جلدی سے بس فرض پڑھ لیتی ہوں پھر کھانا بھی پکانا ہے... مرد حضرات خواتین کے روزے کا خیال کیوں نہیں کرتے؟

 
علینہ اپنی بہن فرح کے گھر رکنے گئی تو وہاں تو منظر ہی عجیب تھا۔ فرح جو بھرے پرے سسرال میں رہتی تھی سحری میں اٹھتی تو رات گئے تک اسے فرصت نہ ملتی۔ سب کی من پسند سحری بنانے کے لئے فرح کو سحری سے کم از کم ایک گھنٹہ قبل اٹھنا پڑتا تھا۔ چونکہ آدھی تیاری وہ رات کو کر کے سوتی تھی جیسے آٹا گوندھنا، سالن بنا کر رکھنا وغیرہ ورنہ تو شاید اتنی صبح اس سے سب کے لئے سحری بن ہی نہ سکتی۔ کسی کے لئے پراٹھے تو کسی کو سادی روٹی پھر چائے کسی کو زیادہ چینی والی تو کسی کو پھیکی، کسی کو رات کا سالن گرم کرکے دینا ہے اور کوئی آملیٹ کھائے گا یہی کرتے کرتے فرح چند لقمے چلتے پھرتے کھاتی اور چائے پی کر روزہ رکھ لیتی تھی پھر اس کے بعد برتن سمیٹنے اور دھونے کے چکر میں فجر کی نماز جلدی جلدی پڑھ لیتی۔ اس کے بعد گھر کے بچے اور بوڑھے ساس سسر اٹھ جاتے جو روزہ نہیں رکھ سکتے تھے ان کا ناشتہ ، دوپہر کا کھانا اور بس پھ ظہر کی نماز پڑھ کر ابھی سانس ہی لی تھی کہ بس۔۔ افطار کی تیاری شروع جس میں پھر ایک لمبی فہرست تھی۔ بچے جو سحری کے وقت سوئے ہوتے تھے افطار میں ان کو بھی اپنی پسند کا کچھ نہ کچھ چاہیے ہوتا تھا۔ پھر بھی آخر میں کوئی نہ کوئی یہ جمہ ضرور کہتا “آج سموسے نہیں تھے افطار میں بالکل مزا نہیں آیا“
 
 
ایسا نہیں تھا کہ فرح کو کوئی بہت ظالم سسرال ملا تھا بلکہ گھر میں دیگر خواتین بھی فرح کی طرح ہی مصروف رہتی تھیں۔ ایسے میں علینہ جو حیرانی سے یہ سب دیکھ رہی تھی اب تقریباً پریشان ہوچکی تھی کیونکہ اس کی بہن جو شادی سے پہلے رمضان المبارک میں خشوع وغضوع سے عبادات کو زیادہ وقت دیتی تھی اب دن بھر کھانا پکانے میں اتنا مصروف رہتی کہ فرض نمازیں ادا کرنے کے لئے ہی بمشکل وقت نکال پاتی تھی تو نوافل کا اہتمام کہاں سے کرتی۔ اب تو وہ یہی کہتی تھی کہ “جلدی سے بس فرض پڑھ لیتی ہوں پھر کھانا بھی پکانا ہے“
 
یہ قصہ صرف فرح کا نہیں بلکہ ہمارے گھروں میں موجود ان تمام خواتین کا بھی ہے جو رمضان المبارک کے رحمتوں بھرے مہینے میں عبادت کرنے کے بجائے کچن میں کام کرتے ہوئے گزار دیتی ہیں۔ وہ یہ بھول جاتی ہیں کہ دنیاوی زندگی تو یہیں رہ جائے گی لیکن اپنی عبادات کا حساب انسان کو آخرت میں خود ہی دینا پڑے گا۔ نیچے ہم کچھ ایسے طریقے بتا رہے ہیں جنھیں اپنانے کی کوشش کی جائے تو گھر والوں کو اپنی زمہ داریوں کا احساس دلانے کے ساتھ آپ بہت ساتھ عبادات اور آرام کے لئے نکالنے میں بھی کامیاب ہوجائیں گی۔
 
