کھڑکی کے ایک طرف اندھیرے میں ڈوبی کائنات، دوسری طرف دور نیلی گول زمین: اس منظر کے لیے آپ کیا قیمت ادا کر سکتے ہیں؟

 
ایمازون ڈاٹ کام کے بانی جیف بیزوس لوگوں کو تفریح کی غرض سے خلا میں لے جانے کے لیے تیار ہیں۔ بیزوس کی کمپنی بلیو اوریجن کا کہنا ہے کہ وہ اپنے نیو شیپرڈ راکٹ اینڈ کیپسول سسٹم کو 20 جولائی کو خلا میں بھیجے گی۔
 
ویسے تو اس کا عملہ کمپنی کے خلابازوں پر مشتمل ہوگا لیکن ایک سیٹ کو آن لائن نیلام کیا جا رہا ہے۔
 
نیو شیپرڈ کی پروازیں مدار سے نیچے ہی ہوتی ہیں۔ انھیں سیدھا اوپر جانے اور نیچے آنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس دوران یہ کیپسول کچھ دیر کے لیے سطحِ زمین سے 100 کلومیٹر کی بلندی تک جاتا ہے۔
 
یہ حد ’کارمن لائن‘ کہلاتی ہے اور وسیع تر بین الاقوامی اتفاق ہے کہ خلا کا نقطہ آغاز یہی ہے۔
 
بلیو اوریجن کی ڈائریکٹر ایریئین کورنیل کا کہنا ہے کہ 'اب تک صرف 569 افراد کارمن لائن سے اوپر جا چکے ہیں۔ ہمارے نیو شیپرڈ راکٹ کے ذریعے ہم اس صورتحال کو بدلنے جا رہے ہیں، اور یہ تبدیلی ڈرامائی ہو گی۔'
 
مگر کیا 20 جولائی کو ہونے والی اس پرواز میں جیف بیزوس خود بھی ہو سکتے ہیں، اس سوال پر ایریئین نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
 
 
بلیو اوریجن کا یہ اعلان تقریباً 12 سال کے بعد خلائی سیاحت کے دوبارہ فروغ پانے کا ثبوت ہے۔
 
اور جیف بیزوس کا یہ منصوبہ انتہائی امیر لوگوں کے لیے دستیاب متعدد آپشنز میں سے صرف ایک ہے۔ اُن کے حریف ایلون مسک بھی رواں سال خزاں میں ’سپیس ایکس ڈریگن شپ ‘نامی خلائی جہاز لانچ کریں گے جس کا تمام تر عملہ سویلین ہوگا۔ نیو شیپرڈ کے برعکس یہ کیپسول زمین کے مدار میں جائے گا اور کئی دن تک خلا میں رہے گا۔
 
نیو شیپرڈ 18 میٹر لمبا اور چار میٹر چوڑا ہے۔ یہ مکمل طور پر دوبارہ قابلِ استعمال ہے۔ یہ سیدھا اوپر کی جانب ٹیک آف کرتا ہے اور بالکل سیدھ میں ہی لینڈ کرتا ہے۔
 
 
یہ مغربی ٹیکساس میں وین ہارن کے صحرائی علاقے سے آپریٹ کرتا ہے۔
 
ایک پرواز کے دوران بوسٹر یونٹ مسافروں کے کیپسول کو 76 کلومیٹر بلندی تک لے کر جاتا ہے جہاں یہ جدا ہوجاتے ہیں۔
 
راکٹ سے ملنے والی طاقت سے یہ کیپسول خلا تک جاتا ہے اور اس کے بعد تین پیراشوٹوں کے ذریعے زمین پر واپس آ جاتا ہے۔
 
اور اس دوران بوسٹر بھی کنٹرولڈ انداز میں زمین پر واپس آ جاتا ہے اور کنکریٹ کے بنے لینڈنگ پیڈ پر اتر جاتا ہے۔
 
بلیو اوریجن کو اُمید ہے کہ نیو شیپرڈ نہایت پُرکشش ہوگا۔ مسافروں کو انتہائی بلندی پر تین منٹ تک بے وزنی کی کیفیت محسوس کرنے کا موقع ملے گا۔ اس کے علاوہ وہ خلا کی تاریکی اور زمین کے افق کی گولائی بھی دیکھ سکیں گے۔
 
 
لیکن کمپنی اس پر بات نہیں کر رہی کہ مستقبل میں یہ تفریح کس قیمت پر دستیاب ہوگی بلکہ اس نے صرف اگلے دو ماہ میں اپنے پہلے مشن کے دوران ایک سیٹ کی نیلامی کا اعلان کیا ہے۔ بلیو اوریجن کا کہنا ہے کہ اس نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے مصروفِ عمل اپنی فاؤنڈیشن کو جائے گی۔
 
مگر طویل مدت میں کمپنی شاید دو لاکھ ڈالر فی نشست یا ابتدائی طور پر اس سے بھی زیادہ کمانے کی توقع کر سکتی ہے۔
 
ایریئین کورنیل کہتی ہیں کہ 'یہ مارکیٹ ابھی نئی ہے۔ ہم دروازے کھول رہے ہیں اور دیکھنا چاہتے ہیں کہ مارکیٹ کیا کہتی ہے۔'
 
وہ مزید کہتی ہیں کہ 'مجھے ذاتی طور پر لگتا ہے کہ لوگ یہ دیکھیں گے کہ یہ تجربہ کتنا زبردست ہے اور خود اس میں حصہ لینا چاہیں گے۔ اور اس کے بعد امید ہے کہ جیسے جیسے قیمتیں نیچے آئیں گی ویسے ویسے اس کا دائرہ وسیع ہوتا جائے گا۔'
 
 
سنہ 2000 کی پوری دہائی کے دوران کئی انتہائی دولت مند افراد بین الاقوامی خلائی سٹیشن تک گئے مگر روسی خلائی ادارے کے تحت چلنے والا یہ پروگرام سنہ 2009 میں بند ہوگیا۔
 
مگر اب لگتا ہے کہ اس شعبے میں دلچسپی دوبارہ بڑھ رہی ہے۔
 
جیف بیزوس اور ایلون مسک کے علاوہ برطانوی کاروباری شخصیت سر رچرڈ برینسن بھی 'راکٹ پلین' نامی منصوبے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ پھر وہ کمپنیاں ہیں جو رواں دہائی میں اپنا خلائی سٹیشن لانچ کرنا چاہتی ہیں۔ ان کمپنیوں میں سے ایک ایگزائم ہے اور اس کے بانی بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے ایک سابق پروگرام مینیجر ہیں جو ناسا کے لیے کام کر چکے ہیں۔
 
بلیو اوریجن نے یہ اعلان خلا میں جانے والے پہلے امریکی ایلن شیپرڈ کی پرواز کے 60 سال مکمل ہونے پر کیا۔ اُن کے نام پر ہی اس راکٹ کا نام نیو شیپرڈ رکھا گیا ہے۔
 
پانچ مئی 1961 کو ایلن شیپرڈ نے اپنے پروجیکٹ مرکری فریڈم 7 کیپسول میں 15 منٹ تک مدار سے نیچے پرواز کی تھی۔
 
Partner Content: BBC Urdu
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
06 May, 2021 Views: 1156

Comments

آپ کی رائے