چمچہ گیری ایک ہولناک زہر‎

(Syed Maqsood Ali Hashmi, )

چمچے کا لفظ دو طرح سے استعمال ہوتا ہے.

حقیقی مطلب تو یہ ہے کہ ایک برتن سے دوسرے برتن میں غذا نکالنے کا آلہ،ڈوئی وغیرہ

لیکن یہ اپنے مجازی معنیٰ میں بہت مشہور ہے وہ یہ کہ کسی کی ہاں میں ہاں ملانا یا بےجا خوش آمد کرنا یا چاپلوسی کرنا اِن تمام کو ہمارے معاشرے میں چمچہ گیری کہا جاتا ہے.

جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے :

بہت مجھ کو لگتا ہے پیارا کہ جب جب
مرے سامنے دُم ہلاتا ہے چمچہ
اسی کے سبب سے ہے نفرت دلوں میں
کہ آپس میں ہر دم لڑاتا ہے چمچہ

چمچہ گیری ؛یہ ایک ہلاک کردینے والا میٹھا زہر ہے ،جس کا احساس نہیں ہوتا اور یہ آہستہ آہستہ اپنا اثر دکھاتا ہے.
بقولِ شاعر :
خوشامد بڑے کام کی چیز ہے
زمانے میں آرام کی چیز ہے
خوشامد پہ کچھ خرچ آتا نہیں
’’خوشامد کے سودے میں گھاٹا نہیں‘‘

اور میں یقینِ دل سے کہتا ہوں کہ آج کل کے دور میں جتنا آسان کام کسی کا چمچہ بننا ہے شاید ہی کچھ اور ہو.اور ہر دوسرا شخص اِس مرضِ لاعلاج میں مبتلانظر آتاہے،اور کیا میں آپ کو حقیقی چمچوں کی پہچان نہ بتاؤوں؟
وہ یہ کہ جب وہ چمچہ گیری میں مصروف ہوتا ہے تو وہ سمجھتا ہے بہت اچھا کام کر رہا ہوں ،اور وہ یہ خیال کرتا ہے کہ مجھے کوئی نہیں دیکھ رہا حالانکہ پاگل تو کوئی بھی نہیں.
اور وہ دوسروں کو بھی کہہ رہا ہوتا ہے کہ یار یہ اتنے بڑے ہیں ،ہمارے سر کے تاج ہیں،اِن کا تو ہمیں بہت خیال کرنا چاہیے وغیرہ وغیرہ،یہ چمچوں کی ہی علامت ہے.

آپ چمچے کو دائی یا پھوپھو بھی کہہ سکتے ہیں۔
جیسے دائی سے پیٹ اور پھوپھو سے راز نہیں چھپایا جا سکتا ایسے ہی کوئی بات چمچہ کی نظروں سے اوجھل نہیں ہو سکتی. بلکہ ایک بار تو ایک دفتر میں ایک دائی اور پھوپھو ایک ساتھ ہی آگئیں، اتفاق سے ان کا واسطہ ایک برانڈڈ قسم کے چمچے سے پڑ گیا، چمچہ کی ”پھرتیاں اور ٹوپیاں“ دیکھ کر وہ دونوں انگشت بدنداں رہ گئیں کہ یہ چالاکیاں تو ہمارے بڑوں کے دماغ میں بھی نہیں آئی ہونگیں جو اس کی شیطانی کھوپڑی میں ہیں.

اگر آپ صرف اپنے ارد گرد ہی نظر دوڑائیں گے تو آپ خود ہی چمچوں کی بو کو محسوس کریں گے،کہ یار اتنی چمچہ گیری۔۔۔حد ہوگئی
کسی نے لکھا تھا کہ دورِ حاضر میں اگر آپ کارہائے ملازمت میں کامیاب و کامران ہونا چاہتے ہیں تو چمچے کی طرح تھالی میں اِس طرح فٹ ہو جاؤ کہ آپ کو دیکھ کر سب وہاں سے بھاگ جائیں. مگر میں کہتا ہوں کہ اگر آپ با صلاحیت اور قابل انسان ہیں ، پھر تو یہ کام آپ کی شان کے لائق ہی نہیں۔اور اگر آپ کسی چھوٹے درجے پر بھی ہیں ، تو کیا ضرورت ہے کسی کی چاپلوسی کرنے کی ،آپ اپنے کام سے کام رکھیں ،حق حلال کی کھائیں اور زندگی گزاریں.

