دورانِ حمل ذیابیطیس کا مرض بچے کے لئے کس حد تک خطرناک ہے؟ جانیے گیسٹیٹیشنل ذیابیطس کے حوالے سے ضروری معلومات اور اس سے بچاؤ کی تدابیر

 
دورانِ حمل اکثر ماؤں کو ذیابیطس کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے ان کو پرہیز اور دیگر احتیاط کرنی پڑتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ابھی تک اس بات کا پتہ نہیں لگایا جاسکا ہے کہ وہ کون سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے حاملہ خواتین کو شوگر ہوتی ہے البتہ اس کی ایک وجہ بڑھا ہوا وزن ہوسکتا ہے۔ دراصل خون میں شکر کی سطح کو معمول پہ رکھنے کے لئے جسم میں مختلف ہارمونز کام کررہے ہوتے ہیں لیکن حمل کے دوران ہارمون کی سطح میں تبدیلی آنے کی وجہ سے ان کا شکر کو قابو میں رکھنا مشکل ہوجاتا ہے نتیجتاً حاملہ ماؤں کو زیابیطس ہوجاتی ہے۔ عام طور پر یہ ذیابیطس بچے کی پیدائش کے بعد ازخود ختم ہوجاتی ہے البتہ کبھی کبھی اس سے ڈلیوری میں مسائل بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس آرٹیکل میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ دورانِ حمل ذیابیطس سے ماؤں اور نومولود بچوں کو کن پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور ان سے کس طرح بچا جاسکتا ہے۔
 
علامات :
گیسٹیٹیشنل ذیابیطیس کی علامات ہمیشہ ظاہر نہیں ہوتیں اور اگر ہوتی بھی ہیں تو بہت معمولی انداز میں اس لئے دورانِ حمل کسی ماہر گائناکولجسٹ سے رابطے میں رہنا ضروری ہے۔ گیسٹیٹشنل ذیابیطیس کی چند علامات یہ ہیں
 
تھکان
 
دھندلا پن
 
پیاس کا بڑھنا
 
بار بار پیشاب کا آنا
 
نیند میں خراٹے لینا
 
وہ وجوہات جو گیسٹیٹیشنل ذیابیطس کا باعث بن سکتی ہیں
موٹاپا، وزن میں زیادتی
 
جسمانی سرگرمیوں کا نہ ہونا
 
پچھلے حمل کی پیچیدگیاں ، مثانے کا انفیکشن
 
ماں باپ کو ذیابیطس کا مرض ہونا
 
پولیسسٹک اووری سنڈروم
 
دورانِ حمل ذیابیطس سے کونسی پیچیدگیاں ہوسکتی ہیں
اس سے نہ صرف ماؤں کو بلکہ بچوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ دورانِ حمل ذیابیطس سے بچے عام بچوں کی نسبت قدرے بھاری ہوتے ہیں اور ان کا وزن 9 پاؤنڈز تک جاسکتا ہے۔ اتنا بڑا بچہ پیدائش کے وقت برتھ کینال میں پھنس سکتا ہے جس کی وجہ سے سی سیکشن کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔
 
اس کے علاوہ گیسٹیٹیشنل ذیابیطس سے ماؤں میں زچگی کےhypoglycemiaیعنی لو بلڈ پریشر بھی ہوسکتا ہے ۔اس کے علاوہ دورانِ حمل ماں کو ذیابیطس ہو تو مستقبل میں بچے میں بھی ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ وقت سے پہلے پیدائش کی صورت میں بچے کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
 
گیسٹیشنل ذیابیطس کے علاج کے کے لئے کیا کریں
 
ذیابیطس یوں بھی لاعلاج مرض ہے اور دورانِ حمل بھی اس کو ختم کرنے کا کوئی علاج ابھی تک دریافت نہیں ہوا ہے البتہ چند احتیاطی تدابیر اپنا کر نہ صرف حمل میں انسولین کی سطح کو کنٹرول کر کے پیچیدگیوں سے بچا جاسکتا ہے بلکہ حمل سے پہلے بھی ان طریقوں کو اپنا کر اس مرض سے کسی حد تک بچا جاسکتا ہے۔
 
صحت مند کھانا کھائیں: حاملہ خواتین کو گھر والوں کی جانب سے بہت زیادہ میٹھا یا چکنائی والی خوراک کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے جو کہ مناسب نہیں اس کے بجائے ایسی غذا کا انتخاب کریں جس میں ریشہ زیادہ اور چکنائی کم ہو جیسے پھل، سبزی، اناج اور مرغی کا گوشت۔
 
 
متحرک رہیں: ڈاکٹر کے مشورے سے کوئی ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمی اختیار کی جاسکتی ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر حاملہ خواتین کو صرف آرام کرنے کے لئے کہا جاتا ہے جو کہ نقصان دہ ہے۔ ہلکی پھلکی چہل قدمی کی جاسکتی ہے البتہ جو بھی سرگرمی اختیار کریں پہلے اپنے معالج سے مشورہ کرنا نہ بھولیں۔
 
حاملہ ہونے سے پہلے: اگر آپ حاملہ ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں تو بہتر ہوگا اگر آپ کا وزن بڑھا ہوا ہے تو پہلے اسے کم کرلیں۔ اس طرح بھی گیسٹیٹیشنل ذیابیطس کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔
 
معالج کی اہمیت: بچے کی پلاننگ سے لے کر اس کی پیدائش کے بعد تک معالج اور ماہر گائنالوجسٹ سے رابطہ رکھنا اور اس کے مشورے پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔ اپنی جسمانی سرگرمیاں اور خوراک ڈاکٹر کو ضرور بتائیں اس کے علاوہ بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے کوئی دوا استعمال نہ کریں۔ کسی بھی قسم کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
21 Apr, 2021 Views: 688

Comments

آپ کی رائے