بے گھر افراد جو پناہ گزیں ہوکر عذاب کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں

انسان اپنے گھر بار اور وطن کی مٹی سے جدا ہوجائے تو در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔ ایسے انسان دنیا میں مارے مارے پھرتے ہیں لیکن کوئی انھیں پناہ نہیں دیتا۔ جو پناہ گزیں ہوتے ہیں وہ ہر آن اپنے گھروں میں واپس جانے کے خواب دیکھتے ہیں۔ لیکن جنگ، نسلی فسادات،تشدد اور سیاسی لڑائیوں لوگوں کو گھروں سے بے گھر ہونے پر مجبور کردیا ہے۔ افغانستان، عراق، کشمیر، بوسینیا، میں لاکھوں لوگ جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہوئے۔ اقوام متحدہ کا ادارہ جسے انسانوں کے تحفظ کے لیا تشکیل دیا گیا تھا، آج چند دولت مند اور بااثر ملکوں نے یرغمال بنایا ہوا ہے۔ جو ملکوں پر جنگ مسلط کرنے میں معاونت کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں اس وقت ایک کروڑ پچپن لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر دیگر ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہیں اور ان پناہ گزینوں میں سے اسّی فیصد کے میزبان پاکستان جیسے غریب ممالک ہیں۔ جن کی معشیت پر اس بوجھ نے تباہی پھیر دی ہے۔ عالمی یومِ پناہ گزیناں کے حوالے سے جاری اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق دنیا میں تین ممالک پاکستان، ایران اور شام میں ان پندرہ اعشاریہ چار ملین پناہ گزینوں کی ایک چوتھائی سے زیادہ تعداد قیام پذیر ہے جبکہ پاکستان میں دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ پناہ گزین رہ رہے ہیں۔اس رپورٹ کی تیاری میں رواں سال شمالی افریقہ میں سیاسی بے چینی کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والی افراد کی تعداد شامل نہیں ہے۔اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزیناں انتونیو گترز اس بارے میں بتاتے ہیں کہ اگرچہ مغربی ترقی یافتہ ممالک پناہ گزینوں کی ممکنہ آمد کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے رہتے ہیں لیکن ان کے یہ خدشات درست نہیں کیونکہ دنیا میں پناہ گزینوں کا بوجھ تو غریب ممالک ہی اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگرچہ بڑے پیمانے پر نقل مکانی سے مسائل کھڑے ہوتے ہیں لیکن مغربی ممالک حالات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں کیونکہ وہ خود بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں‘۔ہائی کمیشن برائے پناہ گزیناں کا کہنا ہے کہ سنہ انیس سو پچاس میں ایجنسی کے قیام سے اب تک حالات بہت بدل چکے ہیں اور جہاں اس وقت توجہ دوسری جنگِ عظیم کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے اکیس لاکھ افراد پر تھی وہاں اب قریباً ساڑھے پندرہ ملین پناہ گزین موجود ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد موجودہ صدی انسانیت کے لئے تباہی لے کر آئی ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں تو صرف اکیس لاکھ افراد بے گھر ہوئے تھے لیکن اب اپنا ملک چھوڑنے والے ڈیڑھ کروڑ افراد کے علاوہ صرف گزشتہ برس دنیا بھر میں دو کروڑ پچھہتر لاکھ افراد اندرونِ ملک نقل مکانی پر مجبور ہوئے جبکہ ساڑھے آٹھ لاکھ افراد نے سیاسی پناہ طلب کی اور یوں گزشتہ برس دنیا بھر میں کسی بھی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی کل تعداد چار کروڑ سینتیس لاکھ رہی۔ دنیا بھر کے پناہ گزینوں میں سے ایک تہائی فلسطینی ہیں اور ان کی تعداد پچاس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ لیکن اسرائیل ایک ناسور کی صورت میں اس خطے کے عوام پر مسلط ہے۔ اور اس کی چیرہ دستیوں سے بے گھر ہونے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ امریکہ جیسے دولت مند ممالک اس کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بیس فیصد پناہ گزینوں کا تعلق افغانستان سے ہے جن میں سے بیشتر پاکستان اور ایران میں قیام پذیر ہیں۔ پاکستان میں دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ پناہ گزین ہیں۔ جن کی وجہ سے ملک میں خوراک، رہا ئش، نقل حمل اور زندگی گزارنے کے وسائل روز بروز انسانی پہنچ سے دور ہورہے ہیں۔ بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے۔ اور عوام کی بڑی تعداد خط غربت سے نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ عراق سے سترہ لاکھ، صومالیہ سے سات لاکھ ستر ہزار اور کانگو سے چار لاکھ ستتر ہزار افراد نے نقل مکانی کی۔یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ ان پناہ گزینوں کو اگر ان کے میزبان ممالک اپنے معاشرے میں ضم نہ کریں تو انہیں شدید مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ ادارے کے ترجمان ایڈریئن ایڈورڈز کے مطابق ’یہ اکثر ہوتا ہے کہ ہمسایہ ممالک ان پناہ گزینوں کو سیاسی وجوہات پر شہریت نہیں دیتے‘۔تاہم یو این ایچ سی آر کا یہ بھی کہنا ہے ان افراد کو پناہ دینے والے ممالک کی سخاوت قابلِ تعریف ہے کیونکہ ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں جن کی اپنی آبادی کو مکمل وسائل میسر نہیں۔ادارے نے رپورٹ میں اس حوالے سے پاکستان کی مثال دی ہے جہاں پاکستان کی فی کس قومی پیداوار کے لحاظ سے سات سو دس پناہ گزینوں کے لیے ایک ڈالر کی رقم موجود ہے جبکہ اس کے برعکس جرمنی میں یہ شرح سترہ افراد فی ڈالر کی ہے۔ بے گھری کے اس عذاب میں عورتیں اور بچے بھی مبتلا ہیں۔ ایسے بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ جن کے ماں باپ نہیں ہیں۔ حال ہی میں یورپ میں پناہ کے لیے درخواست دینے والے ایسے افغان بچوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو ا ہے۔ جن کے ہمراہ کوئی بالغ شخص موجود نہیں ہوتا۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق اٹھارہ سال سے کم عمر کے چھ ہزار سے زائد بچے یورپ میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جوکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں ساٹھ فیصد زیادہ ہے۔دو ہزار آٹھ میں اعداد و شمار کے مطابق اٹھارہ سال سے کم عمر کے تین ہزار آٹھ سو بچوں نے یورپ میں پناہ کے لیے درخواست دی تھی۔بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کا کہنا ہے کہ ایسے تارکین وطن بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔یونیسف کا کہنا ہے کہ نئے اعداد و شمار اصل تعداد سے کم ہو سکتے ہیں کیوں کہ کئی بچے گرفتاری یا ملک بدر کیے جانے کے خوف سے پناہ کے لیے درخواست ہی نہیں دیتے۔یونیسف کی ایک نئی تحقیق کے مطابق یورپی ممالک تارکین وطن بچوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں کیوں کہ وہاں ان کے لیے کوئی مفید پالیسی موجود نہیں ہے۔امدادی کارکنوں نے حال ہی میں پیش آنے والے ایک واقعہ کی مثال دی جس میں یونان سے اٹلی جانے والی لاریوں میں چھپنے کی کوشش میں دو افغان بچوں میں سے ایک تیرہ سالہ بچہ ہلاک ہو گیا تھا۔