منایا جانا ’یومِ والد‘ کا!

(Anwar Graywal, Bahawal Pur)

20جون عجیب دن تھا، اُس روز پاکستانی قوم نے دنیا کے ساتھ زبردست اظہارِ یکجہتی کیا۔ سوشل میڈیا ’دوستوں‘ کے ’’ابّا جان‘‘ کی تصویروں اور ان کے لئے دعاؤں سے لبریز تھا۔ فیس بُک گویا اُس روز صرف ’ابّاجانوں‘ کے لئے مخصوص تھی۔ دعائیہ کلمات کے ساتھ ساتھ والد محترم کی اہمیت پر بھی ادبی جملے پڑھنے کو ملے۔ ’’خود دھوپ میں جلا، ہمیں سایہ دیا‘‘، ’’باپ سِراں سے تاج محمد، تے ماواں ٹھنڈیاں چھاواں‘‘۔ کسی نے بتایا کہ باپ کے بچھڑنے کے بعد اس کی اہمیت کا اندازہ ہوا، کسی نے والد کی قبر کو نور سے بھر دینے کی دعا کی، کوئی اپنے والد کی مغفرت کے لئے دعاؤں کا طلبگار تھا۔ کسی نے I LOVE U BABA (PAPA)لکھا، ہر کسی نے اپنے انداز میں اپنے والد سے محبت کا اظہار کیا۔ معلوم یہی ہوا کہ یار لوگ اپنے اپنے والد صاحب کو نہ صرف بے حد قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، بلکہ اُن کی خدمت وتکریم میں بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ قوم کا یہ جذبہ قابلِ تحسین و تقلید ہے ۔ بعض کٹر مذہب پسند لوگ سوشل میڈیا کے کئی معاملات میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے، مگر ’یومِ والد‘ کے موقع پر انہوں نے بھی اپنا حصہ ملا کر ثوابِ دارین حاصل کرنے کی کوشش کی ہے، یہ دوڑ ہی ایسی ہے کہ قدامت پرست اور رجعت پسند لوگ بھی اس میں شامل ہونے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کئی احباب نے اپنے والد صاحب کا اﷲ اور رسولﷺ سے بھی خوب تعلق ظاہر کیا ہے، اس ضمن میں عملی مثالیں بھی سامنے لائی گئی ہیں، اور بعض نے زبانی طور پر ہی بتایا کہ ان کے ابا جان بہت بڑے عاشقِ رسولﷺ تھے۔ جن کے والد صاحب اس جہانِ فانی سے رخصت ہو چکے ہیں، اُن کے دعائے مغفرت وغیرہ کی درخواستیں کی گئیں، جو اﷲ تعالیٰ کے فضل وکرم سے حیات ہیں، اُن کی صحت، تندرستی اور درازی عمر کی دعاؤں کی التماس کی گئی۔

بہت سے ’دوست‘ ایسے ہیں، جن کے پاس صرف پرانی بلیک اینڈ وائٹ تصویر ہی موجود تھی، ایسے دوست یقینا خود بھی کافی پرانے ہو چکے ہیں۔ مگر اکثریت ان لوگوں کی ہے، جو کیمرہ یا موبائل سے بنی تصویر سامنے لائے ہیں، بلکہ خود کو والد صاحب کے ساتھ کھڑا کرکے سیلفی کی پیش کش بھی کی گئی ہے۔ بہت ساری تصویروں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ والد صاحب کی شخصیت اور وجاہت ’’برخوردار‘‘ سے بہت بہتر ہے، اگرچہ والد صاحب کو خود سے اچھا کہنا اچھا ہی لگتا ہے، مگر جن کے والد بہت اچھے تھے، ان کے ’’بچوں‘‘ کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اپنے والد صاحب کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے کچھ اچھے ہی دکھائی دیں۔ مگر کیا کیجئے یہ ’’اچھائی‘‘ بھی خدا کی دین ہے، شکل، قد، وجاہت تو جسے بخشی گئی، مگر سلیقہ مندی، نفاست، تہذیب وغیرہ کے ضمن میں تو بہتری کی گنجائش رہتی ہے۔

