میرے بیٹے کے جوتے پھٹ چکے تھے اور خریدنے کے پیسے کم تھے پھر ایک مہربان ۔۔۔۔۔ ایک اجنبی کا ایسا عمل جس نے اس کو سوشل میڈیا ہیرو بنا دیا

 
نیکی کر دریا میں ڈال ، یہ وہ کہاوت ہے جو ہم اپنے بچپن سے سنتے آتے ہیں جس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ نیکی کرنے کے بعد اس کے صلے کی امید کے بجائے آگے بڑھ جانا چاہیے- مگر بعض اوقات اوپر بیٹھی ہوئی ذات کو کچھ اور ہی منظور ہوتا ہے جیسا کہ اس کہانی میں ہوا-
 
یہ کہانی ایک ایسی ماں کی ہے جو کہ تنہا دو بیٹوں کی پرورش کی ذمہ دار ہے ۔ حالیہ دنوں میں کرونا وائرس کے سبب حالات نے جس طرح دنیا بھر کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا وہیں ملیسا منگوسو نامی اس خاتون کی معاشی حالت بھی متاثر ہوئی-
 
مگر اس کے باوجود اس کے دونوں بیٹے اس کی اچھی تربیت کے سبب کم میں بھی خوش اور مطمئين زندگی گزار رہے تھے اس کا بڑا بیٹا زاچرے ایک اسکول جانے والا بچہ تھا ۔ اس عمر کے سبب اس کا قد اور سائز وقت کے ساتھ بڑھ رہا تھا-
 
 
اس کے اسکول شوز کافی دنوں سے تنگ ہونے کے ساتھ ساتھ گھس چکے تھے مگر ملیسا کی جیب اس بات کی اجازت نہیں دے رہی تھی کہ وہ اس کو نئے شوزدلوا سکے۔ بہت بچت کر کے بھی وہ صرف 20 ڈالر ہی جمع کر سکی تھی-
 
زاچرے کو نئے اسکول شوز دلوانے سے قبل اس نے اس کو دکان پر جانے سے قبل یہ سمجھا دیا تھا کہ اس کے پاس صرف 20 ڈالر ہیں اس وجہ سے وہ جوتوں کی خریداری میں اس بات کا خاص خیال رکھے کہ ایسے جوتے پسند کرے جن کی قیمت 20 ڈالر سے زيادہ نہیں ہونی چاہیے۔
 
مگر جس طرح اس عمر کے باقی بچے بھی اس بات کے خواہشمند ہوتے ہیں کہ ان کے پاس موجود چیز سب سے اچھی ہو یہی وجہ تھی کہ زاچرے کو جو جوتے پسند آرہے تھے ان کی مالیت 20 ڈالر سے بہت زیادہ تھی جو کہ اس کی ماں کی طاقت سے باہر تھی-
 
ماں بیٹے کے درمیان ہونے والی یہ بات چیت قریب کھڑا ایک اجنبی بھی سن رہا تھا لیٹو ماسن نامی شخص خود بھی اس دکان پر جوتوں کی خریداری کے لیے آیا تھا- اس نے جب اس حوالے سے ملیسا سے پوچھا تو اس کا کہنا تھا کہ اس کے پاس صرف 20 ڈالر ہیں ۔ جب کہ یہ آرام دہ جوتے لینے کا خواہشمند ہے ۔
 
 
یہ سن کر لیٹو نے زاچرے کو کہا کہ وہ جو بھی اپنی پسند کے جوتے لینا چاہتا ہے لے سکتا ہے اس کی ادائیگی لیٹو نے اپنی جیب سے کر دی- مگر اصل کہانی اس کے بعد شروع ہوئی اس خریداری کے بعد ملیسا نے اس سے گزارش کی کہ وہ اس کے بیٹے کے ساتھ ایک تصویر بنوا لے تاکہ وہ اور اس کا بیٹا اس مہربانی کو یاد رکھ سکیں۔
 
لیٹو نہیں جانتا تھا کہ یہ تصویر اس کی ایک گمنام سی نیکی کو اس حد تک پھیلا دے گی کہ ایک دن وہ سوشل میڈيا ہیرو بن جائيں گے۔ ملیسا نے اس تصویر کے ساتھ اپنے سوشل میڈيا اکاؤنٹ سے اس کو شئير کر دیا جس میں اس نے لیٹو کا نام بھی لکھا یہ تصویر اور اس نیکی کا احوال تیزی سے وائرل ہو گیا اور اس کی خبر لیٹو تک بھی جا پہنچی-
 
لیٹو کا اس حوالے سے یہ کہنا تھا کہ اس کو اس بات کا قطعی احساس تک نہ تھا کہ وہ کوئی بڑا کام کر رہا ہے جو ان کو اتنی شہرت دے دے گا وہ اپنی ذاتی زندگی میں ایک بہت ہی شرمیلے انسان ہیں مگر اس ایک نیکی نے لیٹو کو سوشل میڈیا ہیرو بنا دیا-
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
06 Oct, 2021 Views: 1499

Comments

آپ کی رائے