مادری زبان ترقی کی ضامن

(Sarah Omer, Saudi Arab)

مادری زبان ہمارا قیمتی اثاثہ ہے-یہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ راہ ہموار کرنے کا ذریعہ ہے - زبان کی بات کرتے ہیں کہ وہ ہے کیا؟ زبان ہمارے احساسات کو بیان کرنے کا ایک ذریعہ ہے-انگریزی زبان ایک بین الاقوامی زبان ہے-جو کہ ساری دنیا میں سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے-یعنی بالفرض آپ دوران سفر کسی ملک میں جاتے ہیں جہاں کی زبان آپ کو نہیں آتی تو دیگر افراد کو اپنی بات سمجھانے کے لیے ایک بین الاقوامی زبان کا سہارا لیں گے تاکہ مدمقابل کو اپنا مدعا سمجھا سکیں-چلیں فرض کر لیجیے کہ اسے بھی انگریزی نہیں آتی تو کیا آپ اس شخص کے اوپر ناکام شخص ہونے کا ٹھپہ لگا دیں گے؟ ہرگز نہیں، انگریزی نہ بول سکنے والا ضروری نہیں کہ کوئی ناکام شخص ہو بلکہ کئی ترقی یافتہ ممالک کے لوگ اپنی قومی زبان کو ہر زبان پہ ترجیح دیتے ہیں-

فرانس کے رہنے والے آج بھی انگریزی زبان بولنے والے کو اپنی ہی زبان میں جواب دیتے ہیں-وہاں رہنے والوں کو خصوصاً یہ زبان سیکھنی پڑتی ہے-دنیا میں دوسری سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان چائنیز ہے-چینیوں نے اپنا تمام نصاب اپنی مادری زبان میں تشکیل دیا اور اسی زبان میں اتنی ترقی کی کہ دیگر ممالک کے افراد کو یہ زبان سیکھنی پڑی-ترکی میں بھی زیادہ توجہ اپنی زبان پہ دی جاتی ہے-اس کا اندازہ مشہور اداکار جنہوں نے أرطغرل کا کردار نبھایا کے حالیہ دورے سے ہوتی ہے-جو انگریزی نہ بول سکنے پہ نہایت سکون سے اپنی مادری زبان میں جواب دینے لگے-
سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں

جی ہاں، ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو زبان بول سکتے ہیں اور اسے زندہ رکھنے کے لیے دل و جاں سے کوشاں ہیں-اردو ہماری مادری زبان ہے-اس میں دیگر زبانوں کے بھی الفاظ شامل ہیں جبھی اسے لشکری زبان کہا جاتا ہے-اردو بی حد پیاری اور میٹھی زبان ہے-اس کا ایک لفظ ''آپ'' ہی اتنا خوبصورت ہے کہ اس کا مقابلہ انگریزی کا ''یو'' نہیں کر سکتا-

اپنی مادری زبان میں ترقی کی بات کی جائے تو یہ اہل وطن کو مذاق لگتا ہے مگر کوئی شک نہیں کہ اپنی زبان میں ترقی ممکن ہے-بالکل اسی طرح جیسے انگریزوں نے مسلمانوں کے مشہور سائنسدان، فلسفہ نگاروں، مفکرین کی کتب کا انگریزی میں ترجمہ کر کے ان کا تمام علم اپنی زبان میں منتقل کیا بلکہ اسی طرح ہم بھی انگریزی اور عربی کی کتب کا اپنی زبان میں ترجمہ کر کے یہ علم اپنے ہم وطنوں تک منتقل کر سکتے ہیں-

وہ اردو جسے ہر پاکستانی بآسانی بول اور سمجھ سکتا ہے، وہ اس دنیا کی تیسری سب سے بولی کانے والی زبان بن چکی ہے-کیا کہا؟ کہ میں غلط ہوں ہرگز نہیں ذرا دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانی والی پانچ زبانوں کے نام تلاش کیجیے تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ اتنے عرب ممالک ہونے کے باوجود عربی زبان چھٹے نمبر پہ موجود ہے حالانکہ یہ ایک قدیم زبان ہے اور مسلمانوں کی آخری کتاب قرآن پاک بھی اسی زبان میں نازل کیا گیا-تمام احادیث، فقہ، وغیرہ بھی اسی زبان میں موجود ہے جس کا ہر زبان میں ترجمہ کیا گیا مگر اس کے باوجود ہندی نے تیسرا درجہ حاصل کر لیا ہے-جب ہندوستان اپنی فلموں کے ذریعے ساری دنیا میں ہندی زبان جو کہ بولنے میں قریباً اردو کی طرح ہے رائج کر سکتا ہے تو کیا ہم اردو زبان میں ترقی نہیں کر سکتے؟ کر سکتے ہیں بالکل کر سکتے ہیں مگر وہ کہتے ہیں نا کوا چلا ہنس کی چال تو اپنی چال بھی بھول گیا، ہم بھی یورپ کی اندھی تقلید میں اپنی زبان کو بھول چکے ہیں-
اردو ہے جس کا نام سبھی جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

