بیٹا اپنی پسند کی شادی کرسکتا ہے مگر بیٹی نہیں، ہم اپنی بیٹیوں کو پسند کی شادی کیوں نہیں کرنے دیتے کچھ ایسی وجوہات جن کو سب مانیں گے

 
خواتین کی حامی تنظیموں کی اکثر خواتین یہ شکایت ایک تواتر سے کرتی نظر آتی ہیں کہ جب بیٹوں کو پسند کی شادی کا حق دیا جا سکتا ہے تو بیٹی کو اس کی پسند کا حق جو شرعی طور پر بھی حاصل ہے- اس میں والدین اور گھر کے بڑے رخنہ کیوں ڈالتے ہیں اور اس کی پسند کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے بجائے اس کی مخالفت کیوں کرتے ہیں۔ تو اس حوالے سے کچھ ایسی ٹھوس وجوہات ہیں جن کو جان کر سب ہی ان کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائيں گے-
 
لڑکی کو پسند کی شادی کی اجازت نہ دینے کی وجوہات
اگرچہ اسلام شادی کے لیے لڑکی کی رضامندی کو لازمی اہمیت دیتا ہے اور ہمارے اس مضمون کا کہیں سے بھی اس حق کی مخالفت کرنا نہیں ہے- مگر کچھ حالات ایسے ہوتے ہیں جہاں پر ماں باپ کو چاہیے کہ وہ اپنے نقطہ نظر سے اپنی بیٹی کو آگاہ کریں اور اس کو قائل کرنے کی کوشش کریں اگر وہ مان جائے تو بہت اچھا ہے ورنہ زندگی اس نے خود گزارنی ہے اس کے بعد فیصلہ اس کے اپنے ہاتھ میں ہے-
 
بہو لائی جاتی ہے جب کہ بیٹی رخصت کی جاتی ہے
بیٹے کی پسند کو تو شادی کر کے اپنے گھر لایا جاتا ہے اس وجہ سے مختلف ماحول کا ہونے کے باوجود ماں باپ کے پاس یہ موقع ہوتا ہے کہ اس کو اپنے ماحول میں ڈھال سکیں- جب کہ بیٹی کو ایک نئے گھر میں رخصت کرنا ہوتا ہے اور اگر اس کی پسند کیا گیا لڑکا اس قابل نہ ہو کہ بیٹی کو خوش رکھ سکے تو اس صورت میں بیٹی کو سسرال میں جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس سے والدین خود کو بری الزمہ نہیں کر سکتے- اولاد کا دکھ والدین کا دکھ ہوتا ہے اس وجہ سے والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ایسے داماد کا انتخاب کریں جو کہ ان کی بیٹی کو خوش رکھ سکے-
 
 
جذباتی فیصلے زیادہ دیر تک نہیں نبھتے
کم عمری اور نا تجربہ کاری میں کیے گئے فیصلے زيادہ پائيدار نہیں ہوتے ہیں عام طور پر کم عمر لڑکیاں ایسے لڑکوں کا انتخاب کر لیتی ہیں جو بظاہر ہیرو کی طرح نظر آتے ہیں- لیکن تعلیمی طور پر ان کے اندر اتنی قابلیت نہیں ہوتی ہے کہ عملی میدان میں کامیاب ہو سکیں-
 
اگر ایسے لڑکے سے والدین شادی کی مخالفت کرتے ہیں تو لڑکیوں کو یہ محسوس ہوتا ہے بھائی کو تو پسند کی شادی کی اجازت ہے بیٹی کو اجازت نہیں ہے- جب کہ والدین آج کے بجائے آنے والے کل کو دیکھ رہے ہوتے ہیں-
 
لڑکے کے گھر والے بہت اہمیت رکھتے ہیں
والدین بیٹی کا رشتہ کرتے ہوئے صرف لڑکے کو نہیں دیکھتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ اس گھر اور گھر والوں کو بھی دیکھتے ہیں جہاں جا کر ان کی بیٹی نے رہنا ہوتا ہے۔ اگر لڑکے کے گھر والے اس مزاج کے حامل نہ ہوں جہاں جا کر ان کی بیٹی خوش رہ سکے تو وہ بہت اچھے لڑکے کے باوجود بھی بیٹی کا رشتہ وہاں کرنے سے کتراتے ہیں جس کو جذبات کے نشے میں بیٹی سمجھنے سے قاصر ہوتی ہے-
 
 
لڑکی کی شادی کے لیے ولی کی اہمیت
شرعی طور پر لڑکی کے نکاح میں ولی کی موجودگی ضروری ہوتی ہے جو اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ شریعت کے مطابق بھی لڑکی کو پسند کی شادی کا ح‍ق اس کے والدین اور بزرگوں کی اجازت کے ساتھ ہی حاصل ہے-
 
یہ تمام وہ عوامل ہیں جس کی بنا پر کوئی بھی والدین اپنی بیٹی کو پسند کی شادی کی اجازت دینے سے پہلے سو بار سوچتے ہیں-
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
10 Jan, 2022 Views: 1055

Comments

آپ کی رائے