جب معاشرے کی بنیادیں کمزور ھوجائے اور خاندان بکھرنے لگے تب افراد سے کیا امید کی جاسکتی ہے-

(Asif Jaleel, All Cities)
احمدآباد کی عائشہ بنت لیاقت علی کی خودکشی کا جو معاملہ ہوا اس کے متعلق کچھ خیالات ....


ویڈیو کی باتوں سے ظاہر ہوا کہ عائشہ یک طرفہ محبت کا شکار تھی اور اس کا شوہر اس کے ساتھ رہنے کی خواہش نہیں رکھتا تھا. اور یہ اسی کے ساتھ رہنا چاہتی تھی.

کال ریکارڈنگ میں اس کے والدین کی گفتگو سن کر بھی عجیب کیفیت تھی.

وہ ایک بندے کی محبت میں اس قدر *بےخبر* تھی کہ وہ اپنے والدین کی فریاد بھی نہیں سن پا رہی تھی.

یہ اس کی فطرت کی *بےاعتدالی* تھی.
جبکہ
*_اسلام میں اعتدال پسندی کو اہمیت دی گئی ہے یہ بات یاد رہے._*

پھر اس کے والد کہہ رہے تھے کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے نام پر اس کا نام رکھا گیا.
*کیا ہی اچھا ہوتا اگر اس عائشہ کو ام المومنین کی سیرت کی تعلیم بھی دی گئی ہوتی.*

کیا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی حضورﷺ سے محبت سے بہتر محبت کسی بیوی نے کی ہو گی اپنے شوہر سے؟؟؟
کیا حضورﷺ جیسی ہستی جن کے عشق میں پورا عالم اسلام دیوانہ ہوا ہے اس ہستی کے وصال پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو جو تکلیف ہوئی ھوگی اس سے زیادہ بھی بچھڑنے کا غم ہو گا کسی کا؟؟

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ جو حضور ﷺ کی محبوب بیوی تھیں اور وہ بھی دیوانہ وار حضور سے محبت کرتی تھیں وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد کم و بیش 48 سال حیات رہیں ہیں. شوہر سے جدائی کے بعد اتنا عرصہ وہ حیات بھی رہیں اور امت کو تعلیم بھی دی.

*اگر سیرتِ امہات المومنین کی تعلیم لڑکیوں کو دی جائے گی تو وہ ہر قسم کے حالات کا سامنا صبر سے کیوں نہیں کر سکیں گی؟؟*

_مرحومہ عائشہ بنت لیاقت علی کے عمل سے یہ سوچ ظاہر ہو رہی ہے کہ جس آدمی کو چاہا وہ نہ ملا تو جی کر کوئی فائدہ نہیں، دنیا میں کچھ نہیں بچا، اب زندگی ختم کر لو._
اور
*یہ سوچ فلموں سے اور ڈراموں سے آئی ہے کہ ایک لڑکی یا ایک لڑکے کے پیچھے زندگی تباہ کر لو.*

عائشہ کے ساتھ جو ہوا اس کا ھمیں افسوس ہے مگر اس کے پیچھے جو خیالات پرورش پائے وہ قابل غور ہیں.
یہاں صرف شوہر کے ظلم کی بات نہیں بلکہ لڑکی کے اپنے خیالات کس راہ پر ہیں یہ زیادہ قابل غور ہے.

*اگر دینی تعلیم دی جاتی بچیوں کو تو انہیں پتہ ہوتا کہ شوہر کو اگر بیوی نہیں پسند تو وہ اسے چھوڑنے کا حق بھی رکھتا ہے اور اگر چاہے تو اس کے علاوہ اور تین بیویوں کا حق بھی رکھتا ہے.*

👈 *یہ جو شدت پسند سوچ کہ صرف وہ اس کے علاوہ کوئی نہیں اور صرف میں میرے علاوہ کوئی نہیں یہ یہودیوں کی سازش کے ذریعے فلموں ڈراموں سے آئی ہوئی سوچ ہے.*

ورنہ ہم سب جانتے ہیں کہ اس عائشہ کا جو معاملہ تھا اس میں اسلام نے بہت آسان حل *خلع* کی شکل میں پہلے ہی دیا ہوا تھا.

