“ ابھی شوہر کو کو مرے ہوئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں اور “… کیا عورت کو بیوہ ہونے کے بعد دوسری شادی کا حق نہیں؟

 
“ہم آپ کی بیوہ بیٹی کو بہو بنانے کے لئے تیار ہیں مگر اس کے بچوں کو ہم نہیں اپنا سکتے“
 
صادقہ نے رافعہ سے کہا جو اپنی بیوہ بیٹی کی دوسری شادی کروانا چاہتی تھی
 
“کیا بچوں کو ماں سے دور کرنا ظلم نہیں ہوگا؟ آخر اتنے چھوٹے بچے ماں سے دور کیسے رہیں گے؟  رافعہ نے بلبلا کر کہا
 
صادقہ : دیکھیں بہن میں آپ کی بات سمجھ سکتی ہوں لیکن آپ بھی ہمارا مسئلہ سمجھیں ہمارا بیٹا کنوارا ہے جب کہ آپ کی بیٹی دو بچوں کی ماں لیکن پھر بھی ہم آپ کی بیٹی اپنا رہے ہیں۔ آخر ہم رشتے داروں کو کیا منہ دکھائیں گے کہ ایسا کونسا لڑکیوں کا کال آپڑا تھا جو بیوہ سے شادی کے ساتھ اس کے بچے بھی پالنے پڑ رہے ہیں۔
 
صادقہ کی بات تلخ سہی مگر سچ تھی۔ رافعہ جانتی تھیں ان کی بیٹی کبھی بھی بچے نانی کے پاس چھوڑ کر دوسری شادی کے لئے تیار نہیں ہوگی اس لئے وہ اب مایوس ہوگئی تھیں۔
 
رافعہ کے دو بچے تھے ایک بیٹا جواد اور ایک بیٹی صبا جس کی تعلیم مکمل ہوتے ہی انھوں نے شادی کردی تھی۔ صبا اپنے شوہر احسن کے ساتھ بہت خوش تھی۔ دو بچوں نے صبا اور احسن کی زندگی مکمل کردی تھی مگر جانے کس کی نظر لگ گئی۔ ایک دن دفتر سے گھر آتے ہوئے احسن کی گاڑی کی ٹکر ایک ٹرک سے ہوگئی اور اس نے موقع پر ہی دم توڑ دیا۔ احسن کے جاتے ہی صبا کی زندگی سے خوشیوں کے تمام رنگ بھی چلے گئے۔ گزرتے وقت کے ساتھ صبا نے تو خود کو سنبھال لیا لیکن حالات تھے کہ کسی طرح سنبھلنے میں نہیں آتے تھے۔
 
 
بچوں کے تعلیمی اخراجات، گھر کا خرچہ اور بچوں کی چھوٹی موٹی فرمائشیں پوری کرنے کے لئے صبا نے نوکری تلاش کرنی شروع کردی لیکن بچے اپنی پچھلی زندگی کی آسائشیں نہیں بھول پارہے تھے۔ وہ اتنے چھوٹے تھی کہ ان کو زندگی کی باریکیاں سمجھانا ممکن نہیں تھا۔ اوپر سے گھر سے باہر نکلتے ہی صبا پر مصیبتوں کا نیا دور شروع ہوگیا۔ ہر چند کہ وہ بیوہ ہوچکی تھی لیکن اس کی عمر ابھی کم تھی اور خدا نے اسے حسن کی دولت سے بھی خوب نوازا تھا اس لئے جب ہر راہ چلتی نظر نے صبا کا پیچھا کرنا شروع کیا تو صبا کی امی نے بیٹی کی دوسری شادی کے لئے کوششیں شروع کردیں- لیکن یہاں صبا نے شرط رکھ دی کہ وہ دوسری شادی اسی صورت میں کرے گی جب کوئی مرد اس کے بچوں کو بھی اپنائے گا۔
 
یہ کہانی صرف صبا کی نہیں بلکہ ہر اس لڑکی کی ہے جو ہمارے معاشرے میں بیوہ ہوجاتی ہے۔ یوں تو ہمارے معاشرے میں بیواؤں کے حقوق کے بہت بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، ہمارے مذہب میں بھی بیوہ سے نکاح کا بہت ثواب رکھا گیا ہے مگر ایک عورت کو بیوہ ہونے کے بعد کن مسائل سے گزرنا پڑتا ہے اور ان کا سدِباب کس طرح کیا جاسکتا ہے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
 
مالی پریشانیاں کوئی نہیں بانٹتا
ایک بیوہ خاتون پر سب سے بڑی مصیبت تب آتی ہے جب اس کے اخراجات اٹھانے والا کوئی نہیں رہتا۔ بھلے شوہر کے ساتھ اس نے کتنا ہی اچھا وقت دیکھا ہو اس کے دنیا سے جاتے ہی سب بدل جاتا ہے۔ اور یہ وہ وقت بھی ہوتا ہے جب اپنے بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ بیوگی کے بعد نہ تو سسرال والے ساتھ دیتے ہیں اور نہ ہی میکے والے۔
 
