اَندھے کنویں کے اَندھے لوگ !!

(Babar Alyas , Chichawatni)

#العلمAlilm علمُ الکتاب {{{ سُورَةُالفُرقان ، اٰیت 35 تا 44 }}} اخترکاشمیری
علمُ الکتاب اُردو زبان کی پہلی تفسیر آن لائن ھے جس سے روزانہ ایک لاکھ سے زیادہ اَفراد اِستفادہ کرتے ہیں !!
براۓ مہربانی ھمارے تمام دوست اپنے تمام دوستوں کے ساتھ قُرآن کا یہ پیغام زیادہ سے زیادہ شیئر کریں !!
اٰیات و مفہومِ اٰیات !!
و
لقد اٰتینا
موسی الکتٰب
و جعلنا معه اخاه
ھٰرون وزیرا 35 فقلنا
اذھبا الی القوم کذبوا باٰیٰتنا
فدمرنٰھم تدمیرا 36 و قوم نوح
لما کذ بوا الرسل اغرقنٰھم و جعلنٰھم
للناس اٰیة و اعتدنا للظٰلمین 37 و عادا و
ثمود و اصحٰب الرس وقرونا بین ذٰلک کثیرا
38 و کلا ضربنا له لامثال و کلا تبرنا تتبیرا 39
و لقد ا توا علی القریة التی امطرت مطر السوء افلم
یکونوا یرونھا بل کانوا لایرجون نشورا 40 و اذا راوک ان
یتخذونک الّا ھزوا اھٰذ الذی بعث اللہ رسولا 41 ان کاد لیضلنا
عن اٰلھتنا لو لا ان صبرنا علیھا و سوف یعلمون حین یرون العذاب
من اضل سبیلا 42 ارءیت من اتخذ الٰھة ھوٰه افانت تکون علیه وکیلا
34 ام تحسب ان اکثرھم یسمعون او یعقلون ان ھم الّا کالانعام بل ھم اضل
سبیلا 44
اور اے ھمارے رسُول ! انسانی تاریخ کی ہر ایک تحقیق سے اِس اَمر کی تصدیق ہو چکی ھے کہ ھم نے مُوسٰی و ھارُون دونوں کو اپنے قانُونِ ھدایت کی ایک کتاب دی تھی اور ھم نے مُوسٰی و ھارُون دونوں کو ھدایت کی تھی کہ وہ ھمارے اِس قانُونِ ھدایت کے ساتھ اُس جَری قوم کے پاس جائیں جس نے ھماری اٰیاتِ ھدایات کی تکذیب کر کے گُم راہی اختیار کر لی ھے اور جب اُس قوم نے ھمارے اِس پیغامِ ھدایت کو رَد کردیا تھا تو ھم نے اُس قوم کو غرق کرکے اَقوامِ عالَم کے لیۓ نقشِ عبرت بنا دیا تھا ، اِس سے پہلے جب قومِ نُوح نے ھمارے رسُولوں کی تکذیب کی تھی تو اُس وقت ھم نے قومِ نُوح کو بھی اسی طرح سے غرق کیا تھا اور اسی طرح سے اَقوامِ عالَم کے لیۓ ایک نقشِ عبرت بنایا تھا ، پھر ھمارا یہی عذاب قومِ عاد و ثمود اور اَندھے کنویں والی قوم کے علاوہ دیگر زمانوں کی دیگر اَقوام پر بھی آیا تھا لیکن اِس عذاب سے پہلے ھم نے اِن ساری اَقوام پر اپنے سارے اَقوال و نصائح کو اپنی قابلِ فہم اَمثال کے ساتھ بیان کر دیا تھا لیکن اُن اَقوام نے ھمارے اَحکامِ ھدایت سُن کر بھی نہیں سُنے تھے اور ہر تحقیق سے اِس اَمر کی بھی تصدیق ہو چکی ھے کہ جن نافرمان اَقوام کی آباد بستیوں پر ھم نے پَتھروں کی بارش کر کے اُن کو برباد کیا تھا اُن برباد بستیوں کو ھمارے نافرمان لوگ آج بھی اُن کے قریب سے گزرتے ہوۓ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں لیکن وہ مُجرم لوگ اُن مُجرم اَقوام کے اَنجام سے کوئی عبرت حاصل نہیں کرتے کیونکہ اِن کو مرنے کے بعد جی اُٹھنے کی اُمید ہی نہیں ھے اور اِن جینے کی اُمید سے نااُمید ہونے والے لوگوں کا حال یہ ھے کہ وہ جب کبھی آپ کو اپنے درمیان دیکھتے ہیں تو ایک تمسخر و استہزا کرتے ہوۓ ایک دُوسرے سے کہتے ہیں کہ ایک ذرا دیکھو تو سہی کہ کیا یہی وہ شخص ھے جس کو اللہ نے ھمارے پاس ھمارا رسُول بنا کر بہیجا ھے ، ویسے یہ تو بہت ہی اَچھا ہوا ھے کہ ھم اپنے آبا و اَجداد کے عقیدے پر سختی سے جَمے رھے ہیں ورنہ اِس نے تو ہمیں ھمارے آبا و اَجداد کے قدیم دین سے ہٹانے کی اپنی کسی کوشش میں کوئی