بچے کے علاج کے لیے پیسے جمع کر کے باپ نے دوسری شادی کر لی، ماں اور دوسرے بچے سڑکوں پر رُلنے پر مجبور

 
ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب ان کو اولاد سے نوازے تو وہ بیٹا ہو یا بیٹی مگر صحت مند ہو اور کسی قسم کی معذوری سے پاک ہو- ایسے ہی ماں باپ قرۃ العین اور دانیال بھی تھے اللہ نے جب ان کو بیٹے سے نوازہ تو یہ ان کا تیسرا بچہ تھا- اس سے پہلے ان کو اللہ نے ایک بیٹا اور ایک بیٹی سے نوازہ تھا جو مکمل طور پر صحت مند تھے-
 
مگر جب تیسرا بیٹا ان کی گود میں آیا تو انہوں نے اس کا نام شاہ زین رکھا لیکن بچے کی پیدائش کے وقت ہی ان کو ڈاکٹروں نے یہ بتا دیا کہ بچے کی غذا کی نالی ٹھیک سے نہیں بنی ہوئی ہے جس کا علاج بہت مہنگا ہے اور جب تک یہ علاج نہ ہو سکے گا بچہ نارمل زندگی نہیں گزار سکے گا-
 
شاہ زين کے علاج کے لیے خطیر رقم کی ضرورت تھی جس کو پورا کرنا ان دونوں کے لیے ممکن نہ تھا ہر حوالے سے بے بس ہونےکے بعد قرۃ العین نے ایک ویڈيو بنائی جس کو انہوں نے اپنے شوہر دانیال کے اکاؤنٹ سے شئير کر دیا اور مخیر افراد سے مدد کی اپیل کی-
 
ان کی یہ ویڈيو وائرل ہو گئی جس کے نتیجے میں نہ صرف بہت سارے لوگوں نے ان سے رابطہ کیا بلکہ شاہ زین کے علاج کے لیے 50 لاکھ کی خطیر رقم بھی جمع ہوگئی- مگر اسی دوران ایک این جی او سے تعلق رکھنے والی خاتون شمائلہ کا ان کے گھر میں آنا جانا بڑھ گیا اور وہ مختلف لوگوں سے تعلقات کی بنیاد پر ان کو شاہ زين کی علاج کے لیے خطیر رقم دلوانے میں کامیاب رہیں-
 
 
اتنی بڑی رقم دیکھ کر قرۃ العین کے شوہر کی نیت تبدیل ہو گئی اور انہوں نے بچے کے علاج کے بجائے یہ رقم اپنی عیاشیوں پر خرچ کرنی شروع کر دی- یہاں تک کہ شمائلہ کی سفارش پر وہ شاہ زين کو لے کر اقرار الحسن کے شو میں بھی چلے گئے جہاں پر بھی ان کو کافی پیسے ملے-
 
قرۃ العین کا اس حوالے سے یہ بھی کہنا تھا کہ اقرار الحسن کا یہ اصول ہوتا ہے کہ وہ جمع شدہ رقم براہ راست والدین کے اکاؤنٹ میں نہیں ڈالتے بلکہ علاج کروانے والے ادارے کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرتے تھے- مگر شمائلہ کی ملی بھگت کے سبب اقرار کے شو میں جمع ہونے والا پیسہ بھی براہ راست دانیال کے اکاؤنٹ میں جمع کر وا دیا گیا جس نے وہ پیسہ بھی اپنی رنگ رلیوں میں استعمال کرنا شروع کر دیا -
 
یہاں تک کہ دانیال نے اب اپنی بیوی سے یہ مطالبہ کرنا شروع کر دیا کہ وہ اسٹامپ پیپر پر لکھ کر شاہ زین کو شمائلہ کو گود دے دے مگر جب اس نے اس سے منع کیا تو دانیال سے اس کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور بچہ چھین کر فرار ہو گیا-
 
اس موقع پر قرۃ العین کا یہ بھی کہنا تھا کہ دانیال کو صرف اسی بیمار اور معذور بچے کی کسٹڈی چاہیے تھی جو اس کے لیے سونے کی چڑیا بن گیا تھا جب کہ باقی دوبچوں کے لیے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہ تھا اور نہ ہی وہ ان کے اخراجات پورے کرتا تھا-
 
جب اس حوالے سے قرۃ العین نے عدالت میں کیس کیا تو عدالت نے اس کم عمر بیمار بچے کی کسٹڈی ماں کے حوالے کرنے کا حکم دیا مگر اس پر عمل درآمد سے پہلے ہی بچے کی حالت بگڑنے لگی اور مجبوراً اس کو ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا جہاں پر ڈاکٹروں نے شاہ زین کا ایمرجنسی میں آپریشن کیا جس کے بعد حالت بگڑنے پر اس کو وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا۔
 
 
قرۃ العین کے مطابق دانیال اور شمائلہ جس سے دانیال نے دوسری شادی کر لی ہے کو جب محسوس ہوا کہ بچہ آپریشن کے بعد بچ جائے گا اور اس کی کسٹڈی عدالت کے مطابق ماں کو مل جائے گی تو انہوں نے وینٹی لیٹر کا پائپ نکال دیا جس سے شاہ زین کی موت واقع ہو گئی-
 
اس واقعہ کا سب سے بد ترین پہلو یہ ہے کہ اب جب کہ شاہ زین کا انتقال ہو چکا ہے آج تک اس کی بیماری کی ویڈيو سوشل میڈیا پر شئير کر کے اس حوالے سے پیسے وصول کر رہا ہے اور جن کو شاہ زين کی موت کا پتہ چل گیا ہے ان سے قبر پکی کروانے کی مدد میں پیسے بٹور رہا ہے-
 
جبکہ قرۃ العین اور اس کے دونوں بچے لاہور کی سڑکوں پر رلنے کے لیے اور انصاف مانگنے کے لیے مجبور ہیں- ان کا مطالبہ ہے کہ ان کے بچے کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے اور ان سے تمام پیسوں کا حساب لیا جائے-
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
08 Dec, 2021 Views: 1035

Comments

آپ کی رائے