تعلیم میں تربیت کی ضرورت

(Tanvir Sadiq, Lahore)

میرے ایک عزیز نے فون کیا کہ ابھی میرے گھر میں تعلیم کے حوالے سے ایک مذاکرہ ہو رہا ہے۔ آپ بھی آ جاؤ ، امید ہے بڑی اچھی بحث ہو گی۔ تعلیم کے طالب علم کی حیثیت سے مجھے ایسی جگہ جانے اور تعلیم کے حوالے سے علمی گفتگو سننے میں ہمیشہ بہت دلچسپی رہی ہے۔ تھوڑی دیر میں ،میں وہاں موجود تھا۔چند ایک اساتذہ کے سوا باقی تمام وہ لوگ تھے جنہیں اپنے بچوں کی تعلیم کے حوالے سے بہت سے تحفظات اور پریشانی تھی۔ موضوع تھا۔، تعلیم کے ساتھ تربیت کی ضرورت۔مجھے اس موضوع ہی پر کچھ اختلاف تھا۔عام آدمی تعلیم کو سمجھتا ہی نہیں۔ وہ خواندگی کو تعلیم قرار دے کر اس سے تربیت کو منسلک کر دیتا اور اسی میں اصلاح کے پہلو ڈھونڈتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ تربیت کا فقدان لوگوں کو برائی پر مائل کرتا ہے۔وہ یہ نہیں سمجھتا کہ چور ، ڈاکو، حرام خور، رشوت خور اور برائی کے حامل سارے لوگ بڑے تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔ ایک جیب کترا، بہت ماہر فن ہوتا ہے اس کی تربیت پر کوئی کیسے شک کر سکتا ہے۔چور کو نقب زنی کی مہا تربیت ہوتی ہے۔ ہر برائی کرنے والا تربیت کے بل بوتے پر ہی واردات ڈالتا ہے۔اس کی خواندگی کے ساتھ تربیت شامل ہے لیکن کمال ہے کہ وہ سارے ’’اہل علم‘‘ جو وہاں اکٹھے تھے ، کسی جیب کترے، کسی چور اور کسی برے آدمی کو تربیت کی بنا پر تعلیم یافتہ ماننے کو تیار نہ تھے۔تربیت پر سب کا زور تھا لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ کیسی تربیت اور کونسی تربیت ضروری ہے کہ جوکسی کو ایک اچھا انسان اور ایک اچھا شہری بنا دے۔

مجھے بھی اپنی آرا کے اظہار کی دو منٹ کے لئے اجازت ملی اور وہ بھی ابتدا ہی میں وقت کی کمی کا کہہ کر روک دیا گیا۔محترمہ، جو پروگرام کنڈکٹ کر رہی تھیں ،نے میرے اظہار کو فلسفیانہ کہہ کر رد کر دیا۔ تعلیم کا میں ہمیشہ ہی طالب علم رہا ہوں۔ پنجاب، MIT ، ہاورڈ، برکلے اور بہت سی دوسری یونیورسٹیوں سے میں نے پوسٹ گریجویٹ ڈپلومے یا سرٹیفیکیٹ کورس کئے ہیں۔ تعلیم میرا شوق ہے اور اس کے بارے میرا اپنا ایک موقف ہے۔میرے نزدیک تعلیم ایک طرز زندگی ہے۔اچھی طرح اٹھنا، اچھی طرح بیٹھنا، اچھی طرح بات کرنا، اچھی طرح سوچنا، اچھی طرح عمل کرنا اور ہر معاملے میں اچھا نظر آنا یہی تعلیم یافتہ ہونے کی نشانی ہے۔ایک تعلیم یافتہ شخص اچھی تربیت کا حامل ہوتا ہے۔ تربیت تعلیم کا ایک مکمل جز ہے۔ تربیت یافتہ نہ ہونے کا مطلب تعلیم یافتہ نہ ہونا ہے۔ایک ایسا شخص جو بہت سی ڈگریوں کا حامل ہے مگر بات تمیز سے کرنا نہیں جانتا، خواندگی کے اعلیٰ معیار پر تو فائز ہے مگر تعلیم یافتہ ہرگز بھی نہیں۔کالجوں اور یونیورسٹیوں سے بہت سے کاغذ کے ٹکرے اکٹھا کرنا آپ کو تعلیم یافتہ ثابت نہیں کرتا۔آپ کو بہت سے ایسے لوگ ملیں گے جو ایک دن بھی کسی ادارے میں پڑھنے نہیں گئے مگر ان کے تعلیم یافتہ ہونے میں کسی کو شک نہیں۔ رابندرناتھ ٹیگور، ایڈیسن، جابر بن حیان اور سب سے بڑھ کر ہمارے رسول عربی، انتہائی پڑھے لکھے لوگ تھے مگر خواندہ نہیں تھے۔