*مگر جو خیالات اس کے تھے ان خیالات نے اس کی جان لی ہے.*

*ویڈیو میں جو باتیں اس نے کہی وہ اس کے دل کی باتیں ضرور تھیں مگر کسی فلم کا ڈائیلاگ معلوم ہو رہی تھی. یعنی اپنے خیالات کے اظہار کے لئے اب لوگ فلمی ڈائیلاگ کو استعمال کر رہے ہیں.*

افسوس اس بات کا ھے کہ *وہ خودکشی کرتے وقت اس چیز کو نہیں سوچ رہی تھی کہ وہ حرام کام کرنے جا رہی ہے. اور اسے اس بات کی بھی کوئی فکر نہیں تھی کہ جنت ملتی ہے یا نہیں. جنت کے نہ ملنے کا خدشہ اس نے خود ظاہر کیا ہے.*

*یعنی حرام کام پر جرآت ہماری قوم کا جز بنتی جارہی ہے. اور آخرت کی فکر سے بےفکر ھوتے جارھے ہیں.*

ہم دنیا میں خوش رہنا چاہتے ہیں اس کے لیے چاہے حلال راستہ اختیار کریں یا حرام کوئی فرق نہیں پڑتا.

پھر اس پر بھی خوش نہیں ہیں تو پھر مر جائیں چاھے حرام ذریعے سے.

افسوس صد ہا افسوس .......

*یعنی جن فلموں ڈراموں کو ذہنی عیاشی کے لیے بنایا جاتا تھا اب ان کو عملی زندگی میں اختیار کیا جا رہا ہے.*
😔😔
اس تعلق سے علمائے کرام و معاشرے کے دانشوران و سرکردہ افراد نے غور کرنا چاہئے.
*اس وقت موجودہ زمانے کی سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ لوگوں کے خیالات کو پاکیزہ کیا جائے. سوچ کو اسلامی نہج پر لیجایا جائے-*

*سیرتِ نبوی ﷺ و امہات المومنین کی حیات طیبہ* نیز
*انبیائے کرام و اصحابِ کرام کی سیرت کے مختلف پہلوؤں کو آسان طریقے سے آسان الفاظ میں لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے، عام کیا جائے.*

ہمارے یہاں ہمارے خاندان کا رواج ایسا ہے کہ جب بچیاں بالغ ہو جاتی ہیں تب ہی ان کی تربیت پر خاص توجہ دی جاتی ہے.
جیسے
ظاہری حلیہ، گھر کے کام کاج، بات چیت کا سلیقہ، اٹھنے بیٹھنے کا طریقہ، حالات کے مطابق ردعمل کی تربیت اور خاص طور پر بڑوں سے مشورہ کرنے کی عادت وغیرہ باتوں کو سکھایا جاتا ہے.



*بہتر ھے کہ یہ تربیت، (دینی و اخلاقی) بچپن سے دی جانی چاہیے اور گھر کے افراد نے عملی نمونہ پیش کرنا چاہئے*
*اس طرح کی تربیت گھر میں ہی کی جا سکتی ہے باہر کہیں نہیں.*
*کیوں کہ تربیت کا یہ طور طریقہ سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا ہے. اس لئے خاندانی لوگوں کو اہمیت دی جاتی ہے.*
اس لئے
مضبوط خاندان اور مضبوط معاشرے کے قیام و استحکام کے لئے عملی طور پر کمربستہ ھوجائیے





Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Asif Jaleel

Read More Articles by Asif Jaleel: 183 Articles with 125830 views »
WARNING: I have an attitude and I know how to use it!.

میں عزیز ہوں سب کو پر ضرورتوں کے لئے
.. View More
04 Mar, 2021 Views: 120

Comments

آپ کی رائے