قابلِ غور

(Yasir Farooq, Karachi)

نیوز چیلنز پر کبھی کبھی لاٹھی چارج کا یہ منظر بھی نظر نواز ہوتا ہے کہ پولیس کا ایک جوان عمر میں دو گنا بڑے بزرگ کی پٹائی کر کے داد _شجاعت چاہ رہا ہے۔ ایک مسلم ملک میں اس بے غیرتی کی ہرگز گنجائش نہیں۔ سڑک کے بیچوں بیچ بڑوں کے احترام کا ایسا مظاھرہ نوجوانوں کی کیسی تربیت کرتا ہو گا۔۔۔سوچنے کی بات ہے۔ اگر سن رسیدہ حضرات کو قابو کرنے کا کوئ اور طریقہ ذہن _رسا تک نہ پہنچا ہو تو عرض ہے کہ اس کام کے لئے چند عمر رسیدہ پولیس والوں کو رکھ لیا جائے تا کہ احترام _بزرگاں کا کچھ تو بھرم رہ پائے۔
...........................
موجودہ زمانے میں خواتیں پر تعلیم کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔۔ایم فل اور پی ایچ ڈی میں دھڑا دھڑ داخلے ہو رہے ہیں۔۔۔شعور و آگہی کی بڑھتی روشنی کے سائے میں مجھے ایک دن چند پڑھی لکھی ماسٹرز( ایک دو تو کافی اعلی تعلیم یافتہ تھیں) برسر _ روزگار خواتین کی گفتگو سننے کا موقع ملا۔۔۔آپ بھی سنیے وہ کیا فرما رہی تھیں۔

لڑکیوں کو بس انٹر تک پڑھانا چاھئے۔
نہیں گریجویٹ تو ہونی چاھئں۔
زیادہ پڑھ لکھ لینے سے لڑکیاں سمجھوتہ نہیں کرتیں۔۔۔وغیرہ وغیرہ

در حقیقت ان تعلیم یافتہ خواتین (جن میں غیر شادی شدہ نوجوان لڑکیاں بھی شامل ہیں ) نے پاکستانی معاشرے میں فیملی سسٹم کی شکست و ریخت پر ایک عمدہ بلواسطہ اظہار _خیال کیا ہے۔ ہمارے ایک انتہائ تجربہ کار پروفیسر فرمایا کرتے ہیں کہ تعلیم و تربیت نہیں بلکہ تربیت و تعلیم صحیح ترکیب ہے۔

..........................
حال ہی میں دخترکشی پر ایک دستاویزی کلپ دیکھی۔۔۔ہندستان کی ایک رقاصہ کی کہانی اسی کی زبانی۔۔۔خدائے قدیر و بشیر نے پیدائش کے فورا بعد والدین کی مرضی کے بغیر زندہ در گور کر دی جانے والی بچی (موجودہ رقاصہ) کو کئ گھنٹے تک قبر میں زندہ رکھا یہاں تک کہ ممتا نے اسے زمین کے شکنجے سے آزاد کرا کر دم لیا۔۔۔۔اس قبیلے میں یہ قبیح رواج اس بچی کی بدولت بالآخر اپنے انجام کو پہنچا جو محض معاشی مشکلات کا شاخسانہ تھا۔۔۔سوچتا ہوں چودہ سو سال پہلے اسلام نے عورت کو مقام_خاص عطا کیا اور یوں عطا کیا کہ نہ صرف دختر کشی کا دور _ظلم و ستم ختم ہوا بلکہ وہ پردے کی بدولت غلیظ نگاہوں سے بھی محفوظ کر دی گئ۔ افسوس۔۔۔ابھی تک معاشرہ عورت کو پورا احترام نہیں دے سکا کہ بچیاں قبر سے تو بچ گئیں لیکن رقص کا پیشہ ان کا شوق یا پھر مجبوری ٹہرا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Yasir Farooq

Read More Articles by Yasir Farooq: 15 Articles with 9748 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Mar, 2021 Views: 153

Comments

آپ کی رائے