کہاں میں کہاں مدح ذات گرامی……

(Noor Ul Huda, )

تحریک انصاف کو ’’برگر پارٹی‘‘ کہا جاتا ہے ۔ لیکن جب سے عمران خان نے ریاست مدینہ کے قیام کا نعرہ لگایا ہے اس ’’برگر پارٹی‘‘ نے پاکستان کی ثقافت کے فروغ اور بقا کیلئے وہ اقدامات کئے جن کی ’’سعادت‘‘ گذشتہ حکومتوں کو حاصل نہ ہو سکی ۔ بالخصوص ماہ ربیع الاول کو سرکاری طور پر منانا اور حکومتی سطح پر ایک عشرہ شانِ رحمت اللعالمین سے منسوب کرتے ہوئے خصوصی تقاریب کے اہتمام کا کریڈٹ تحریک انصاف کی حکومت بالخصوص وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے حصے میں ہی آیا ہے ۔ بعدازاں وفاق اور دیگر صوبوں نے بھی وزیر اعلیٰ پنجاب کے اس آئیڈیا کو فالو کیا ہے جس کے نتیجے میں آج چاروں صوبوں میں یومِ آمدِ رسول کا استقبال سرکاری طور پر دینی جوش و جذبے کے ساتھ کیا جا رہا ہے ۔

عشرہ شانِ رحمت اللعالمین باقاعدگی کے ساتھ مسلسل دوسرے سال منایا جا رہا ہے ۔ گذشتہ سال پنجاب نے ہی اس سلسلے کا آغاز کیا تھا ۔ جس میں عشرہ کی مناسبت سے مختلف مگر منفرد سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا تھا ۔ ان سرگرمیوں میں ضلع ، تحصیل اور مرکزی سطح پر مقابلہ حسنِ قراء ت و نعت، مضمون نویسی، خطاطی، تقاریر، کوئز مقابلے ، ریسرچ آرٹیکلز، سیمینار، کانفرنسز، محافل سماع، لیکچرز، محافل میلاد، خصوصی سٹیج پلے، ٹی وی چینلز پر خصوصی نشریات اور دستاویزی فلموں کی تیاری سمیت دیگر سگمنٹس شامل تھے ۔ جبکہ سیرت پر تحقیق کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کیلئے خصوصی سکالرشپ کا بھی اجراء کیا گیا تھا ۔ اس عشرہ کو حکومت پنجاب نے مستقل طور پر اپنے سالانہ کیلنڈر میں شامل کرتے ہوئے رواں سال بھی مذکورہ سرگرمیوں کا انعقاد ہر سطح پر یقینی بنایا ۔

قابل ذکر امر یہ ہے کہ گذشتہ سال رحمت اللعالمین سکالرشپ کے تناظر میں سیرت پر ریسرچ کرنے والوں میں 28 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی 10,851 سکالر شپس تقسیم کی گئیں جبکہ رواں سال اس بجٹ کو بڑھاتے ہوئے 83 کروڑ 40 لاکھ روپے کے 29,142 سکالرشپس دی جائیں گی ۔ دوسری جانب محققین کی ریسرچ میں معاونت کیلئے مختلف یونیورسٹیوں میں سیرت لیبز قائم کر دی گئی ہیں جہاں سے سیرت کے مختلف پہلوؤں پر مستند ریسرچ پیپرز تیار کر کے دنیا بھر میں پھیلائے جائیں گے ۔ یہ تحریری و نشری مواد اور عشرہ رحمت اللعالمین کے تحت ہونے والی سرگرمیاں لوگوں میں نبی کی عظمت کے نئے سے نئے پہلو تلاش کرنے کا تجسس دلائیں گی ۔

یقینانسلِ نو کو اسوہِ حسنہ سے روشناس کروانے اور سیرت کے پیغام سے آشنا کرنے کیلئے ’’عشرہ رحمت اللعالمین‘‘ منانا پنجاب حکومت کی بہترین کاوش ہے ۔ بلاشبہ تحریک انصاف کی حکومت پہلی حکومت ہے ، جس نے سرکاری سطح پر یہ اقدام اٹھایا ہے ۔ عثمان بزدار پاکستان کی سیاسی تاریخ کے پہلے وزیر اعلیٰ ہیں جو عملی طور پر قیام پاکستان کے حقیقی مقصد کو پورا کرتے ہوئے مملکت کو ریاست مدینہ کی عملی تعبیر دینے اور شان رحمت کے پیغام کی ترویج کیلئے کوشاں ہیں ۔ ایسے اقدامات دورِ حاضر کی ضرورت تھے جو کسی بھی حکومتی پلیٹ فارم سے پہلی بار منعقد ہو ئے ہیں ۔ اس ضمن میں وزیر اعلیٰ پنجاب مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ ریاست مدینہ کے قیام کیلئے جدوجہد کی بات کی جائے تو عمران خان اور عثمان بزدار جیسے قائدین ہی ایسی ریاست کی تشکیل کا باعث بن سکتے ہیں اور ماہِ ربیع الاول کی مناسبت سے حالیہ اقدامات اس بات کے گواہ ہیں ۔

