“شرم آنی چاہیے تم کو، دوست ہوتے ہوئے میرے پیچھے میری برائی؟“ ہم پیٹھ پیچھے دوسروں کی برائی کیوں کرتے ہیں؟ جانیے

 
“شرم آنی چاہیے تم کو۔ میں تم کو اپنا بہترین دوست مانتا تھا اور آج کسی اور کے منہ سے پتہ چلا کہ میرے پیچھے تم کیا کیا کہتے رہے ہو۔ اگر یہی سب میں تمھارے بارے میں کسی اور سے کہتا تو تم کو کیسا لگتا ؟ کچھ احساس ہے؟“
“ آج کے بعد مجھ سے بات نہیں کرنا “ یہ کہہ کر محسن نے فون پٹخ دیا
اسد فون پکڑے حیران پریشان سا محسن کی باتیں سن رہا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ اسد کچھ نہیں جانتا تھا دراصل اس کی عادت تھی کہ گفتگو کے دوران وہ لوگوں کی غیر موجودگی میں باقی لوگوں کے سامنے ان کا مذاق اڑاتا تھا اور ایک ہی جگہ کام کرنے کی وجہ سے لنچ ٹائم کے دوران اپنے بچپن کے دوست محسن پر بھی پھبتی کسنے سے باز نہیں آتا تھا۔ اس کو احساس ہی نہیں تھا کہ پیٹھ پیچھے کسی کی برائی کرنا غیبت میں شمار ہوتا ہے اور آج جب اس کی حرکتیں محسن کو پتہ چلیں تو اس نے سالوں پرانی دوستی توڑ دی۔ اسد کو محسن کے آخری جملے نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا کہ اگر واقعی خود اس کے ساتھ ایسا ہوا ہوتا تو وہ کیا کرتا؟ لیکن اب بہت دیر ہوگئی تھی ۔
 
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ عام بات چیت کے دوران آپ کتنی بار غیبت کرتے ہیں؟ چلئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ غیبت کیا ہوتی ہے اور اس کے کیا نقصانات ہوتے ہیں۔
 
بات چیت میں غیبت شروع کہاں سے ہوتی ہے؟
عام طور پر لوگوں کو غیبت کرتے ہوئے پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ کیا کررہے ہیں۔ گفتگو کے دوران کسی ایسے شخص کے بارے میں بات کرنا جو اس وقت موجود نہ ہو وہ غیبت کہلاتا ہے۔ اور اگر آپ اس کی نجی یا ایسی باتیں دوسروں کو بتائیں جو اس نے صرف آپ پر بھروسہ کر کے کہی تھیں تو یہ جرم اور بھی سنگین ہوجاتا ہے۔
 
جو دوسروں کی برائی کرتا ہے وہ کل ہماری برائی بھی کرے گا
جو انسان کسی کی برائی لوگوں کے سامنے کرتا ہے اس کا تعلق اس سے تو خراب ہوتا ہی ہے لیکن ساتھ ہی لوگ اس پر بھروسہ کرنا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ لوگ یہی سوچتے ہیں کہ جو آج کسی اور کے بارے میں بات کر رہا ہے وہ کل ہمارے بارے میں بھی بات کرسکتا ہے۔ اس لئے ایسی بری عادت رکھنے والے شخص کو اکیلا چھوڑ دیا جاتا ہے اور معاشرے میں اس کی کوئی عزت باقی نہیں رہتی۔
 
 
اسلام غیبت کے بارے میں کیا کہتا ہے؟
اخلاقیات کے تمام پہلوؤں پر ہماری رہنمائی کرتا مذہب اسلام بھی غیبت کرنے کے عمل کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا گیا کہ
“اللہ کے رسول! غیبت کیا ہے؟“
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ تمہارا اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا کہ اسے ناگوار ہو “
عرض کیا گیا: “اور اگر میرے بھائی میں وہ چیز پائی جاتی ہو جو میں کہہ رہا ہوں تو آپ کا کیا خیال ہے؟ “
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اگر وہ چیز اس کے اندر ہے جو تم کہہ رہے ہو تو تم نے اس کی غیبت کی، اور اگر جو تم کہہ رہے ہو اس کے اندر نہیں ہے تو تم نے اس پر بہتان باندھا“
سنن ابو داؤد: 4874
 
اس کا مطلب کہ برائی کرنا اور ایسی برائی کرنا جو اس شخص میں مجود بھی نہ ہو وہ غیبت سے بھی بڑا گناہ ہے۔
 
غیبت کی سزا کے بارے میں ایک حدیثِ مبارکہ ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جب مجھے معراج کرائی گئی، تو میرا گزر ایسے لوگوں پر سے ہوا، جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے، میں نے پوچھا: جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ کہا: یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے ( غیبت کرتے ) اور ان کی بے عزتی کرتے تھے “۔
سنن ابی داؤد 4878
 
 
ان احادیث کی روشنی میں ہمیں پتہ چلتا ہے کہ غیبت کرنے والے کی دنیا میں تو رسوائی ہے ہی اس کے ساتھ آخرت میں بھی بدترین عذاب ہے۔
 
غیبت سے بچنے کے طریقے
1۔ فضول گوئی سے پرہیز کریں۔ بے مقصد بولتے رہنے سے بات کہاں سے کہاں نکل جاتی ہے کچھ پتہ نہیں چلتا۔
2۔ کسی کے بارے میں بری بات نہ کریں خواہ وہ شخص وہاں موجود ہو یا نہیں۔
3۔ کسی کے متعلق جھوٹ نہ کہیں یہ غیبت سے بھی بڑا گناہ ہے۔
4۔ اگر کوئی اہم فیصلہ کرنے سے پہلے آپ سے کسی کے بارے میں پوچھے یا آپ کا اگر کسی شخص کو کسی کے بارے میں خبردار کرنا بہت ضروری ہو تو صرف اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ پہلے متعلقہ شخص کے بارے میں جانچ پڑتال کرلیں۔
5۔ جہاں غیبت ہورہی ہو وہاں سے اٹھ جانا ہی بہتر ہے۔
6۔ کسی کے بارے میں رائے دیتے ہوئے یہ ضرور سوچیں کہ اگر آپ کے بارے میں ایسا کہا جائے تو آپ کو کیسا محسوس ہوگا
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
04 Mar, 2021 Views: 1116

Comments

آپ کی رائے