روبرو ہے مدیر: محمد نعیم امین

(Zulfiqar Ali Bukhari, Islamabad)
ماہ نامہ پیغام،لاہور کے مدیر جناب محمد نعیم امین صاحب نے ہمارے لئے اپنے قیمتی وقت سے چند لمحات نکال کر ہمارے سوالات کے دل چسپ جوابات دیےہیں، ہم محترم محمد نعیم امین صاحب کے بے حد مشکور ہیں کہ جنہوں نے کمال مہربانی کامظاہرہ کرتے ہوئے جامع انداز میں اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے۔
ہمارے ہاں جب بھی نوجوانوں کو کچھ کرکے دکھانے کا موقع ملتا ہے تو وہ اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اپنا و ملک وقوم کا نام روشن کرتے ہیں۔آج ہم آپ کے سامنے ایک ایسے ہی نوجوان مدیر سے کی جانے والی ملاقات کی گفتگو پیش کررہے ہیں جو کہ نہ صرف خود اعتمادی کی دولت سے مالا مال ہیں بلکہ اپنے نرم مزاج کی بدولت ادب اطفال کے کئی لکھاریوں کے دلوں کو بھی جیت چکے ہیں۔آج یہ نوجوان لکھاریوں کو لکھنے کے حوالے سے بھی رہنمائی دے رہے ہیں۔

یہ سرائے اُردو کے لئے باعث فخر ہے کہ ماہ نامہ پیغام،لاہور کے مدیر جناب محمد نعیم امین صاحب نے ہمارے لئے اپنے قیمتی وقت سے چند لمحات نکال کر ہمارے سوالات کے دل چسپ جوابات دیےہیں، ہم محترم محمد نعیم امین صاحب کے بے حد مشکور ہیں کہ جنہوں نے کمال مہربانی کامظاہرہ کرتے ہوئے جامع انداز میں اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے۔


ان سے کی جانے والی گفتگو سرائے اُردو کے شرکا کے لئے پیش خدمت ہے۔


سوال: سب سے پہلے توآپ یہ بتائیں کہ اس کم عمری میں بطور مدیر کام کرنے کا تجربہ کیسا رہا ہے، ہمارے قارئین کے لئے تفصیل سے آگا ہ کیجئے۔

جواب: الحمدللہ ! ابھی تک کا تجربہ بہت بہترین رہا ہے۔ تمام لکھاری حضرات نےبہت تعاون کیا ہے اور بہت سےسینئررائیٹرز نے اپنی قیمتی آراء ،مشورہ جات اور تجربات سے نوازاہے۔ اس کے علاوہ شمارے کی تیاری کے تمام مراحل سے بھی بہت لطف اندوز ہوتاہوں۔ میرے لئے شمارے کی ایڈیٹر شپ ایک ذمہ داری کے ساتھ ساتھ بہترین تفریح بھی ہے۔



سوال:ابھی تک کن مسائل کا سامنا بطور مدیر زیادہ کیا ہے؟

جواب:شمار ےکے حوالے سے تو ایساکوئی خاص مسئلہ پیش نہیں آیا مگر لکھا ریوں کے حوالے سے چندمسائل کا سامنا ضرور ہے۔

جیسے۔۔۔۔!

1- لکھاریوں کو شمارہ وقت پر نہ ملنا۔ 2- وقت پر جواب نہ دے سکنا۔ 3-کسی لکھاری کی کہانی نہ لگنے پر اس کا رویہ

1- لکھاریوں کو شمارے وقت پر نہ ملنا۔

یہ ایک بڑا مسئلہ ہےاور ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں کہ جو بھی لکھاری لکھے اس کا حق ہے کہ اسے شمارہ ملے اور ادارے کا فرض ہے اسے شمارہ بھیجے۔ مگر ہوتا ایسا ہے کہ ادارہ بھیج دیتا ہے اور شمارہ واپس آجاتا ہے۔ان وجوہات پر غور کررہےہیں اور ڈاک خانے والوں سے بھی بات چل رہی ہے امید ہے جلد اس مسلئے کو حل کرلیں گے ۔ ان شاءاللہ۔