چاپلوسی، چمچہ گیری، خوش آمد، چرب زبانی، اٹھانا اور چک کے رکھو سب اسی تھالی کے چٹے بٹے ہیں اور اسی تھالی سے سب ”چمچے“ فیوض و برکات بھی سمیٹتے ہیں کیونکہ ان کا ایک ہی منشور ہوتا ہے جسے رضا حسین رضا نے اپنے اشعار کے موتیوں میں کچھ اِس طرح پرویا ہے۔
حاکم وقت کی جب ہو محفل سجی
جھوٹ کے گیت تم گنگناتے رہو
دم ہلاتے رہو فیض پاتے رہو

میں آپ کو ایک اپنی آنکھوں دیکھا حال بتاتا ہوں:میں کچھ لوگوں کے درمیان کھڑا تھا اور ہم میں سے ایک ؛ بڑا آفیسر بھی تھا ،ہم سب بالکل ہوش و ہواس سے کھڑے تھےاور ہم نے چائے لینے کے لیے ایک صاحب کو بھیجا ہوا تھاکہ اچانک اُن آفیسر صاحب کے بھی آفیسر آٹپکے ،تو کیا دیکھتا ہوں کہ ہمارے پاس ہوش و ہواس سے کھڑے آفیسر صاحب نے تو کمال کی چمچہ گیری کی اور حد ہی کردی اُن کی تعریفات کے تو پُل ہی باندھ دیے،کبھی اُن کی جاب کے تذکرےتو کبھی اُن کی ذات کے،کبھی اُن کے گھر کے تذکرے تو کبھی اُن کے بچوں کے۔۔۔۔۔۔! اتنے میں چائےآگئی،میں تو دیکھ ،دیکھ کر اپنے اندر کچھ عجیب ہی فیل کر رہا تھا.....!
اتنے میں انہوں نے کہا : جلدی کریں بھائی چائیں لائیں بڑے آفیسر آئیں ہیں،مجھے دیں میں ڈال کر دیتا ہوں.تو اُس نے اُن صاحب سے چائے لے کر خود اپنے ہاتھوں سے اُنہیں چائے پیش کی ،وہ جناب بھی دیکھنے سے لگ رہا تھا کہ بہت خوشی محسوس کر رہے ہیں ،اور آخر میں ایسا ہی ہوا وہ جاتے جاتے اِن کی تعریف کر ہی گئے اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے رخصت ہوئے۔اور اُن کےجاتے ہی وہ صاحب بالکل ٹھیک ہوگئے۔مجھے تو لگ رہا تھا میں کسی اور ہی دنیا میں آچکا ہوں.
(شاید میں نے ایسا پہلی بار ہی دیکھا تھا.)

میں آپ کو بتاتا چلوں کہ چمچا رکھنا یا پالنا کوئی نیا کام یا نیا فیشن نہیں ؛ بلکہ پرانے دور کے مہاراجوں سے لیکر آج تک کے سیاستدانوں تک سب ہی اِس مرضِ لا علاج میں مبتلا ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہ ایک عالمگیر فیشن بن گیا ہے،بلکہ پاکستان میں تو ایسالگتا ہے کہ اِس کا باقاعدہ کورس بھی ہوتا ہے کیونکہ پاکستان میں آپ کوہر جگہ جتنا ماہر چمچہ گیر ملے گا شاید ہی کسی اور چیز کا ماہر ملے.
چمچوں میں سیاسی چمچہ گیر کا فہرست میں سب سے پہلا نمبر ہے اگرچہ اس کلچر نے نظریاتی سیاست کا خاتمہ کر کے رکھ دیا ہے پھر بھی میدان سیاست میں انہیں چمچہ گیروں کی فصل لہلہا رہی ہے. اب تو جسے دیکھو سیاسی چمچہ بنا پھرتا ہے،اور اِن چمچوں کی سب سے کمال خوبی یہ ہے کہ یہ منہ پھٹ یعنی کہ چرب زبان ہوتے ہیں ،لیڈر اگر چہ پرلے درجے کا بیوقوف،نالائق ،گھٹیاترین ہی کیوں نہ ہواُسے بڑھا،چڑھا کر اتنا پیش کرتے ہیں کہ وہ خود بھی اپنےآپ کو کچھ محسوس کرنے لگ جاتا ہے ،لیکن جب بعد میں ہارتا ہے تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں.