بھی کمی نہیں کی ھے اور یہ نافرمان لوگ بھی ھمارے عذاب کو جب اپنے سر پر آتا ہوا دیکھیں گے تو تَب ہی جانیں گے کہ اِن میں سے حق پر ڈٹا ہوا کون تھا اور حق سے ہٹا ہوا کون تھا ، اگر آپ اِن لوگوں کے حال پر تھوڑا سا بھی غور کریں گے تو آپ کو بھی اِس بات کا بخوبی اندازہ ہوجاۓ گا کہ یہ لوگ حق کے پرستار نہیں ہیں بلکہ یہ صرف اور صرف اپنے نفس کے پرستار ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے ہر جُرم کے اقبالی مُجرم ہیں کیونکہ یہ خود ہی کہتے ہیں کہ آپ نے اپنی دعوت و تعلیم میں کبھی بھی کوئی کمی نہیں کی ھے اِس لیۓ آپ خود اِن کے نزدیک بھی اِن کی اِس گُم راہی کے ذمہ دار نہیں ہیں ، آپ اگرچہ ابھی بھی اِن کے بارے میں یہی سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھتے بھی ہیں اور اپنے کانوں سے سُنتے بھی ہیں لیکن اَمرِ واقعہ یہ ھے کہ یہ لوگ دیکھنے کے باوجُود بھی کُچھ نہیں دیکھتے اور سُننے کے باوجُود بھی کُچھ نہیں سُنتے کیونکہ یہ اپنی دید و شنید میں چوپائیوں سے بھی گۓ گزرے ہوۓ لوگ ہیں بلکہ زمین پر چلنے والے اِن لوگوں سے تو زمین پر چَرنے والے چوپاۓ ہی کہیں زیادہ بہتر ہیں !
مطالبِ اٰیات و مقاصدِ اٰیات !
انسان اپنے لَمحہِ حال کے اعتبار سے ہمیشہ اپنے حال میں رہتا ھے اور اپنے اُسی لَمحہِ حال میں رہ کر ہی کبھی اپنے ماضی کے اَحوال کانوں سے سُنتا یا آنکھوں سے پڑھتا ھے اور کبھی اپنے اسی لَمحہِ حال میں رہ کر ہی اپنے مُستقبل پر بھی غور کرتا اور اپنے مُستقبل کے فیصلے بھی کرتا ھے ، اٰیاتِ بالا میں انسانی جبلت کی اسی عادت و علت کی بنا پر تاریخ کے جس ورق کو پیش کیا گیا ھے اُس ورق کو پہلے اُس کے خیالِ حال کے مطابق ذکرِ مُوسٰی و ذکرِ ھارُون سے شروع کیا گیا ھے ، پھر اُس کے خیالِ ماضی کے حوالے سے اُس کے سامنے عھدِ نُوح اور عھدِ عاد و ثمود کا ذکر کیا گیا ھے اور پھر اِس کے حال و مُستقبل کے حوالے سے سیدنا محمد علیہ السلام کے زمانے کو بھی تاریخ کے اِسی تاریخی و تحقیقی ورق کا موضوعِ سُخن بنایا گیا ھے ، تاریخ کے اِن اَنبیاء و رُسل کا یہی وہ ذکر و اَذکار ھے جو اِس سے پہلے بھی کیا گیا ھے اور جس طرح اِس سے پہلے کیۓ گۓ اِن کے ذکر کے ہر مقام پر ایک نئی تاریخی و تحقیقی بات کہی گئی ھے اسی طرح اِس مقام پر بھی قومِ نُوح کے بارے میں یہ اضافی بات بیان کی گئی ھے کہ اُس قوم میں تَنہا نُوح علیہ السلام ہی اللہ تعالٰی کے ایک نبی کے طور پر مامُور نہیں کیۓ گۓ تھے بلکہ اُن کے اِس تذکرے میں { کذبواالرُسل } کے لاۓ گۓ الفاظ سے ظاہر ہوتا ھے کہ اُس قوم کے معروف نبی تو صرف نُوح علیہ السلام ہی تھے لیکن اُس قوم میں نُوح علیہ السلام کے ساتھ نُوح علیہ السلام کے اسی طرح سے کُچھ معاون اَنبیاۓ کرام بھی مامُور کیۓ گۓ تھے جس طرح سے مُوسٰی علیہ السلام کے ساتھ ھارُون علیہ السلام ایک معاون نبی کے طور پر مامُور کیۓ گۓ تھے اور اسی طرح قومِ عاد و ثمود کا ذکر بھی اِس سے پہلے مُتعدد بار ہوا ھے لیکن اِس مقام پر اُن کے اُس ذکر میں "اَصحٰب الرس" کا جو ذکر ہوا ھے وہ عاد و ثمود کے اِس ذکر میں ایک اضافی ذکر ھے ، عُلماۓ روایت نے اَصحابِ رَس کے بارے میں جو روایتی نُکتہ رَسی کی ھے اُس نُکتہ رَسی کے مطابق یہ اُس وادی کے لوگ تھے جس میں ایک اندھا کنواں تھا ، بعض نے کہا ھے کہ یہ آرمینیہ اور آذر بیجان کی ایک