ایسے ’دوست‘ بھی ہیں، جو اپنے اپنے ابا جان کی ’نمائش‘ اور دعاؤں کے حصول سے محروم ہی رہے۔ ان میں بعض ایسے ہوں گے، جو اس کارروائی کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے اس نیک کام میں شامل ہی نہیں ہوئے، یا ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو اپنے والد صاحب کی تصویر سے ہی محروم ہیں، کیونکہ انہیں اس دنیا سے کوچ کئے بہت سے سال بیت گئے اور تب تصویروں کا اس قدر رواج نہیں تھا، شناختی کارڈ کا اجراء بھی نہیں ہوا تھا، دیگر دستاویزات (رجسٹری وغیرہ) پر تصاویر بنانے کا چلن بھی نہیں تھا، یوں بے شمار لوگ خاص طور پر دیہات کا پس منظر رکھنے والے پرانے لوگ تصاویر کے بغیر ہی گزر گئے۔

اپنے معاشرے میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو والد صاحب کے ساتھ وہ رویہ اختیار نہیں کرتے جو اس ’’یومِ والد‘‘ کے موقع پر بہت سے لوگوں نے ظاہر کیا ہے، بلکہ معاملہ بالکل برعکس ہے، اس دن کے موقع کی مناسبت سے والد کے نافرمانوں کا ذکر بھی غیر مناسب نہیں۔ مغرب میں خاندان کا وجود تقریباً اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے، اپنے ہاں اﷲ کے فضل سے ابھی تک بہت سا بھرم قائم ہے، مسلمان ہونے کی حیثیت سے اسلام ہمیں اپنے والد یا والدہ یا کسی کے حقوق کے لئے ہمہ وقت تیار رہنے کا حکم دیتا ہے، وہ یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ سال بھر والد کے قریب نہ آئیں، جب ’یومِ والد‘ آئے تو پھولوں کا گلدستہ لے کر سیلفی بنانے پہنچ جائیں۔ اسلام میں نہ اس کام کی گنجائش ہے اور نہ ہی اپنے ہاں ایسا ہوتا ہے۔ یوں سال بھر میں ایک ہی دن منانا اور اپنے جذبات کا اظہار کرنا کسی طور مناسب نہیں۔ ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر اپنا جائزہ ضرور لینا چاہیے کہ آیا جب ہمارے والد صاحب ہمارے سر پر سایہ فگن تھے تو ہم نے اُن کی کس قدر خدمت کی؟ یا بعد میں احساس ہونے پر لفظوں اور جملوں کا سہارا لینے لگے، زندگی میں ان سے بیزار رہے اور اب ان کی بخشش کے لئے دعاؤں کی اپیلیں کر رہے ہیں۔ اور یہ بھی کہ جن ’فیس بکی دوستوں‘ کے والد زندہ ہیں، وہ بھی اپنا جائزہ لے سکتے ہیں کہ کیا وہ اُن کی اس قدر خدمت کرتے ہیں، جتنی سوشل میڈیا پر دکھائی جاتی ہے، ان میں سے کتنے ہیں جو ہر روز شام کو اپنے والد کے پاؤں دباتے ،ان کا ہر حکم بجا لاتے اور ان کی خدمت کے لئے چوکس وچوکنا کھڑے رہتے ہیں، ابھی بھی ان کے پاس مہلت ہے، وہ والدین کی خدمت کرکے اپنی عاقبت سنوار سکتے ہیں، صرف فیس بک پر سٹیٹس لگانے ، محبت بھرے جملے لکھنے، دعاؤں کی اپیل کرنے اور سیلفیاں بنانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: muhammad anwar graywal

Read More Articles by muhammad anwar graywal: 607 Articles with 287074 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Jul, 2021 Views: 238

Comments

آپ کی رائے