2-وقت پر جواب نہ دے سکنا۔

میری ذاتی کوشش ہوتی ہے کہ ہرکسی کو فورا فورا رپلائی کروں ۔مگر کبھی کبھی ذاتی مصروفیات کی بنا پررپلائی نہیں دے پاتایا کسی لکھاری کا میسج نیچے چلا جائے تو یہ میرے لئے بہت پریشانی کا باعث ہوتا ہے۔

3-کسی لکھاری کی کہانی نہ لگنے پر اس کا رویہ

اگرچہ تمام لکھاری ایسا نہیں کرتے مگر کچھ حضرات ایسا ضرور کرتے ہیں کہ کہانی نہ لگنے پر ناراض ہوجاتے ہیں ۔ اس طرح کے معاملات میں مجھے ذاتی طور پربہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔



سوال: آپ کے خیال میں ماہ نامہ ’’پیغام‘‘ کے لئے جو کرنے کا سوچا تھا وہ پورا کر سکے ہیں؟

جواب:جی بالکل۔۔! میری ذمہ داری کےدوران ابھی تین سے چار شمارے آئے ہیں اور ان تما م شماروں میں میں نے کچھ چیزیں نوٹ کی ہیں اور کچھ پلان اور آئیڈیاز کو بھی مرتب کیا ہے ۔ جن کی جھلک آپ کو ان شاءاللہ آنے والے شماروں میں نظر آئے گی۔



سوال: ابھی تک ماہ نامہ ’’ پیغام‘‘ کتنے خاص نمبر شائع کر چکا ہے ، اس حوالے سے کچھ بتائیں؟

جواب:پیغام کے ویسے تو بہت سے خاص نمبر شائع ہوئے ہیں کیونکہ پیغام کی اپنی ایک تاریخ ہے ۔ لیکن میرا حصہ اس میں"کشمیرنمبر" ہے جس کو اسی سال فروری میں شائع کیاتھا۔



سوال: آپ خواتین کی آزادی کے حق میں ہیں؟

جواب: ہم کون ہوتے ہیں خواتین کو پابند کرنے والے ۔ جب اللہ رب العزت نے خواتین کو حدود و قیود میں رہ کر آزادی دی ہے تو پھر ہم لوگ تو یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ انھیں آزادی دینی ہے یا نہیں ۔ یہ فیصلہ انھوں نے خود کرنا ہے کہ انھیں اللہ رب العزت کی دی گئی عزت کی آزادی چاہئے یا انسانوں کی بنائی خودساختہ ذلت کی آزادی۔



سوال: آج کے مدیر رسالے کو وقت کے تقاضوں کے مطابق شائع کر رہے ہیں؟

جواب:اس بارے میں قارئین ذیادہ اچھی رائے دے سکتے ہیں۔ ایک قاری کی حیثیت سے میں اتنا ہی کہوں گا کہ ہر مدیراپنے حصے کی شمع روشن کر رہا ہے۔ کہیں کم روشنی ہے تو کہیں ذیادہ۔



سوال: اپنی ابتدائی زندگی کے حوالے سے کچھ بتائیں؟

جواب:آبائی علاقہ خان پور ہے اور پیدائش لاہور کی ہے۔ لاہور سے ہی مڈل، میٹرک اور انٹر کیااور اب پنجاب یونیورسٹی سے بی-ایس اسلامک اسٹڈیز میں چوتھے سمسٹر کا طالب علم ہوں۔لکھنےکا آغاز تو پانچویں جماعت سے کیا تھامگر چھٹی جماعت میں تھا تو تعلیم و تربیت کے بلا عنوان سلسلے میں میرا ایک جملہ "تیزرفتاری جان لیوا ہی نہیں بلکہ بال لیوا بھی ہو سکتی ہے۔" شائع ہوا جس سے لکھنے کی تحریک ملی بعدازاں دوسال بعد یعنی 2014 میں محمد فہیم عالم اور نذیر انبالوی صاحب سے ملا جن کی اصلاح سے اسی سال کہانیاں شائع ہونا شروع ہوگئیں۔ 2017 میں یعنی جب میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا تو پیغام ڈائجسٹ کا نائب مدیر بنا ایک سال رہا اس کے بعد کچھ ذاتی مصروفیات کے باعث کنارہ کش ہوناپڑا۔ اور اب دوبارہ 2020 میں مدیر بنا ہوں۔


