ کو ہر دلعزیز بنانے کے لئے چھوٹی چھوٹی اچھی عادتیں ضرور اپنائیں۔
 
4۔ کھانا کھانے کے آداب کا خیال
کھانے کی میز اچھے اچھوں کی شخصیت تباہ کر سکتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ کھانا کھانے کے آداب پر غور نہیں کرتے۔ کچھ لوگوں کو منہ کھول کر کھانا کھانے کی عادت ہوتی ہے تو کوئی چائے بلند آواز سے پیتا ہے اور کوئی چمچ اور کانٹے سے باقاعدہ موسیقی ہی بجانے لگتا ہے جو ساتھ بیٹھے افراد کو برا لگ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کھانے کی میز پر بلاوجہ نخرے کرنا، ڈکار لینا اور مسلسل بولنا بھی بدتمیزی سمجھا جاتا ہے۔
 
5: لوگوں سے ان کے مطابق بات چیت
اچھے لوگوں کی ایک خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں سے ان کی عمر اور پسند کے حوالے سے بات کر سکتے ہیں۔ جیسے بچوں سے وہ ان کے اسکول اور مشاغل پر بات کریں اور نوجوانوں سے ان کے مسائل اور کھیل کود پر اس کے علاوہ ایک بڑی خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کی بھی سنتے ہیں اور ان کے نقطئہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے موضوعات جن کے لئے سامنے والے کی رائے مختلف ہو اس سے پرہیز کرتے ہیں اور لوگوں پر اپنی رائے نہیں تھوپتے۔
 
 
6۔ صفائی ستھرائی کا خیال
بے شک آپ کتنے ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ کیوں نہ ہوں اگر آپ کے ناخن بڑھے ہوئے اور گندے ہیں یا آپ کے کپڑوں اور موزوں میں سے بد بو آرہی ہے یا دانتوں صاف نہیں ہیں تو یاد رکھیں یہ وہ چیزیں ہیں جن کی لوگ یہاں تک کے آپ کے قریبی دوست اور گھر والے بھی آپ سے بد دل ہوسکتے ہیں اس لئے صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا آپ کی اولین ترجیح ہونی چاہئیے۔
 
7۔ برادشت کا مظاہرہ
غصہ، اپنے خلاف منفی باتیں برداشت کرنا اور صبر کرنا بھی اچھے لوگوں کا وصف ہے کیونکہ ان کی ہی جگہ اگر کوئیبد تمیز ہوگا تو لڑے گا، شور مچائے گا یا گالیاں دے گا اور عام لوگوں کے لئے یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہوگی کیونکہ وہ صبر اور برداشت کی توقع صرف اچھے لوگوں سے رکھتے ہیں۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
22 Feb, 2021 Views: 1932

Comments

آپ کی رائے