نیا پل لنڈا بازار حیدرآباد

(Shahbaz Khan, )

دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے افغان طالبان افغانستان کی سب سے موثر جنگی و سیاسی قوت ہیں ان کو مختصراً طالبان کہا جاتا ہے۔ نسلی اعتبار سے یہ پشتون ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو روس کی افغانستان میں آمد کے بعد افغان جہاد میں مجاہدین کے ساتھ مل کر لڑتے رہے۔ روس کو شکست دینے کے بعد مجاہدین کی آپس میں شدید چپقلش کے باعث 1994ء میں ظہور پانے والے تحریک اسلامی طالبان کے نام سے چند طلبہ کا گروہ تھا جسے ملا محمد عمر نے قائم کیا اور انہی کی سربراہی میں بزور بازو افغانستان کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا اور اپنی حکومت امارت اسلامیہ افغانستان کے نام سے قائم کرلی جسے وہ اسلامی خلافت قرار دیتے تھے۔2002ء سے اب تک افغانستان میں شورش چل رہی ہے۔گزشتہ دنوں تحریک طالبان افغانستان کے ترجمان سہیل شاہین نے ایک صحافی کو انٹرویو دیتے ہو ئے کہا کہ مذاکرات کی میز پر جو فیصلہ ہو گا وہ ہمیں منظور ہو گا لیکن نظام اسلامی ہو گا۔ ہم نے دوحہ مذاکرات پر بھی دستخط کیے مگر افغان حکومت نے ہمارے قیدی اب تک رہا نہیں کیے۔ ترجمان طالبان نے کہا کہ مفاہمت مذاکرات کے ذریعے حل کو پہنچے، یہ ہماری پالیسی ہے۔ انہوں نے اسلامی نظام پربھی زور دیا ۔ سہیل شاہین نے انڈیا کو خبردار کیا ہے کہ وہ قطعا افغانستان کے مسائل میں در ادندازی نہ کرے کیوں کہ ایسا کرنے سے نقصِ امن کو خدشہ لاحق ہو سکتا ہے ۔ گزشتہ دنوں بھی بھار ت نے طالبان کے خلاف برسرِ پیکار افغان طالبان کوقتل کرنے کے لیے جہازبھر بھر کراسلحہ بھیجا جو کے اصولاََ دوحہ مذاکرات اور افغان امن معائدہ کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ۔

170 اضلاع پر طا لبان نے قبضہ کرنے کا دعوی کیا ہے ۔ مگر ایسا پچھلے 19 سال سے ممکن نہ ہو سکا تھا تو ابھی بھی یہ ناممکن تھا۔لیکن لگتا ایسے ہے جیسے معروضی حالات کو دیکھ کر بین الاقوامی طاقتوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب طالبان سے ہی مفاہمت کر لی جائے اور اپنے مفادات کا حصول یقینی بنایا جائے ۔ چونکہ اب طالبان نے گولی بندوق اور زبردستی نفاذِ اسلامی کی پالیسی کو کچھ عرصہ تک ترک کرنے کا فیصلہ کر لیاہے۔ طالبان چونکہ حکومت چلا چکے ہیں تو انہیں بخوبی اندازہ ہے کہ سیاست اور دین ساتھ ساتھ کیسے چلتے ہیں؟ اور موجودہ حالات میں زمینی حقائق کیا ہیں؟ طالبان کا چند ہی دنوں میں اشرف غنی کی حکومت بیساکھیوں پر لاکھڑا کرناتسلی بخش نہیں ہے۔ بہرحال افغان اتحادیوں کو ایک بات سمجھنا ہو گی کہ اب اتحادی کے دل و دماغ میں جو بھی ہو ! اتحادی افغانستان میں جو کھیل کھیلنا چاہیں اب فضاء اور ہوا دونوں طالبان کے حق میں ہیں۔ اب حکومتوں کی بندر بانٹ میں طالبان کا کردار انتہائی مضبوط ہو گا۔

اب طالبان کو ڈکٹیشن دینا مشکل ہو گا ۔ طالبان مسلمان ملکوں کیساتھ اختیارات کی منصفانہ تقسیم پر چلنا چاہتے ہیں۔اس بار لگتا ہے کہ تین بڑی سپر پاورز کو شکست دینے کے بعد طالبان کافی پر اعتماد ہوچکے ہیں اورLevel playing fieldپر کھیلنا پسند کریں گے۔ گولا بارود کی سیاست کو فلاح سمجھنے والے طالبان اب گزر گئے۔ آج کے طالبان’’ گلوبل ویلجــ‘‘پر یقین کامل رکھتے ہیں اور زندہ رہنے اور سیاست و مفاہمت کے گُر جانتے ہیں۔ آج کے طالبان پرانے والے طالبان نہیں رہے۔ اور حقیقت احوال یہ ہے کہ بین الاقوامی طاقتیں کبھی بھی کسی اسلامی ملک کو آسانی سے کسی بلاک کا حصہ نہیں بننے دیں گی۔

آج چین ، پاکستان ، ایران ، ترکی اور امریکہ افغان طالبان کے اتحادی نظر آتے ہیں۔ اورطالبان نے جو چال چلی ہے وہ لاجواب ہے۔جلد ہمارے مشاہدہ میں آئے گا کہ طالبان نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور وہ عوام کی رائے جاننا چاہیں گے اورتمام سٹیک ہولڈرز کو مذاکرات کی میز پر دعوت عام دیں گے تو ایسے میں تمام پڑوسی ممالک بشمول پاکستان ، ترکی اور امریکہ وغیرہ انہیں بھرپور سپورٹ کریں گے اور کوئی نہ کوئی حل نکالیں گے اور یاد رہے اس بار حل وہی ہو گا جس میں طالبان کے مقاصد کی کم از کم 70 فیصد تکمیل ہو گی۔ طالبان کے مقاصدکیا ہیں ؟ اس کا انداز ہ لگانا قبل از وقت ہے۔

افغانستان کے اتحادیوں کی افغان علاقوں میں بڑھتے ہوئے طالبان کے اثر و رسوخ اور قبضے پر گہری خاموشی اور پُراسرار حمایت معنی خیز ہے۔ اتحادیوں میں اہم ترین پاکستان ترکی اور امریکہ ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان بڑی سمجھ داری سے امن کاز کے لیے آگے بڑھے اور میڈیا اس میں مثبت کردار ادا کرے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahbaz Khan
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Jul, 2021 Views: 134

Comments

آپ کی رائے