سوال: آپ کے بچپن کی کوئی خا ص یاد، جو قارئین کو بتا نا چاہیں؟

جواب:بچپن کی ہریاد ہی خاص ہوتی ہے۔لیکن ایک میرا پہلا جملہ جوتعلیم و تربیت میں شائع ہوا وہ اور ایک وہ دن جب مجھے آٹھویں جماعت میں ایک ملکی سطح کی ورک شاپ میں چوتھی پوزیشن آئی تھی۔ اس جیوری میں اشفاق صاحب (سابق ایڈیٹر پیغام ڈائجسٹ ) اور نذیر انبالوی صاحب تھے۔



سوال: کس اُردو لکھاری/ادیب کو خوب پڑھا ہے ،کتنا متاثر ہوئے ہیں؟

جواب:ابتدائی طور پر بچوں کے لکھاریوں میں محمد فہیم عالم،نذیر انبالوی،علی اکمل تصور،ڈاکٹر طارق ریاض خان وغیرہ کو بہت پڑا ان کے اسلوب سے بہت متاثر تھا۔ بعد میں عمیرہ احمد اور نمرہ احمد کے ساتھ ساتھ محمود احمد مودی کے شہرہ آفاق ناول "سرکش " کو بھی پڑھنے کا موقع ملا۔

یہ سب لو گ بہترین لکھتے ہیں مگر مجھے جنت کے پتے کا پلاٹ ، پارس کی منظر نگاری،پیرکامل ﷺ کی سٹوری لائن اور سرکش نے بہت متاثر کیا۔



سوال: ایک اچھے لکھاری /ادیب میں کن خصوصیات کا ہونا ضروری ہے؟

جواب:میرے خیال سے باریک بینی ، کچھ نیا سیکھنے کا جنون اور نئے نئے تجربات کا شوق ہونا کسی بھی لکھاری کے لئے بہت اہم اور ضروری ہے۔



سوال: کس طرح سے بچوں کو رسائل وجرائد اورکتب بینی کی جانب مائل کیا جا سکتا ہے؟

جواب:میڈیا کے ذریعے سے۔۔۔ یہ بات شاید آپ کو عجیب لگے مگر آج کے دور میں اگر بچوں کو کتاب سے منسلک کرنا ہے تو اسے سوشل میڈیا کے ذریعے سے کتاب کی طرف لایا جائے ۔



سوال: نئے لکھنے والوں کی’’ بے ادبی‘‘ کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

جواب:یہ ایک حساس مسئلہ ہے۔ذیادہ تو کچھ نہیں کہوں گا۔ مگر اتنا کہوں گا کہ جو بھی نیا لکھنے والا ہو اسے چاہئے کہ وہ ایک استاد کو تلاش کے اور اس سے رہنمائی لے۔ اسی چیز کے لئے میں نے یوٹیوب چینل بھی شروع کیا ہے تاکہ کسی حد تک اس کمی کو پورا کیا جاسکے۔



سوال: نئے لکھاریوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے آپ کیا کہنا چاہیں گے؟

جواب : مسائل ہر کسی کو ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ آپ نے بھی بہت سے مسائل فیس کئے ہیں، میں نے بھی کئے ہیں اور ہر اس شخص نے کئے ہیں جو آج اچھا لکھ رہے ہیں یا کچھ اچھا کر رہے ہیں۔ان مسائل کو حل انھوں نے خود کرنا ہےیا اپنے رہنما سے رہنمائی لے کے ان مسائل سے باہر نکلنا ہے۔جیسا کہ اوپر بتا یا تھا کہ ایک استاد ہونا ضروری ہے۔



سوال: آپ مثبت سوچ کو کامیابی کی سیڑھی سمجھتے ہیں؟

جواب:اس کے بغیر حقیقی کامیابی ممکن ہی نہیں۔



سوال: قارئین کے نام کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟

جواب:اچھا پڑھیں،اچھا سوچیں اور اللہ پاک کی ذات پر کامل یقین رکھیں جو آپ کا ہے آپ کو مل کے رہے گا، نہ وقت سے پہلے نہ وقت کے بعد۔

اللہ آپ کا حامی و ناصر۔

اللہ حافظ۔

آپ کے قیمتی وقت کا بے حد شکریہ۔

۔ختم شد۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 328 Articles with 274636 views »
I'm an original, creative Thinker, Teacher, Writer, Motivator and Human Rights Activist.

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do N
.. View More
27 Mar, 2021 Views: 174

Comments

آپ کی رائے