وادی تھی جس میں سینکڑوں بستیاں تھیں یا یہ کہ یہ ایک دریا کا نام تھا اور اُس دریا کی مُتعلقہ وادی کے لوگ زلزلے سے تباہ ہوۓ تھے ، بعض اہلِ روایت کے نزدیک یہ وادی یمن میں تھی ، بعض اہلِ روایت نے خیال بھی ظاہر کیا ھے کہ اَصحابِ رَس سے مُراد وہ "اَصحابِ اُخدود" ہیں جن کا سُورَةُالبرُوج میں ذکر ہوا ھے ، مولانا مودودی مرحوم نے تفہیم القُرآن میں عُلماۓ روایت کی اِس نُکتہ رَسی پر اپنے عدمِ اطمینان کے بعد ارشاد فرمایا ھے کہ اَصحابِ رَس کے بارے میں { زیادہ سے زیادہ جو کُچھ کہا جا سکتا ھے وہ یہی ھے کہ یہ ایک ایسی قوم تھی جس نے اپنے پیغمبر کو کنویں میں پھینک کر یا لٹکا کر مارا تھا } مگر اُن کی اِس بات کا کوئی تاریخی ثبوت موجُود نہیں ھے ، عُلماۓ لُغت کی مُختلف لُغات کے مطابق "رَس" کا معنٰی اندھا کنواں ھے اور کنواں کھودنے کو بھی رَس کہا جاتا ھے ، زمین میں دھنسنے کے عمل کو بھی رَس کے اسی نام سے موسوم کیا جاتا ھے جبکہ رَس کا مصدری معنٰی پرانا کنواں بھی ھے اور مَعدن بھی ھے اور اہلِ زبان کسی چیز کی ابتدا کو بھی رَس کہتے ہیں اور اسی حوالے سے محبت کی ابتدا کو بھی رَس کہا جاتا ھے ، اسی طرح خبر کو بھی رَس کہا جاتا ھے اور اسی حوالے سے عرب کہتے ہیں { بلغنی رس من الخبر } یعنی مُجھے اِس خبر کا کُچھ حال معلوم ہوا ھے لیکن قُرآنِ کریم نے اِن اٰیات کے جس سیاق و سباق اور تاریخ کے جس پس منظر میں اَصحابِ رَس کا ذکر کیا ھے اُس سیاق و سباق اور اُس پس منظر پر عُلماۓ لُغات کی اِن لُغات کا کوئی بھی لُغوی معنٰی مُنطبق نہیں ہوتا کیونکہ یہ بات انسانی عقل سے ایک بعید تر بات ھے کہ کوئی قوم شوقیہ طور پر اندھے کنویں بنانا شروع کردے اور پھر شوق ہی شوق میں اُن اندھے کنوؤں میں رہنا بھی شروع کردے اور اُس کی اسی حماقت کی بنا پر اُس پر اللہ تعالٰی کا عذاب آجاۓ ، حقیقت یہ ھے کہ قُرآن نے جس چیز کا ذکر کیا ھے وہ ہر جاہل قوم کا ایک جاہلانہ ذہنی رویہ mindset ھے جس کی بنا پر وہ قوم علم کی روشن دُنیا میں آنے کے بجاۓ عُمر بھر جہالت کے ایک اندھے کنویں میں سانپوں ، بچھوؤں اور دُوسرے غلیظ اور زہریلے حشرات الارض کے ساتھ رہتی ھے اور اُن کے ساتھ رہتے رہتے خود بھی اتنی زہریلی ہوجاتی ھے کہ اُس کو علم و عقل کی بات ایک زہر لگنے لگتی ھے اور وہ اپنی اسی جہالت کی بنا پر قہرِ اِلٰہی کا شکار ہو جاتی ھے اور سلسلہِ کلام میں چوپائیوں کا جو ذکر کیا گیا ھے اُس کا مقصد یہ ھے کہ چوپاۓ اپنی ضرورت کے مطابق ایک درجے میں ایک درجے کا عقل و شعور بھی رکھتے ہیں لیکن اندھے لوگ جو اندھے میں رہتے ہیں وہ اِن چوپائیوں جتنی عقل اور اِن چوپائیوں جتنا شعور بھی نہیں رکھتے ، اِسی لیۓ یہاں پر اندھے کنویں میں رہنے والے اُن اندھوں کی مثال دی گئی ھے جو پائیوں کی طرح گھاس نہیں کھاتے بلکہ جو چیز اُن کے جسم سے ٹکراتی ھے اسی پر مُنہ مارتے چلے جاتے ہیں اور جہالت کے اندھے کنویں میں رہنے والے یہ اندھے لوگ اُن چوپائیوں سے بدتر ہوتے ہیں جو اور کُچھ سمجھیں نہ سمجھیں مگر اپنی خوراک اور اپنے مقامِ رہائش کو بہر حال جانتے اور سمجھتے ہیں !!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 437 Articles with 138335 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
15 Aug, 2021 Views: 42

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