دھوکا

(Muhammad Hanif Abdul Aziz, )

 یہ لفظ ویسے تو چھوٹا سا ہے مگر اس کے اثرات بہت برے ہیں ایک انسان سے لے کر پورے معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ اسکے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ دھوکا دیتے ہیں، نہیں دھوکا دیتے مگر اپنے آپ کو۔ یعنی جو کوئی بھی دھوکا دیتا ہے بظاہر تو کسی کو دھوکا یا چکر دے رہا ہوتا ہے مگر اصل میں اپنے آپ کو ہی دھوکا دے رہا ہوتا ہے جیساکہ کہا جاتا ہے کہ جو شخص بھی کسی کے لئے گڑھاکھودتا ہے ایک دن وہی اس گڑھے میں گرتا ہے دھوکا کئی طرح سے دیا جاتا ہے ملاوٹ کر کے،اچھی چیز دیکھا کر نکمی چیز دے کر ،جھوٹ بول کرجسے آج کل موبائل پر کہا جا تا کہ میں تو اس وقت گھر سے کافی دور ہوں جبکہ بولنے والا گھر میں ہی ہوتا ہے ،جعلی چیک دے کر رشوت لے کر زبان بدل کر عبارت بدل کر گھر میں پانی نہ آنے پربھی بل پورا لے کر، پی ٹی سی ایل والے جب کنکشن دیتے ہیں تو نیٹ کی ڈیوائس کی قیمت لے لیتے ہیں مگر کنکشن کاٹنے کا کہا جاتا ہے تو اس وقت تک کنکشن نہیں کاٹتے جب تک دیوائس واپس نہیں لے لیتے ۔ بجلی کے بل میں مختلف قسم کے ٹیکس درج کر کے اصل بجلی کی قیمت سے زیادہ قیمت وصول کر تے ہیں ۔ یہ سب کچھ کنزیومر کے ساتھ دھو کا ہو رہا ہوتا ہے اس کے نتیجے میں محکمے خود دھوکے میں آجاتے ہیں اور پورا ادارہ بیٹھ جا تا ہے تھانے میں ضمنی لکھنے والا جھوٹے پرچے کی ایسی ضمنی لکھتا ہے کہ اصل معاملہ منظر سے ہٹ جاتا ہے ۔ رشوت لینے والا یہ سمجھتا ہے کہ اس نے مال اکٹھا کر لیا لیکن نتیجے میں گھر میں کوئی بیماری آجاتی ہے اس پر خرچ ہو جاتا ہے کوئی بچہ خراب نکل جاتا ہے رشوت لینے والا بعد میں پچھتا تا ہے ۔ عدالت میں ہزاروں وکلا ہیں ایک آدمی کے ساتھ فراڈ ہوتا ہے وہ عدالت جاتا ہے ایک وکیل صاحب اس کے ساتھ ہوتا ہے فراڈکرنے والے کے ساتھ بھی ایک وکیل صاحب ہوتا ہے دونوں ایک دوسرے پر قانون کے مطابق بحث کر تے ہیں ایک حق پر دوسرادھوکے پر۔بڑی مل یا فیکٹری والے سیلز ٹیکس کے نام پر عوام سے ٹیکس اکٹھا کر کے حکومت کو دیتے ہیں یہ ٹیکس مل یا فیکٹری سے نکلنے والے مال پر حکومت وصول کر تی ہے مل یا فکٹری والے ایک ٹرک ٹیکس ادا کر کے نکالتے ہیں باقی کئی ٹرک حکومتی نمائندوں سے مل کر بغیر ٹیکس ادا کئے نکال لیتے ہیں جسے ٹیکس چوری کہتے ہیں یہ عوام اور حکومت دونوں سے دھوکا کر تے ہیں ۔یہ ایک بہت بڑی معاشرتی برائی ہے جس سے اگر ہم سب بچ جائیں تو ہماری دنیا اور آخرت دونوں درست ہو سکتیں ہیں اﷲ تعالیٰ سے دعاہے کہ ہمیں اس سے بچنے اور سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Hanif Abdul Aziz

Read More Articles by Muhammad Hanif Abdul Aziz: 10 Articles with 1650 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Mar, 2021 Views: 156

Comments

آپ کی رائے