افسوس صد افسوس، جس زبان کی سارے جہاں میں دھوم تھی آج اس زبان کو اپنے ملک والے ہی ٹھیک سے لکھ، پڑھ اور بول نہیں سکتے-شاید یہ ہماری غفلت ہے کہ روزمرہ زبان میں انگریزی الفاظ کی اس قدر ملاوٹ ہے کہ ہم باورچی خانے کو کچن، بیت الخلا کو باتھ روم، کمرے کو روم، ڈاک خانے کو پوسٹ آفس کہتے ہیں-استاد ٹیچر ہو گیا تو طالب علم بھی اسٹوڈنٹ کہلانے لگے-صدر پریذیڈنٹ بن گیا تو وزیراعظم پرائم منسٹر کہلانے لگے-ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں شاور اور کموڈ کو اردو میں کہتے کیا ہیں تو بھلا ہمارے بچوں کو ان چھوٹے چھوٹے الفاظ کی اردو بھی کیسے پتہ چلے-قصور مجھ سمیت تمام طلبہ، اساتذہ اور والدین کا ہے جو اردو کا جنازہ نکلتے دیکھ رہے ہیں مگر خاموش ہیں کہ اردو کا جنازہ ہے زرا دھوم سے نکلے-
مرے بچوں میں ساری عادتیں موجود ہیں میری
تو پھر ان بد نصیبوں کو نہ کیوں اردو زباں آئی

جب ہم سب عادات اپنے والدین سے لے سکتے ہیں تو اردو بولنے کی عادت کیوں نہیں؟

آج ترقی کی اندھی دوڑ میں ہمارے بچے منہ تیڑھا کر کے انگریزی کے چار لفظ بول لیں تو انہیں شاباش دی جاتی ہے-اچھے اسکول میں داخلہ بھی مل جاتا ہے اور اچھے نمبروں سے کامیاب ہونے کی ضمانت بھی-جماعت میں واہ واہ کی جاتی ہے اور نوکری کے وقت بھی فوراً ایسے شخص کو ترجیحی بنیادوں پر نوکری کی پیشکش کی جاتی ہے-انگریزی کو ہی ذہانت کی علامت سمجھ لیا گیا ہے-حالانکہ ایسا بالکل نہیں-ذہانت اور زبان کا آپس میں باہمی تعلق نہیں-

اگر آج ہی سے ہم عہد کریں کہ ہم اپنی قومی زبان بولنے اور اس میں زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو کون ہے جو ہمیں روک سکتا ہے-اپنے آپ کو اس قابل بنایا جائے کہ پاکستان آ کر غیر ملکی یہ زبان سیکھیں اور ہم سے ہماری زبان میں گفتگو کریں نہ کہ ہم مغربی ممالک کی تقلید میں خود اپنی اقدار، روایات، ثقافت اور اثاثہ جات کو فراموش کر دیں-
آخر میں فقط اتنا ہی کہوں گی
چرچا ہر ایک آن ہے اردو زبان کا?
گرویدہ کل جہان ہے اردو زبان کا
اس لشکری زبان کی عظمت نہ پوچھیے
عظمت تو خود نشان ہے اردو زبان کا
گم نامیوں کی دھوپ میں جلتا نہیں کبھی
جس سر پہ سائبان ہے اردو زبان کا
مشرق کا گلستاں ہو کہ مغرب کا آشیاں
ویران کب یہ مکان ہے اردو زبان کا
سوداؔ و میرؔ و غالبؔ و اقبالؔ دیکھ لو
ہر ایک پاسبان ہے اردو زبان کا
اردو زبان میں ہے گھلی شہد کی مٹھاس
لہجہ بھی مہربان ہے اردو زبان کا
ترویج دے رہا ہے جو اردو زبان کو
بے شک وہ باغبان ہے اردو زبان کا
مہمان کہہ رہا ہے بڑا خوش نصیب ہے
جو شخص میزبان ہے اردو زبان کا
یہ ارضِ پاک صورتِ کشتی ہے دوستو!
اور اس میں بادبان ہے اردو زبان کا
لوگو! کہیں بھی اس میں پس و پیش کچھ نہیں
اک معترف جہان ہے اردو زبان کا
بولی ہے رابطے کی یہی جوڑتی ہے دل
ہر دل میں ایسا مان ہے اردو زبان کا
روشن ہے حرف حرف مفہوم اس کا آفریں
شیریں سخن بیان ہے اردو زبان کا
وسعت پذیر دامنِ اردو ہے آج بھی
ہر گوشہ اک جہان ہے اردو زبان کا
کرتا ہے آبیاری لہو سے ادیب جو
وہ دل ہے، جسم و جان ہے اردو زبان کا
آئیں رکاوٹیں جو ترقی میں اس کی کچھ
سمجھو یہ امتحان ہے اردو زبان کا
پائے گا جلد منزلِ مقصود بالیقیں
جاری جو کاروان ہے اردو زبان کا
عزت سخنورانِ ادب کی اسی سے ہے
شاعرؔ بھی ترجمان ہے اردو زبان کا
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sarah Omer

Read More Articles by Sarah Omer: 7 Articles with 1196 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Feb, 2021 Views: 109

Comments

آپ کی رائے