برطانیہ میں ایک مطالعا تی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یونیسف کے مطابق تنہا سفر کرنے والے ان بچوں کو اکثر نسلی امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جب یہ اپنی کہانی کسی بڑے کو سناتے ہیں تو ان پر اعتبار نہیں کیا جاتا اور برطانیہ تک سفر کے دوران انہیں جس ذہنی اذیت سے گزرنا پڑتا ہے وہ اس کا مقابلہ نہیں کر پاتے۔اقوام متحدہ تارکین وطن بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مسئلے میں مزید تحقیق کی ضرورت تو محسوس کرتا ہے۔ لیکن اس کے تدارک کے لئے کوئی اقدام نہیں کرتا ۔ ان بے وسیلہ بچوں کو تحفظ پہنچانے کی فوری ضرورت ہے۔ دوسری جانب امریکہ کے اتحادی مملک جنہوں نے عراق پر حملے کئے اور لاکھوں لوگوں کو بے گھر کیا۔ وہ پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں پناہ بھی نہیں دیتے ۔ بلکہ انھیں گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیتے ہیں۔ برطانیہ نے بھی عراق کے پناہ گزینوں سے ایسا ہی سلوک کیا اور عراق سے آنے والے پناہ گزینوں کو آمد کے بعد سے حراست میں لے لیا اور پھر انھیں واپش عراق بھیج دیا ۔ واپس پہنچنے والے ان پناہ گزینوں کو عراق میں بھی ائیرپورٹ پر پوچھ گچھ کے لیے حراست میں رکھا گیا۔پناہ گزینوں کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر نے عراق کے بعض حصوں میں پرتشدد واقعات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے پیش نظر ان عراقیوں کی وطن واپسی پر تشویش کا اظہار تو کیا ہے لیکن وہ انسانی ہمدردی کے ناطے انھیں کوئی ریلیف فراہم کرنے میں نا کام رہا ہے۔ یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ یہ صورتِ حال اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ ان پناہ گزینوں کو بین الاقوامی تحفظ حاصل رہے۔ یو این ایچ سی آر نے برطانیہ کی بارڈر ایجنسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو، اس کے مطابق، عراقی پناہ گزینوں کو ڈی پورٹ کرنے کے سارے عمل کو شفاف رکھنے میں ناکام رہی ہے۔ پناہ گزینوں کی واپسی کا یہ عمل رضاکارانہ نہیں بلکہ انہیں زبردستی برطانیہ بدر کیا جا رہا ہے۔عراق واپسی کے لیے شارٹ لسٹ کیے گئے پناہ گزینوں نے بتایا کہ انہیں ان کی مرضی کے خلاف وطن واپس کرنے کے لیے مختصر مدت کے لیے حراستی مراکز میں منتقل کر دیا گیا ۔ایک عراقی پناہ گزین کو جس نے سترہ سال کی عمر میں ملک چھوڑا تھا ایک تین سالہ بیٹا برطانیہ میں چھوڑ کر واپس جانا پڑ رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ غیر معینہ مدت کے لیے حراست میں رہنے کو عراق واپسی پر ترجیح دیں گے۔عراقی پناہ گزین جن کو برطانیہ نے ملک بدر کیا ہے کا کہنا ہے کہ ان کو جہاز سے اتارنے کے لیے برطانوی بارڈر ایجنسی (یو کے بی اے) نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان افراد میں شیروان عبداللہ بھی تھے جنہوں نے بتایا کہ برطانوی اہلکاروں نے ان کو اور دیگر افراد کو جہاز سے اتارنے کے لیے تشدد کا نشانہ بنایا۔انہوں نے بتایا ’وہ ہم کو کھینچ رہے تھے اور انہوں نے ہمیں کہا کہ وہ ہمیں بری طرح ماریں گے اگر ہم جہاز سے نہ اترے۔‘ان سے جب پوچھا گیا کہ آیا یہ واقعہ جہاز پر پیش آیا تو ان کا کہنا تھا ’جی جہاز پر۔ اگر کوئی جہاز سے اترنے کے لیے تیار نہیں تھا تو وہ اس کو دھکیلتے، گردن سے پکڑتے اور تقریباً مار ہی ڈالتے اور وہ لوگ سانس بھی نہیں لے سکتے تھے۔