خوشیاں بانٹیں،خوش رہیں

(Ilyas Mohammad Hussain, )

 اس کا خاندان بہت غریب تھا مصرکی ایک چھوٹی سی 6 سالہ معصوم بچی کو بھی محنت مشقت کرنا پڑتی تھی وہ حسب ِ معمول آج بھی سڑکوں پر ٹشو پیپرز بیچ رہی تھی، چہرے پر بلاکی معصومیت ہونٹوں پرمسکراہٹ لئے یہ اِدھر سے اْدھر پھدکتی پھر رہی ہے جیسے تتلی اڑتی پھررہی ہو گاہکوں کو آتے دیکھ کر اپنی چھوٹی سی ٹوکری ان کے سامنے کرتی ہوئی کہتی: آپ کو ٹشو پیپرز چاہئیں؟ کرونا کی وباء نے ٹشو پیپرز کی مانگ میں اضافہ کردیا تھا 6 سالہ معصوم بچی نے اسے آسان کاروبار جان کر اختیارکیا تھاہلکے پھلکے ٹشو پیپرز شام تک کافی تعدادمیں فروخت ہوجاتے جو ان کی گذر اوقات کے لئے کافی اجرت ہوتی اچانک وہ بچی وہ ایک خاتون کے سامنے سے گزری پھر ٹھٹک کررہ گئی اس نے دیکھا کہ وہ خاتون رو رہی ہے۔معصوم بچی اس کے پاس رک گئی اس نے سوچا میں نے تو زندگی میں صرف اپنی دادی کو روتے دیکھاہے وہ بھی اس وقت جب وہ مالی مسائل سے دوچارہوتی لیکن یہ خاتون وضع قطع اور شکل صورت سے آسودہ حال دکھائی دیتی ہے پھر یہ خاتون کیوں رو رہی ہے ؟ نہ جانے بچی کے جی میں کیا آئی کہ اس نے خاتون کے کندھے پر اپنا ننھا منا ہاتھ رکھ دیا خاتون نے چونک کر سراٹھایا اور اشک بار آنکھوں سے اس پیاری سی بچی کو دیکھا جو چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ لئے اسے ٹشو پیپر کا پیکٹ پیش کر رہی تھی، اس نے انجانے میں ٹشو پیپر نکالا اور اپنی آنکھوں کے آنسو پونچھنے لگی۔ پھر اس نے پیارسے بچی کا گال تھپتپایا خاتون سوچوں میں گم ہوگئی اچانک اس نے اپنے پرس سے ٹشو پیپرز کی قیمت نکالی اور بچی کو پیسے دینے کے لئے دیکھا تو وہ نہ جانے کہاں جا چکی تھی اس نے ادھر ادھر دیکھا لیکن وہ کہیں نظرنہ آئی اسے چھوٹی سی معصوم اور مسکراتی ہوئی بچی اسے بہت اچھی لگی اس نے دل ہی دل میں سوچا اتنی بے لوث بچی کو اﷲ جانے کون سے مسائل درپیش ہیں موقعہ ملا تو وہ ضرور اس کی مدد کرے گی اضطرابی کیفیت میں خاتون اٹھ کھڑی ہوئی پھر تھوڑی دور جاکر ایک خالی پر جا کر بیٹھ گئی، کچھ سوچا اور پھر اپنے موبائل سے اپنے خاوند کو میسیج کیا: ’’میں اپنے کئے پر نادم ہوں، جو کچھ ہوا اس میں میری بھی غلطی تھی جس کا مجھے افسوس ہے، آپ جانے دیں، آپ کا مؤقف درست ہے۔‘‘جس وقت موبائل کا میسج الرٹ بجا خاتون کا خاوند ایک ہوٹل میں پریشان حال بیٹھا تھا کہ اسے بیوی کا یہ خوشگوار پیغام ملا کہ میں فلاں پارک میں موجود ہوں آپ آجائیں اس کے چہرے پر پرسکون مسکراہٹ چھا گئی۔ ان میاں بیوی کے مابین کسی بات پر جھگڑا ہوگیا تھا۔ اس نے ویٹر کو بلوایا اور بڑی خوشی سے اسے پچاس مصری پونڈ پکڑا کر کہا کہ یہ تمہارے ہیں، ویٹر کو اعتبار نہ آیا اور کہنے لگا: چائے کی قیمت تو صرف 5 پونڈ تھی؟! باقی تمہاری ٹپ ہے، وہ گویا ہوا ۔۔اب ویٹر کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، ویٹر کو اتنی بڑی رقم کا ملنا کوئی معمولی بات نہ تھی، اس نے ایک فیصلہ کیا اپنی اس ٹپ میں میں کسی اور کوبھی شریک کروں گا ا وہ فوراً اس بوڑھی عورت کے پاس جا پہنچا، جو فٹ پاتھ پر کپڑا بچھائے چاکلیٹ اور ٹافیاں بیچ رہی تھی، اس نے ایک پونڈ کی چاکلیٹ خریدی اور اسے مسکراتے ہوئے دس پونڈ پکڑا دیئے۔ باقی پونڈ تمہارے لئے ہیں، اس نے کہا اور اپنے کام پر واپس چل دیا۔