تعلیم کا پہلا منبع ماں کی کوکھ ہے۔ سائنس آج اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی شخصیت تیس فیصد تشکیل پا چکی ہوتی ہے۔آپ کسی نئے جنم لینے والے بچے کے چہرے کو دیکھیں۔ اگر اس کے ماں باپ جھگڑالو قسم کے لوگ ہیں تو بچے کے ماتھے پر آپ کو سلوٹیں نظر آئیں گی، بچہ چھوٹی باتوں پر آپ کو غیر ضروری روتا نظر آئے گا۔ ہنس مکھ اور پیار محبت والے ماں باپ کا بچہ آپ کو مسکراتا نظر آئے گا، وہ روئے گا بھی بہت کم۔پیدا ہونے سے پہلے ان بچوں نے اپنے ماں باپ کے رویوں سے بہت کچھ سیکھ کر اسے اپنا بھی لیا ہوتا ہے۔ کسی ہندو خاندان کے ہاں آپ جائیں تو وہ حاملہ عورتوں کے بارے بڑے جذباتی ہوتے ہیں۔ وہ ایسی عورتوں کے سامنے اونچا بھی بولنے سے گریز کرتے ہیں کہ مبادہ ہونے والے بچے پر کوئی غلط اثر نہ پڑے۔

بچے کی تعلیم کا دوسرا مرحلہ ، اس کی ماں کی گود، اس کا خاندان اور وہ لوگ جن کے ساتھ وہ چار ابتدائی سال گزارتا ہے، مکمل کرتے ہیں۔ چار سالہ بچے کی شخصیت کی نشوونما ان لوگوں کے ہاتھوں ستر فیصد تک ہو چکی ہوتی ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ عموماً سگے بہن بھائیوں کا مزاج اور اطوار بھی بعض اوقات ایک دوسرے سے بہت مختلف ہوتا ہے۔ اسلئے کہ پہلے بچے کی پیدائش پر اگر ماں باپ اکیلے ہیں تو صرف دو لوگ اسے سکھاتے ہیں ۔ دوسرا بچہ اپنے بڑے بھائی سے بھی سیکھتا ہے۔ پہلے بچے کی حفاظت پر گھر میں زیادہ توجہ دی جاتی ہے مگردوسرے کی پیدائش کے بعد ہر معاملے میں والدین خاصے لبرل ہو جاتے ہیں۔ پہلے بچے کی پیدائش اگر مشترکہ خاندان میں ہو تو بچے کی تعلیم کو اک جم غفیر گھر میں موجود ہوتا ہے۔ بچہ ہر ایک سے سیکھتا ہے۔ایسے بچے زیادہ تیز طرار ہوتے ہیں۔مگر ان سارے معاملات کے باوجود بچے کی تعلیم میں بنیادی کردار اس کی ماں کا ہوتا ہے۔جن بچوں پر سختی کی جاتی ہے وہ کافی سنجیدہ اور دبے دبے رہتے ہیں۔ بے جا لاڈ پیار بھی بگاڑ کا باعث ہوتا ہے ۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ بچے سے پیار کریں مگر اس کی دس خواہشات میں آٹھ پوری کریں مگر دو سے انکار کریں تاکہ بچے کو اندازہ ہو کہ وہ کہیں غلط بھی ہو سکتا ہے۔

گھر سے ستر فیصد شخصیت کی تعمیر کے بعد بچہ تیسرے مرحلے میں سکول پہنچتا ہے۔سکول اسے کتابیں پڑھنا لکھنا سکھاتا ہے۔کتاب بزرگوں کے اس بیش بہا نقش قدم کی امین ہے کہ جن قدموں پر چل کر انسان بہترین راہ چنتا ہے۔ یہاں استاد کا ایک خاص رول ہے۔ اچھا استاد کتاب پڑھانے کے ساتھ ساتھ جو پڑھا تاہے اس پر عملدرآمد کرنا اس میں اچھی چیزوں سے اپنے آپ کو بہتر بنانا اور غلط چیزوں سے اجتناب کرنا سکھاتا ہے۔ یوں اس بچے کی شخصیت مکمل ہوتی ہے۔استاد کمزور ہو تو بچے کی شخصیت کا بقیہ تیس فیصد حصہ کمزور رہتا ہے۔ اس دوران اس کے دوست، اس کا محلے کا ماحول اور بہت سے دوسرے عوامل بھی اپنا کام دکھاتے ہیں جو اس کی شخصیت کو بہتر کرتے یا مسخ کرتے ہیں۔ ہم عام طور پر سب برائی سکول پر ڈال دیتے ہیں۔ لیکن بچے کی شخصیت کی تعمیر میں سکول کا کم اور والدین کا بہت زیادہ حصہ ہوتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ ایک بہترین انسان اور ایک بہترین شہری بنے تو جوان ہونے تک اس کی تعلیم میں سکول کے ساتھ آپ بھی لگاتار شریک رہیں۔ یہی وہ ٹرائیکا ہے جو بچے کی بہترین تعلیم کی ضامن ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 470 Articles with 275323 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
24 Nov, 2021 Views: 204

Comments

آپ کی رائے