“کوئی حکومت کا پیارا تو کوئی اپوزیشن کا دُلارا“ وہ صحافی جنہوں نے صحافت کو بھی تقسیم کردیا

 
جب بات ریٹنگ کی ہو تو تکرار کسی حد مناسب لگتی ہے لیکن جب صحافت کی شفافیت پر سوال اٹھنے لگیں تو ساتھ عوام کا بھروسہ بھی اٹھنے لگتا ہے۔ پہلے ٹی وی دیکھنے کے لئے اپنی پسند کے موضوع اور میزبان تلاش کیے جاتے تھے اب حال یہ ہے چینل بھی منتخب کرنے پڑتے ہیں۔ خبروں کے چینل جنہیں صحافت کا معیار قائم رکھنے کے لئے غیر جانبدار ہونا چاہیے ایسا لگتا ہے اپنے اپنے مفاد اور فلسفے کے تحت ہی کام کرہے ہیں۔ ہمارے آج کے چینل دو گروہوں میں بٹ چکے ہیں۔ ایک گروہ وہ جو حکومتی پالیسی کو صحیح مانتا ہے اور دوسرا وہ جو ہر حال میں حکومتی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ حکومت کی پالیسی پر تنقید صرف اس صورت میں مناسب ہے اگر وہ ذاتی پسند نہ پسند سے ہٹ کر عوام کے اجتماعی مفاد میں ہو۔ لیکن کیا ہمارا میڈیا صحافت کے اصولوں پر پورا اترتا ہے؟
 
اچھی صحافت
ایک اچھی صحافت غیر جانب دار اور کسی فائدے نقصان اور دباؤ کی پرواہ کیے بغیر ہوتی۔ دنیا بھر میں اعلیٰ صحافت کے جو معیار مقرر کیے گئے ہیں ان کے مطابق ایک صحافی کو سچ بولنے والا ہونا چاہیے اور اپنی بات کے ساتھ دلیل بھی پیش کرنی چاہیے اس کے علاوہ ایک صحافی کے لئے ضروری ہے کے اس کا احتساب کیا جائے۔
 
حزبِ اختلاف میں حکومت پر تنقید کرنے والا صحافی حکومت میں آتے ہی برا کیوں لگتا ہے؟
ایسا صحافی جو سچ بولنے کی جرات رکھتا ہو وہ ان سیاستدانوں کا پسندیدہ ہوتا ہے جو حزبِ اختلاف میں موجود ہوتے ہیں۔ اور بعد میں اگر وہ سیاستدان حکومت کا حصہ بن جائے اور وہی صحافی ان کی حکومت پر تنقید کرے تو پھر حکومت اسے نا پسند کرنے لگتی ہے-
 
 
صحافت کے ساتھ حکومت کا غیر جانبدار رہنا بھی ضروری ہے
دنیا بھر میں سیاستدانوں کی طرف سے کوئی ایسی پابندی نہیں ہوتی جن سے سوال جواب کرنے یا تنقید کرنے میں صحافیوں کو رکاوٹ کا سامنا ہو۔ نا ہی حکومت پسندیدہ اور نا پسندیدہ صحافیوں کے حوالے سے کوئی بات کرتی ہے۔ گزشتہ دنوں تحریکِ انصاف کے تصدیق شدہ ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایسے صحافیوں کی فہرست جاری کی گئی تھی جو حکومت کے حق میں اور دوسری فہرست ان صحافیوں کی جاری کی گئی جو حکومت کے خلاف بیان دیتے ہیں۔ اگرچہ بعد میں یہ فہرستیں ڈیلیٹ کر دی گئیں تھیں لیکن یہ ایک نامناسب رویہ تھا۔
 
جانبدار صحافیوں کے گروہ
پہلا گروہ ان صحافیوں کا ہے جو ہر حال میں حکومت کی تائید کرنا فرض سمجھتے ہیں اس گروہ میں کامران خان، کاشف عباسی، عمران ریاض خان، صابر شاکر وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں اگر ہم کامران خان کی بات کریں تو ان کے پہلے اور آج کے مؤقف میں زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ جو کامران خان حکومت پر تنقیدی تجزیہ دیا کرتے تھے اب وہ آسمان کو چھوتی مہنگائی کو "خوشخبری" قرار دیتے ہیں۔ ٹوئیٹ ملاحظہ کیجئے
 
 
دوسرے گروہ میں حامد میر، شاہزیب خانزادہ، عاصمہ شیرازی اور سلیم صافی کے نام نمایاں ہیں اور یہ وہ صحافی بھی ہیں جن کے نام پی ٹی آئی کی نا پسندیدہ صحافیوں کی فہرست میں شامل تھے۔
 
ایک اور بات یہ بھی ہے کہ مخصوص نکتہ نظر رکھنے والے صحافیوں کی سرپرستی کرنے والے چینل بھی ایک ہی نظریے کو پروان چڑھاتے دکھائی دیتے ہیں جیسے حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں کا تعلق زیادہ تر جیو سے ہوگا- اسی طرح گورنمنٹ کی تعریف اور ہاں میں ہاں ملانے والے صحافیوں کا تعلق اے آر وائی یا بول سے ہوتا ہے۔
 
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
24 Feb, 2021 Views: 1512

Comments

آپ کی رائے