اور سیاسی چمچے کے بعد دوسرا نمبر صحافتی چمچہ گیری کا ہے ،جسے سیاست کا ستون کہا جاتا ہے،صحافی کہتے ہیں کہ ہم سیاسی جماعتوں کو اپنی جیب میں رکھتے ہیں حالانکہ سیاستدان خود ہی اُن کی جیب میں کچھ نا کچھ رکھتے ہی رہتے ہیں،کیونکہ اُن کا منہ اور جیب ہی تو ہے جو ہر وقت کھلی رہتی ہے.

اور اِس کے بعد نمبر آتا ہےسرکاری چمچے کا،کیونکہ ظاہر ہے کہ جو شخص پیسہ بھر کر آتا ہےاب وہ پیسہ نکالنے کو اپنا حق ہی سمجھتا ہے. وہ یونکہ سرکار کے دفتر میں کوئی کام ہو نا ہو چاپلوسی ہر وقت ہوتی ہے۔ خیال ان کا بھی ٹھیک ہے کہ ہم ایک وقت میں ایک ہی کام کر سکتے ہیں، جی حضوری یا کام، جی حضوری چونکہ قدرے آسان ہے اس لئے اسی پہ تکیہ لگا لیتے ہیں.

سب سے معصوم چمچہ، امیر، موٹی بیوی کا وہ غریب شوہرِ ِنامدار ہوتا ہے جو اپنی ذاتی بھینس قسم کی بیوی کو بھی اپنی جان کا ٹکڑا، جانو وغیرہ پکار کر گھر کے کسی کونے میں جا کر قے اور قلیاں کر رہا ہوتا ہے۔ اگرچہ اس چمچہ گیری کے نظام نے ملک کے تمام نظام کو تہس نہس کر رکھا ہے، نظریات کو تباہ و برباد کر کے رکھا ہوا ہے مگر پھر بھی ان چمچوں کی طلب میں کوئی کمی نہیں آئی. سچ ہے کہ یہاں تو سب کا بول بالا ہے چاہے سیاسی چمچہ گیر ہو یا سرکاری.

(خدارا...!)

میرا خیال ہے کہ اگر ترقی کی شاہراہ پر چلنا ہے تو کامیابی کی گاڑی سے ان چمچوں کو اتارنا ہوگا
"وگرنہ چل تو رہا ہے ہمیں کیا اعتراض چلنے دیں" والی صورت حال میں لینن نے بالکل بجا کہا تھا کہ”عظیم لوگ تباہ ہو جاتے ہیں جب چالاک، مکار اور خوشامدی کرنے والے لوگ ان کے گرد ڈیرے ڈال دیتے ہیں“ لینن کی بات سے سو فیصد اتفاق ؛لیکن رضا حسین رضا کی بات بھی فی زمانہ مبنی بر حقیقت ہے کہ.
ہے خوشامد ہی اک نسخہ کیمیا
یار لوگوں کو اُلو بناتے رہو
دم ہلاتے رہو فیض پاتے رہو

چمچوں کے متعلق علیم خاں فلکی کے کچھ نہایت پر اثر اور دلچسپ اشعار کمینٹ میں بصورتِ مزاحیہ غزل درج ذیل ہیں؛:

اور آخر میں مَیں یہ بات ضرور کرنا چاہوں گا کہ یارو سوچ سمجھ کر چمہ گیری کیا کرو کیونکہ استعمال کے بعد چمچوں کا جو حال ہوتا ہے نا ؛ وہ سر کی آنکھوں سے دیکھا نہیں جاتا.

اللہ کریم اِس مرضِ لا علاج سے ہمیں محفوظ فرمائے. آمین.

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Maqsood Ali Hashmi

Read More Articles by Syed Maqsood Ali Hashmi: 135 Articles with 50228 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Mar, 2021 Views: 140

Comments

آپ کی رائے