‘عبد اللہ کا کہنا تھا کہ ان کی ساری رقم عراقی پولیس نے ہوائی اڈے پر لے لی۔تاہم عراقی حکام نے اس الزام کی سختی سے تردید کی۔دوسری جانب ملک بدر کیے گئے چودہ افراد نے یو این ایچ سی آر کو بتایا کہ یو کے بی اے کے اہلکار نے ان کو جہاز پر چڑھانے اور اتارنے کے لیے تشدد کا نشانہ بنایا۔تشدد کے یہ واقعات اکثر پناہ گزینوں کو بھگتنے ہی پڑتے ہیں۔ پناہ گزینوں کی آمد سے پاکستان بے پناہ مسائل کا شکار ہے۔ پاکستان میں افغان مہاجرین دو دہائی سے زیادہ عرصے سے مقیم ہیں اور واپس جانے کا نام نہیں لیتے۔ قوم پرست جماعتیں ان کی آباد کاری کے خلاف ہیں اور ان کی واپسی کامطالبہ کرتی ہیں۔ حال ہی میں پاکستان میں مقیم رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کی دوبارہ رجسٹریشن کا کام شروع کیا گیا ہے اور اب پہلی مرتبہ پناہ گزینوں کے اٹھارہ سال سے کم بچوں کو پیدائش کا سرٹیفیکٹ بھی جاری کیا جائے گا۔ یہ رجسٹریشن کارڈ ان پناہ گزینوں کو جاری کیے جا رہے ہیں جو پہلے سے رجسٹرڈ ہیں لیکن ان نئے کارڈ کی مدت دو ہزار بارہ تک ہوگی اور اس دوران افغان پناہ گزین قانونی طور پر پاکستان میں رہ سکیں گے جس کے بعد ان کی وطن واپسی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ کہا جارہا ہے کہ برتھ سرٹیفیکیٹ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس سے پناہ گزینوں کے بچوں کو شہریت دے دی گئی ہے بلکہ اس سرٹیفیکیٹ سے ان بچوں کو بنیادی تمام سہولیات دستیاب ہوں گی۔ یہ فیصلہ حکومت پاکستان اور افغانستان کے حکام کے مابین اس سال مارچ میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا تھا جس پر عملدرآمد اب کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کو بچوں کے مستقبل کے لیے بہتر قرار دیا جارہا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اب یہ بچے اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم بھی حاصل کر سکیں گے۔دو ہزار نو کے سروے کے مطابق پاکستان میں کوئی سترہ لاکھ رجسٹرڈ افغان پناہ گزین موجود ہیں ۔ جنہیں اب دو ہزار بارہ تک رہنے کی آزادی دی گئی ہے۔ دوسری جانب افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا سلسلہ بھی جاری ہے اور اس سال مارچ سے اب تک کوئی نوے ہزار پناہ گزین واپس اپنے وطن چلے گئے ہیں جنھیں تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں اندرونی شورش اور دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کی بنیاد پر بھی نقل مکانی ہوئی ہے۔ سوات آپریشن میں تیرہ لاکھ افراد بے گھری کے عذاب سے گزرے اور انھیں اپنے ہی ملک میں نقل مکانی میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ۔ سیلاب نے بھی لاکھوں افراد کو بے گھر کیا اور انھیں گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور کیا ۔ پاکستان فوج اور طالبان کے درمیان لڑائی سے متاثر ہونے والوں پر اربوں روپے کے اخراجات آئے لیکن امیر ملکوں نے جنہوں نے اپنی جنگ ہم پر مسلط کردی لیکن کوئی قابل ذکر امداد نہ دی ۔ امریکی محکمہ دفاع جہازوں کے ذریعے پاکستان امداد پہنچانے پر غور کرتا رہا اور لوگ مصیبت میں مبتلا رہے۔ پینٹاگون کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ وہ حکومتِ پاکستان سے باقاعدہ درخواست کا انتظار کر رہے ہیں اور اس کے بعد حلال خوراک، پانی کے ٹرک اور ٹینٹ بھیجے جائیں گے۔ یو این ایچ سی آرکے مطابق سوات آپریشن میں 1994 میں روانڈا میں ہونے والی لڑائی کے بعد ہجرت کرنے والے لوگوں سے زیادہ افراد نے ہجرت کی ہے۔یو این ایچ سی آر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں معلوم ہے کہ یہ اقتصادی طور پر مشکل دور ہے لیکن ہمیں یقین ہے کہ اس عالمی برادری کی، جس نے مالی نظام کو بچانے کے لیے اربوں حاصل کیے ہیں، ذمہ داری ہے کہ ضرورت مند لوگوں کی مدد کرے۔‘لیکن اس مصیبت میں بھی اسی فیصد پناہ گزینوں کا بوجھ عوام نے اٹھایا۔ پاکستان مٰیں مقیم افغان پناہ گزین اپنے ملک کے ساتھ وابستگی رکھتے ہیں اور اس کے سیاسی عمل سے بھی دور نہیں رہتے ۔ حالیہ افغانستان کے انتخابات میں بہت سے لوگوں نے ووٹ ڈالنے میں حصہ لیا، صدارتی انتخاب میں ان کی دلچسپی دور ہتے ہوئے بھی برقرار رہی ۔سندھ کے دارالحکومت کراچی میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے مطابق نوے ہزار افغان پناہ گزین رجسٹرڈ ہیں جبکہ افغان پناہ گزین سندھ کے جرگہ کے چیئرمین حاجی عبداللہ شاھ بخاری کا کہنا ہے کہ سندھ میں چار لاکھ سے زائد پناہ گزین موجود ہیں جن کی اکثریت کراچی میں آباد ہے۔حاجی عبداللہ نے صدارتی انتخابات میں عبداللہ عبداللہ کی حمایت کی تھی اور انہیں یقین تھا کہ وہ جیت جائیں گے۔ وہ حامد کرزئی کے ناقد ہیں اور کہتے ہیں کہ ’حامد کرزئی نے آٹھ سال میں کیا کیا ہے۔ انہوں نے تو اتنا بھی نہیں کیا کہ یہاں جو فارین ایکٹ میں افغانی گرفتار ہوتے ہیں انہیں رہا کرائیں۔ تو وہ ملک کے لیے کیا کریں گے؟‘ ۔‘کراچی میں افغان شہریوں کی اکثریت سپر ہائی وے پر قائم کیمپ میں رہتی ہے۔ یہ کیمپ انیس سو چھیاسی میں قائم کیا گیا تھا۔شام میں حالات خراب ہونے پر بھی ایک ہزار شامی باشندوں نے ترکی میں پناہ لی ہے۔ عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ بینڈکٹ اور اقوامِ متحدہ نے شام سے درخواست کی کہ وہ اپنے شہریوں پر حملے نہ کریں۔یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب فرانس اور برطانیہ نے اقوامِ متحدہ کی ایک قرارداد کے ذریعے شام میں مظاہرین کے خلاف حکومتی کاروائیوں کی مذمت کرنے کی تجویز پیش کی۔ شام کے شمالی شہر جسر الشغور میں ایک سو بیس سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات کے بعد شہریوں میں سخت فوجی کاروائی کے خدشات پائے جاتے ہیں۔حکام کےمطابق جسر الشغور کے شہریوں نے حکومت سے وہاں امن قائم کرنے کےلیے فوج کو مداخلت کرنے کی درخواست کی ہے۔ شامی حکام کا کہنا ہے کہ ’مسلح گروہوں‘ نے ان سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کیا اور حکومت شہر میں حکومتی کنٹرول کی بحالی کے لیے ’طاقت کا استعمال‘ کرے گی۔ترک وزیر اعظم رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ وہ شام سے آنے والے پناہ گزینوں کی وجہ سے اپنے ملک کی سرحدیں بند نہیں کریں گے۔ پناہ گزینوں کا یہ مسئلہ ساری دنیا کے لئے ایک المیہ کہ حیثیت رکھتا ہے۔ جس میں ترقی یافتہ دور میں انسان اپنے گھروں سے بے گھر کر دئے گئے ہیں۔
Ata Muhammed Tabussum
About the Author: Ata Muhammed Tabussum Read More Articles by Ata Muhammed Tabussum: 376 Articles with 445754 views Ata Muhammed Tabussum ,is currently Head of Censor Aaj TV, and Coloumn Writer of Daily Jang. having a rich experience of print and electronic media,he.. View More