معصوم قیدی

(Prof Abdullah Bhatti, Lahore)

میں کمرے میں داخل ہوا تو دل کو چیرنے والا روح فر سا درد ناک منظر میرا منتظر تھا جس کے لیے میں بلکل بھی تیار نہیں تھا دس سالہ معصوم نوکرانی کو تہہ خا نے میں قید کیا گیا تھا جس پر الزام تھا کہ اُس نے تین لاکھ روپے کی چوری کی ہے تہہ خانے میں اِس لیے بند کیا تھا کہ کہیں میڈیا والوں کو خبر نہ ہو جائے اور وہ آکر اِس کو لے نہ جائیں کیونکہ گھر والوں نے معصوم ننھی پری پر تشدد کیا ما ر پیٹ کی تھی اُس تشدد کے نشانات بچی کے چہرے بازوؤں اور کمر پر موجود تھے اب گھر والے اِس خوف سے اُس کو پتہ چل گیا تو یہ لوگ پکڑے جائیں گے اور پھر پورے ملک میں بد نامی نہ ہو جائے کیونکہ بچی قصور وار تھی جب گھر والوں نے بار بار اُس پر الزام لگایا اُس کو خوب ڈرایا دھمکایا تو وہ بے چاری اپنی جان چھڑانے کے لیے ہاں میں ہاں ملا دیتی کہ ہاں پیسے میں چوری کئے ہیں لیکن جب اُس سے یہ کہتے کہ چوری شدہ پیسے کہاں چھپائے ہیں کس کو دئیے ہیں تو وہ بیچا ری آئیں بائیں شائیں ادھر ادھر کی باتیں یا بے قصور لوگوں پر الزام لگادیتی یا وہاں اُس کو دئیے فلاں جگہ چھپادئیے تو جھوٹے نام اور جگہیں بتا دیتی جب اُس فرد اور جگہ سے پیسے نہ ملتے تو دوبارہ بچی پر تشدد کا عمل جاری کر دیتے تین دن سے بچی تشدد جسمانی ذہنی اذیت سے گذر رہی تھی بچی کے گھر والے بہت دور اپنے گاؤں میں تھے جو بچی کی ایڈوانس تنخواہ لے کر سکون کی نیند سو رہے تھے کئی ماہ بعد آتے پیسے لے کر چلے جاتے مجھے پتہ تھا کہ بچی بے قصور ہے میں پاس گیا تو خوف اور موت کے سائے اِس کی معصوم آنکھوں میں لرزاں دیکھے تو میرا دل کلیجہ پھٹ سا گیا کہ ایک معصوم کو کس بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنا یا گیا مجھے اِس معصوم کی بے گناہی کا اسطرح پتہ تھا آج صبح ہی میرے نمبر پر نامعلوم کال آئی فون اٹھا تو نسوانی آواز سے واسطہ پڑا ایک لڑکی بول رہی تھی اُس نے میرے نام کی تصدیق کی اور بولی میں نے آپ کو کسی مجبور کی رہائی اور جان بچانے کے لیے کال کی ہے میں اپنا نام نہیں بتا سکتی اور پلیز آپ کو خدا کا واسطہ ہے کسی کو میرا موبائل نمبر بلکل بھی نہیں دینا ورنہ میری زندگی اور مستقبل شدید خطرے کا شکار ہو سکتا ہے میں نے لڑکی کو حوصلہ اور یقین دلایا کہ بیٹی آپ اعتماد سے بات کرو میں تمہارا ذکر یا مو بائل نمبر کسی کو نہیں دوں گا تو وہ سر آپ فلاں گھر میں کبھی کبھار آتے ہیں یا یہ لوگ آپ کے پاس روحانی مدد کے لیے آتے ہیں تومیں نے اقرار کیا کہ ہاں میں اِس خاندان کو جانتا ہوں تو وہ بولی سر اِن لوگوں نے اپنی بے گناہ بے قصور معصوم دس سالہ نوکرانی کو چوری کے الزام میں تہہ خانے میں بند کر رکھا ہے اُس پر تشدد آمیز ظلم کر رہے ہیں سر میں آپ کو اصل چور کا نام بتاتی ہوں جس نے چوری کی ہے لیکن اُس ظالم نے اِس معصوم پر چوری کا الزام لگادیا ہے اصل چور اِس گھر کی نوجوان بیٹی ہے جس نے تین لاکھ چوری کر کے اپنے محبوب کو دے دئیے ہیں موبائل کا گفٹ لے کر دیا ہے لیکن ظالم چوری کا الزام اِس پر لگا رہی ہے آپ خدا کے لیے مظلوم کی مدد کریں لہٰذا فون سننے کے بعد جو میرا یقین تھا گھر کی بہو نے کیا تھا لیکن وہ بیچاری اپنا نام چھپانا چاہ رہی تھی اب جب مجھے اِس ظلم کا پتہ چلا تو میں پریشان ہوا کہ کیا بہانا بنا کر اُس گھر میں جاؤں تو اچانک خیال آیا اور میں نے گھر کے مالک کو فون کیا اور کہارات میں نے خواب دیکھا آپ پریشان ہیں آج میں آپ کے علا قے میں آیا ہوں سوچا آپ کی خیریت پتہ کر تا چلوں تو وہ بولا جناب آپ کا خواب واقعی سچ ہے میں واقعی تین دن سے بہت پریشان ہوں بلکہ آپ کے پاس آنے کا سوچ رہا تھا کہ آپ کا فون آگیا آپ کدھر ہیں اور کس وقت میرے گھر تشریف لائیں گے اب راستہ صاف ہو گیا تھا میں نے بتایا میں دو گھنٹے تک آپ کے گھر آرہا ہوں آکر چائے اور گپ شپ لگاتے ہیں اگلا پلان سارا میرے دماغ میں بن چکا کہ کس طرح اُس