زمہ داریاں بانٹیں
گھر میں تمام افراد میں زمہ داریاں بانٹنے کی کوشش کریں مثلاً گھر میں بھائی ، دیور ، بہن یا نند موجود ہیں اور گھر کے کاموں میں حصہ نہیں لیتے تو موقع دیکھ کر سبزیاں اور چھری ان کے حوالے کردیں۔ اسی طرح چھوٹے موٹے کاموں کے لئے گھر والوں سے مدد لیں اس طرح انھیں بھی اپنی زمہ داری کا احساس ہوگا۔ گھر میں بچے ہیں تو شوق میں وہ بھی ہاتھ بٹانا چاہتے ہوں گے انھیں روکیں نہیں بلکہ ان کی عمر کی مناسبت سے انھیں بھی کوئی کام دے دیں یہ ان کی تربیت کے لئے اچھا طریقہ ثابت ہوگا۔
 
بہت زیادہ ڈشز کا اہتمام کرنے کے بجائے چند ڈشز پکائیں
پتا نہیں کیوں رمضان کے مہینے میں مسلمانوں کی توجہ نیکی کمانے سے زیادہ کھانے پینے پر ہوتی ہے جبکہ روزہ تزکیہ نفس کا نام ہے نا کہ اس بات کے انتظار کا کہ کب روزہ کھلے اور کب میں کھانے پر ٹوٹ پڑوں۔ اس لئے کوشش کریں کہ افطار میں دو سے زائد ڈشز نہ بنائیں یا پھر روزہ کھولنے کے بعد کھانا کھانے کی عادت ڈالیں اس سے ایک تو تلے ہوئے مضرِ صحت کھانوں سے نجات مل جائے گی اور دوسرا وقت بھی بچے گا جسے آپ عبادات میں گزار سکتی ہیں۔
 
 
غصے سے پرہیز کریں
اگر آپ کے شوہر کو یا گھر کے کسی فرد کو بلاوجہ نکتہ چینی کی عادت ہے تو ان سے بحث مباحثے سے پرہیز کریں البتہ موڈ اچھا ہو تو مناسب الفاظ میں سمجھائیں کہ آپ کا بھی روزہ ہوتا ہے اس کے باوجود آپ نا صرف سب کی ضروریات کا خیال رکھتی ہیں بلکہ عبادات کے لئے وقت بھی نہیں نکال پاتیں۔ بجائے خاموش رہنے کے اپنی بات کہہ کر لوگوں کے رویے میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔
 
خاتونِ خانہ کے روزے کا خیال رکھیں، مرد حضرات سے گزارش
گھر میں خاتونِ خانہ ماں ہو یا بہن یا پھر بیوی آپ کو ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ بھی انسان ہے اور ان کا بھی روزہ ہے۔ اگر آپ سارے دن کے تھکے ہوئے آئے ہیں تو گھر کی خواتین بھی سارا دن آرام نہیں کرتیں۔ ان کے روزے کا خیال کریں اگر آپ کے پاس وقت ہے تو گھر کے کاموں میں ہاتھ ضرور بٹائیں اور اگر ایسا نہیں کرسکتے تو ایک ہی وقت میں مختلف کھانے پکانے کی فرمائش سے گریز کریں۔ افطار پارٹی کرنے سے پہلے خاتونِ خانہ سے مشورہ ضرور کریں اور ان پر مذید بوجھ لادنے کے بجائے ایسا دن چنیں جس دن آپ بھی ان کا ہاتھ بٹا سکیں۔ جو کھانا پکا ہوا ہو اس میں مین میخ نہ نکالیں کیونکہ کوئی خوشی سے تو کھانے میں نمک کم یا زیادہ نہیں کرے گا اگر غلطی ہوگئی ہے تو مناسب الفاظ میں بتادیں اور اچھا کھانا پکانے کی صورت میں تعریف ضرور کریں۔ یاد رکھیں کہ خواتین تو کسی نہ کسی طرح رمضان میں دوہری محنت کر لیں گی لیکن گھر کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے قیامت کے روز آپ کی پکڑ بہت سخت ہوگی۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
22 Apr, 2021 Views: 1718

Comments

آپ کی رائے