بوڑھی خاتون بار بار اس 10 پونڈ کے نوٹ کی طرف دیکھ رہی تھی، جو اسے بغیر کسی محنت اور صلے کے مل گئے تھے۔ اس کے چہرے پر بے حد مسکراہٹ تھی۔ اس کا دل مارے خوشی کے بلیوں اچھل رہا تھا، اس نے زمین پر بچھائے ہوئے اپنے سامان کو سمیٹا اور سیدھی قصاب کی دکان پر جا پہنچی، اسے اور اس کی پوتی کو گوشت کھائے نہ جانے کتنے مہینے گزر چکے تھے۔ ان کا گوشت کھانے کو جی چاہتا تھا، مگر ان کے وسائل اجازت نہیں دیتے تھے، آج ان کی خواہش پوری ہو رہی تھی بوڑھی نے دل ہی دل میں اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اس نے مسکراتے ہوئے گوشت خریدا اور گھر چل دی۔ بوڑھی اماں نے بڑی محنت اور شوق سے گوشت پکایا اور ننھی سی پیاری سی پوتی کا انتظار کرنے لگی وہ سوچ رہی تھی کہ وہی تو اس کی کل کائنات تھی، آج وہ گوشت کھا کر کتنی خوش ہوگی؟

وہ سوچوں میں گم تھی کہ ٹشو پیپرز بیچنے والی اس کی پوتی مسکراتی ہوئی گھر میں داخل ہوئی، آج اس کے چہرے پر عام دنوں سے زیادہ مسکراہٹ تھی۔ اس نے مزے مزے سے روتی خاتون کا واقعہ سنایا بوڑھی بہت خوش ہوئی اور اس کو پیار کرتے ہوئے گودمیں لے لیا اور کہا بیٹا زندگی میں خوشیاں بانٹا ہی اصل نیکی ہے اس کا صلہ ضرور ملتاہے رسول کریم ﷺنے فرمایا ہے دوسروں کومسکرا کرملنا بھی صدقہ ہے۔ ایک دن 6 سالہ معصوم بچی ایک بازار میں ٹشو پیپرز بیچ رہی تھی کہ ایک کار اس کے پاس آکررکی وہ لپک کر ان کے پاس پہنچی ٹشو پیپر دینے کیلئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ ٹھٹک کررہ گئی کار کے اندروہی خاتون بیٹھی ہوئی تھی جو اسے پارک میں روتی ملی تھی خاتون نے مصنوعی خفگی سے کہا تم اس روز کہاں چلی گئی تھی میں تو تمہیں تلاش کرتی پھررہی ہوں
‘‘کیوں ۔۔ معصوم بچی نے حیرت سے پوچھا
’’میں تمہاری مقروض جو ہوں۔۔ خاتون بولی
پھرکیاہوایک ٹشو پیپر ہی تو تھا بچی نے معصومیت سے کہا میری دادی کہتی ہیں خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں
’’بہت اچھے خیالات ہیں تمہاری دادی کے خاتون نے کہا۔۔ تمہارا قرض ادا کرنے کیلئے میں نے فیصلہ کیاہے میں تمہیں اپنی بیٹی بنالوں
’’میری دادی تو میرے بغیر مرجائے گی۔
وہ بھی تمہارے ساتھ ہمارے گھر میں رہے گی خاتون متانت سے بولی ۔۔چلو کوئی اچھا سا یونیفارم خریدتے ہیں تم کل سے اسکول جایا کروبڑے ٹشو پیپربیچ لئے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ilyas Mohammad Hussain

Read More Articles by Ilyas Mohammad Hussain: 382 Articles with 158979 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Aug, 2021 Views: 336

Comments

آپ کی رائے