معصوم قیدی کی جان چھڑانی ہے اِسی دوران میں نے اِس خاندان کی ایک نیک شریف عورت کو بھی فون کیا جو میری بہن بنی ہوئی تھی اُس کا میاں سرکاری ملازم ہے اُس کو میں نے بتایا بہن جی میں آپ کے رشتہ داروں کے گھر میں جارہا ہوں پلیز اگر آپ فری ہیں تو آ پ بھی ادھر آجائیں تو وہ خوشی سے بولی بھٹی صاحب میں آرہی ہوں جب میں اُس ظلمت کدے پر پہنچا تو وہ نیک شریف زادی بھی آچکی تھی مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئی تھوڑی دیر گپ شپ کے بعد میں نے مالک سے کہا آپ پریشان ہے خیر ہے تو اُس نے گھر سے چوری کا سارا واقعہ اور ننھی ملازمہ کا بتایا کہ اُس نے چوری کر کے پیسے کسی کو دے دئیے ہیں اب ہاں بھی کرتی ہے لیکن پیسے دے نہیں رہی آپ ہی اِس پر کوئی دم کریں تاکہ وہ مان جائے تو میں اس نیک باجی اور گھر کے مالک کے ساتھ تہہ خانے میں معصوم قیدی کے پاس پہنچا تو خوف دہشت میں بیٹھی ننھی پری نظر آئی تھوڑی دیر بعد میں سنبھلا اورپلان کے مطابق حساب لگانے کی ڈرامہ بازی شروع کر دی کچھ دیر بعد بولا میں اور باجی ایک کمرے میں بیٹھیں گے گھر کے نوکر اور آپ کی اولاد باری باری اُس کمرے میں آتی جائے اِن لوگوں سے ملنے کے بعد میں آپ کو انشاء اﷲ کنفرم چور بتاؤں گا جس نے چوری کی ہے اب گھر کے سارے ملازم باری باری میرے سامنے آتے گئے میں رسماً چند سوال کر کے فارغ کر دیتا ملازموں کے بعد بچوں کی باری آئی تو آخر میں وہ لڑکی آئی جس نے پیسے چوری کئے تھے میں اِسی کے انتظار میں تھا باجی میرے پاس تھیں تاکہ وہ گواہ بن سکیں میں نے لڑکی سے ادھر ادھر کے سوالات کر نے شروع کر دئیے وہ میرے سوالوں کے جواب دینے کی بجائے بار باری یہی اصرار کر رہی تھی کہ ملازمہ چور ہے نا آپ کے حساب میں وہی چور ہے ناں میں اُس کو بغور دیکھ رہا تھا آخر کار مُجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے اُس کی آنکھوں میں گھورتے ہوئے کہا دیکھو بیٹی میرے جنات نے مجھے ساری فلم دکھا دی ہے جس میں پیسے چوری کر تی تم نظر آئی ہووہ پیسے تم نے اپنے بوائے فرینڈ کو دئیے ہیں اب تمہارا بھلا اِسی میں ہے کہ اپنی غلطی مان جاؤ ورنہ میں پولیس کو بتادوں گا وہ تمہارے محبوب کو چوری کے الزام میں پکڑ کر بند کر دے گی تم محبوب کے سامنے ذلیل ہو جاؤ گی ابھی ہمارے سامنے اقرار کرو ہم یہ بات کسی کو نہیں بتائیں گے میری بات سن کر لڑکی کے چہرے پر خوف کا رنگ زرد چھا گیا جیسے اُس کا سارا خون کسی نے نچوڑ لیاہو اُس نے بولنے کی کو شش کی تو میں بولا ٹھیک ہے تم نہ بتاؤ میں جاکر تمہارے محبوب کو پولیس کے حوالے کر تا ہوں تو اور روتی ہوئے بولی خدا کے لیے یہ ظلم نہ کر نا میں اقرار کرتی ہوں میں نے ہی اُس کو موبائل گفٹ دینے کے لیے چوری کی تھی اور الزام نوکرانی پر لگا دیا پھر وہ خوب منتیں کر نے لگی ہاتھ جوڑنے لگی اب میں نے لڑکی کو کہا ٹھیک ہے تم واپس اپنے کمرے میں جاؤ پھر اُس کے باپ کو ہلا کر ساری بات بنا دی کہ تمہارے گھر میں یہ ظلم ہو رہا ہے تو وہ بھی بہت شرمندہ ہوا اب میں نے نیک عورت سے کہا معصوم نوکرانی کو یہاں سے نکال کر اپنے گھر لے جائیں یا کسی نیک رحم دل گھر میں ملازمہ رکھ دیں اس طرح ایک معصوم بے گناہ بے قصور قیدی کو ہم نے رہائی دلائی میں جب گھروں میں غریب بچیوں کو کام کرتا دیکھتا ہوں ساتھ ہی گھر کے مالکوں کو ان پر حکم چلاتے تو سوچتا ہوں مغلیہ خاندان کی شہزادیاں بھی کنیزوں کے جھرمٹ میں زندگی گزارتی تھیں پھر جب اقتدار گیا تو اہل دلی نے انہیں سڑکوں پر بھیک مانگتے اور گھروں میں لوگوں کے برتن مانجھتے دیکھا یہ براوقت کسی بھی ظالم طاقت ور مغرور پر آسکتا ہے خدا سے ہمیشہ ڈرتے رہنا چاہیے ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Abdullah Bhatti

Read More Articles by Prof Abdullah Bhatti: 577 Articles with 295916 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Mar, 2021 Views: 122

Comments

آپ کی رائے