اسوہِ رسول کو مشعل راہ بنانا نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی زندگی میں بھی کامیابی کی شرط ہے ۔ اسوہِ حسنہ پرعمل پیرا ہونا پُرسکون اور کامیاب معاشرہ کیلئے شرط اول ہے ۔ موجودہ حالات میں ہمیں ایسی نسل کی ضرورت ہے جو صرف نعت کہنا نہیں بلکہ وقت کے زندیقوں کو اپنے نبی کی جانب سے جواب دینا بھی جانتی ہو ۔ نبی سے منسلک ہونا ایک اعزاز ہے ۔ یہ انفرادیت ہم میں نہ رہے تو ہم کہیں کے نہ رہیں ۔ یہ انفرادیت اس امت کا سب سے خوبصورت وصف ہے ۔ کسی بھی مسلم ریاست کے حکمران کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ نوجوان نسل کو اپنے اصل سے منسلک رکھنے کیلئے اقدامات کرے اور انہیں گمراہ نہ ہونے دے ۔ بالکل ایسے ہی ، جیسے ترکی میں اپنے ہیروؤں پر ڈرامے بنا کر وہاں کی نوجوان نسل کو ماضی سے جوڑا جا رہا ہے ۔ حکومت پنجاب نے بھی اس ضرورت کو سمجھا، اہمیت کو محسوس کیا ، اور اسی تناظر میں ربیع الاول سرکاری سطح پر مناتے ہوئے نوجوان نسل کیلئے مختلف متعلقہ سرگرمیاں منعقد کیں ۔
 
حکومتی سطح پر عشرہ رحمت اللعالمین منانے سے بالخصوص نئی نسل کا سیرت سے تعلق مضبوط ہوگا اور ان کے اندر اپنے نبی کے مختلف پہلوؤں کو جاننے اور انہیں پھیلانے کی مزید تڑپ پیدا ہوگی …… دوسری جانب یہ سرگرمیاں جہاں بحیثیت انفرادی ہماری تذکیر کا باعث بنیں گی ، وہیں ریاست مدینہ کے قیام کی کوششوں کو بھی مزید تقویت ملے گی …… یہ اقدامات جہاں عالمی ابلاغ اور رائے عامہ کو مسلمانوں کے حق میں ہموار کرنے کا باعث اور عالمی لہجوں کی تشکیل میں معاون ثابت ہوں گے …… وہیں یہ شیاطین عالم اور تنگ نظر مفکرین کی ہرزہ سرائی کا بہترین اور پرامن و مدلل جواب بھی ہیں ، جو آزادی اظہار کی دھائی مچا کر مسلم اقدار کو پامال اور اسلام کا تقدس مجروح کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں ۔

نبی ِ رحمت نظریاتی سیاست کے بانی اور امین تھے ۔ ان کی سیاسی و سماجی زندگی ہمارے سیاستدانوں کیلئے مشعل راہ ہے ۔ اسلامی حکومت بنانا سنت رسول ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان اسی سنت کی پیروی اور اسی نظام سیاست کی ترقی و استحکام کیلئے کوشاں ہیں ۔ عمران خان ریاست مدینہ کی طرز پر پاکستان کو بھی ایک مثالی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی جدوجہد کر رہے ہیں ۔ کوئی شک نہیں کہ ان کی زیر قیادت پاکستان مدینہ ثانی بننے کے قریب ہے ۔

پنجاب حکومت کا عشرہ رحمت اللعالمین مناتے ہوئے وسیع پیمانے پر تحصیل ، اضلاع اور صوبے کی سطح پر مذکورہ تقاریب کا انعقاد کرنا ریاست مدینہ کے قیام کی جانب عملی کوششوں کا ثبوت ہیں ۔ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ حکومتی اقدام اور سرگرمیاں اصلاحِ معاشرہ کا باعث بنیں گی اور فکری طور پر تتر بتر نبوت کے منکرین کو بھی یہ باور کروانے کیلئے کافی ہوں گی کہ محسن انسانیت کے بارے میں ان کا اپنایا گیا رویہ ترک کرنے میں ہی دنیا کی بقا ہے ۔

قابل ذکر امر یہ بھی ہے کہ ’’برگر پارٹی‘‘ کی جانب سے یہ اقدامات ایک حیران کن امر ہیں ۔ تحریک انصاف کی کم از کم مذہب کے ساتھ اس قدر لگاؤ کی امید بالکل نہیں تھی …… یہاں تک کہ یہ بات بھی وہم و گمان میں نہیں تھی کہ ایسی سرگرمیوں کو وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب برائے راست لیڈ کریں گے ۔ لیکن حکومت سسٹم کے ساتھ ساتھ نصاب ، رویوں اور اخلاقیات کی بھی اصلاح کر رہی ہے۔ اس ضمن میں رحمت اللعالمین اتھارٹی کا قیام یقینا اہم پیش رفت گردانی جا سکتی ہے ۔ اس کے برعکس گذشتہ حکومتوں نے اس جانب توجہ نہیں دی ۔ بلاشبہ قدرت جس سے چاہے ، اپنے لئے کام لے ۔ عثمان بزدار خوش قسمت ہیں کہ قدرت نے انہیں اس نیک کام کیلئے چنا ہے ۔ ماہر القادری مرحوم نے نعت ’’کہاں میں کہاں مدحِ ذاتِ گرامی‘‘ شاید ایسے ہی لوگوں کیلئے کہی تھی ۔ موجودہ حکومت کے اس فیصلے کی جس قدر تحسین کی جائے کم ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ حکومت مستقبل میں بھی اس فیصلے پر ثابت قدم رہی تو وہ وقت دور نہیں جب پاکستان صحیح معنوں میں ریاست مدینہ کی عملی تعبیر ثابت ہوگا اور قائداعظم کا خواب پورا ہوگا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Noor Ul Huda

Read More Articles by Noor Ul Huda: 46 Articles with 22040 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Oct, 2021 Views: 218

Comments

آپ کی رائے