جھوٹی ہمدردی کرنے والے
اگر کوئی خاتون جوانی میں بیوہ ہوگئی ہیں تو آس پاس کے لوگ، محلے اور بد نیت رشے دار جھوٹی ہمدردیاں جتا کر خاتون کی توجہ سمیٹنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ اگر خاتون اپنے گھر کی پریشانیاں کم کرنے کے لئے ملازمت کا راستہ اختیار کرتی ہیں تو اس عمل کو بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا اور اس کو محض خاتون کی سیر و تفریح کا خطاب دے کر ہر موقع پر پریشان کیا جاتا ہے۔
 
 
ابھی شوہر کو مرے دن ہی کتنے ہوئے ہیں اور۔۔۔ دوسری شادی پر طنز
کوئی عورت اپنی خوشی سے بیوہ نہیں ہوتی۔ لیکن معاشرہ بیوگی کے بعد عورت سے ایسا ہی سلوک کرتا ہے جیسے اس نے اپنی مرضی سے بیوگی کی چادر اوڑھی ہو۔ اگر مرد کی بیوی بڑھاپے میں بھی مرجائے تو لوگ فوراً دوسری شادی کا مشورہ دے ڈالتے ہیں لیکن اگر عورت جوانی میں بھی دوسری شادی کرنا چاہے تو طعنے دے دے کر اس کا جینا دوبھر کردیتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر خاتون کے بچے بھی ہوں تو بچوں کے ذریعے بھی ماں پر ذہنی دباؤ ڈالا جاتا ہے۔
 
اسلام بیوہ خواتین کے بارے میں کیا کہتا ہے؟
اگر اسلام کی روشنی میں دیکھا جائے تو بیوہ خواتین سے نکاح کو بہت فضیلت دی گئی ہے۔ خود حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ و علیہ وآلہ وسلم نے پہلی شادی ایک بیوہ خاتوں حضرت خدیجہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ سے کی اور پچیس سال تک کوئی دوسرا نکاح نہ کر کے یہ پیغام دیا کہ خوبصورت شادی شدہ زندگی گزارنے کے لئے عورت کا پہلے بیوہ یا طلاق یافتہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس کے بعد بھی حضرت محمد صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم نے آٹھ بیوہ خواتین سے نکاح کر کے بیوہ خواتین سے نکاح کو فروغ دیا تاکہ ان کو سہارا اور کفالت کے لئے کسی کا محتاج نہ ہونا پڑے۔ لیکن ایسی خاتون جو بچوں کی پرورش کے باعث دوبارہ شادی نہیں کرنا چاہتیں تو ایسی خواتین کے لئے بھی اسلام میں بڑا اجر ہے۔ ایک حدیثِ مبارکہ ہے کہ “قیامت کے دن سب سے پہلے میں جنت کا دروازہ کھلواؤں گا تو دیکھوں گا کہ ایک عورت مجھ سے پہلے اندر جانا چاہتی ہے۔ میں اس سے پوچھوں گا کہ تم کون ہو؟ وہ کہے گی میں ایک بیوہ عورت ہوں، میرے بچے یتیم تھے“۔
 
جبکہ یتیم بچوں کے لئے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ “تو تم بھی یتیم پر سختی نہ کرنا اور مانگنے والے کو جھڑکی نہ دینا اور اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرتے رہنا۔‘‘ (سورۃ الضحی)ٰ
 
 
ہم کس طرح بہتری لا سکتے ہیں
معاشرے میں بیوہ خواتین اور یتیم بچوں کی کمی نہیں۔ ہم اگر اپنے مزاج میں تھوڑی تبدیلی پیدا کرلیں تو ایسے مجبور اور بے سہارا افراد کی مدد کر کے ان کو اچھی زندگی کی طرف گامزن کرسکتے ہیں۔ بیوہ خواتین اگر نکاح کرنا چاہیں تو غیر ضرورت رسم و رواج میں قید کرنے کے بجائے سیرتِ نبوی کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان کا عقد ثانی کروادینا چاہیے۔ کوئی مرد اگر بیوہ خاتون کے ساتھ ان کے بچوں کی کفالت اور نگہداشت کی ذمہ داری بھی اٹھانا چاہے تو یہ ایک بہت بڑی نیکی ہوگی۔ حدیثِ مبارکہ ہے کہ “جس نے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے کسی یتیم کے سر پھر ہاتھ پھیرا تو اس کا ہاتھ جتنے بالوں پر سے گزرے گا، اس کو اتنے بالوں کے بقدر نیکیاں ملیں گی اور جس نے یتیم بچے یا بچی کے ساتھ احسان کیا تو میں اور وہ جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح ہوں گے“ ( ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا)۔
 
اس کے علاوہ اگر خاتون شادی نہیں کرنا چاہتیں تو بھی ان کے فیصلے کی عزت کرنی چاہیے اور طنز و تحقیر کا رویہ نہیں اپنانا چاہیے۔ یہ یاد رکھیں ہم اس دنیا میں صرف آسانیاں پھیلا کر بھی بہت بڑی تبدیلی کا آغاز کرسکتے ہیں اور دینِ اسلام ہمیں آسانیاں پیدا کرنے کی ہی ترغیب دیتا ہے۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
01 Mar, 2021 Views: 9801

Comments

آپ کی رائے