|
|
عام طور پر ہمارے ملک میں 60 سال کی عمر کے بعد مرد
حضرات ریٹائرمنٹ لے لیتے ہیں اور اس کے بعد ان کا دارومدار یا تو اس پنشن
پر ہوتا ہے جو کہ ان کو ملتی ہے یا پھر وہ اپنے بیٹوں کے ہاتھوں کی طرف
دیکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں- اگر اولاد اچھی نکل آئے تو بڑھاپا آرام سے کٹ
جاتا ہے اور اگر بڑھاپے میں اولاد کام نہ آئے تو انسان پائی پائی کا محتاج
ہو جاتا ہے- |
|
عمر کے ساتھ انسان کے جسمانی اعضا کمزورہو جاتے ہیں مگر
ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ انسان کی عمر اتنی ہی ہوتی ہے جتنی وہ محسوس کرتے
ہیں- ایسا ہی کچھ معاملہ بزرگ فیاض اختر فیضی کے ساتھ بھی ہے جن کی عمر 73
سال ہے اور حالیہ دنوں میں سوشل میڈيا پر معمر ترین ڈلیوری بوائے کے طور پر
اپنے فرائض انجام دینے کے حوالے سے کافی خبروں میں ہیں- |
|
پاکستان فنانس منسٹری کے ملازم کی حیثیت سے ریٹائر ہو
چکے ہیں تعلیم یافتہ گریجوئٹ ہیں پنشن کی مد میں ان کو ہر ماہ 25000 روپے
ملتے ہیں جو ان کے مطابق ان کے گھر کے کرائے میں چلے جاتے ہیں- |
|
گھر کے دیگر اخراجات کے لیے اس عمر میں ان کو ملازمت ملنی دشوار تھی مگر
محنت کی عظمت پر یقین رکھنے والے فیاض اختر ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنے
والوں میں سے نہ تھے اس وجہ سے انہوں نے رائيڈر کے طور پر کام کرنا شروع کر
دیا- |
|
|
|
ڈلیوری دینے کے دوران ان کا ایکسڈنٹ بھی ہوا جس میں ان
کے اوپر ان کے علاج کی مد میں تقریبا 15 لاکھ کا قرضہ چڑھ گیا جس کو انہوں
نے اپنے طور پر اتارنے کی کوشش کی اور گیارہ لاکھ ادا کر دیے۔ |
|
صحت مند ہونے کے بعد ایک بار پھر جب ڈلیوری بوائے کے طور
پر کام شروع تو کردیا مگر اب ان کی صحت اس محنت اور مشقت کے لیے ان کا ساتھ
دینے سے قاصر ہے مگر ان کا حوصلہ اور ہمت ابھی بھی جوان ہے- |
|
ان کے ان حالات کا علم جب سوشل میڈیا پر عوام کی مدد
کرنے والے ایک پیچ کو ہوا تو انہوں نے فیاض اختر صاحب کی مدد کے لیے سوشل
میڈیا کی توسط سے ان کی مدد کے لیے آواز اٹھائی اور ان کی مدد کی عوام سے
اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کو پانچ لاکھ درکار ہیں- |
|
|
|
جس میں سے چار لاکھ قرضے کی ادائیگی کی مد میں جب کہ ایک
لاکھ ان کو موبائل ایسسریز کا کاروبار شروع کروانے کے لیے درکار ہیں تاکہ
وہ اب بائیک پر بیٹھ کر ڈلیوری کرنے کے بجائے ایک جگہ بیٹھ کر کام کر سکیں- |
|
اس اپیل کے جواب میں انتہائی قلیل وقت میں سوشل میڈیا کے
صارفین نے فیاض اختر کے اکاؤنٹ میں پیسے جمع کروا دیے بلکہ ان کی ہمت اور
حوصلے کو بھی بہت سراہا سچ ہے محنت میں عظمت ہے اور انسان چاہے تو کسی بھی
عمر میں محنت کر کے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنی روزی کما سکتا ہے- |