جہاز کے انجن پر سکے اچھالنے سے آپ کو وہ برکت ملے گی، جو آپ نہیں چاہتے... چینی قوم خوش قسمتی کے لیے کس خطرناک حد تک جا سکتی ہے؟

 
اٹھائیس برس کے لو چاؤ نے فروری 2019 میں چین کے مشرقی شہر انچنگ سے اپنی زندگی کی پہلی پرواز میں بیٹھنے سے قبل ’لکی ایئر‘ کی اپنی فلائٹ کے محفوظ رہنے کے لیے جہاز کے انجن کی طرف دو سکے اچھال دیے تاکہ قسمت ان کا ساتھ دے۔
 
پھر کیا ہوا؟
ایئرپورٹ کے سکیورٹی عملے نے انھیں فوراً گرفتار کر لیا۔ باقی تمام مسافروں کو کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑا، جس دوران زمینی عملے نے سکے انجن سے باہر نکالے اور اس بات کو یقینی بنایا کہ جہاز کے انجن سکے لگنے سے محفوظ رہے ہیں۔
 
اس واقعے کا پورے چین میں کافی مذاق بنایا گیا۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو اس طرح کے واقعات چین میں اکثر و بیشتر پیش آتے رہتے ہیں۔
 
صرف پچھلے ایک سال میں کم سے کم ایک درجن افراد، جن میں ایک 80 برس کی بوڑھی خاتون اور ایک 26 برس کے میڈیکل کے طالب علم شامل ہیں، بالکل یہی کرتے ہوئے، یعنی پرواز میں سوار ہوتے وقت سکے اچھالتے ہوئے پکڑے گئے۔
 
یہاں تک کہ لکی ایئر جسے ایسے کئی واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے، نے اب مسافروں کو پرواز میں سوار ہونے سے قبل متنبہ کرنا شروع کر دیا ہے کہ جہاز کے انجن پر سکے اچھالنے سے آپ کو وہ ’برکت ملے گی، جو آپ نہیں چاہتے‘ (یعنی آپ کو گرفتار کر لیا جائے گا۔)
 
 
لو جیسے واقعات ویسے تو انتہا پر پہنچی ہوئی مثالیں ہیں۔
 
مگر منفرد وہم اور رواج کے تحت ہونے والی یہ حرکتیں چین تک محدود نہیں ہیں، مثلاً خوشحالی کے لیے اٹلی میں نئے سال پر دال کھائی جاتی ہے یا پھر انڈیا میں شگون کی رقم میں ایک روپیہ جوڑ دیا جاتا ہے۔
 
مگر پھر بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چینی زبان بولنے والے لوگ ہوائی جہاز کے بورڈنگ گیٹس سے لے کر جوے کی میزوں تک، اور سکول امتحانات سے لے کر سیاسی مقابلوں تک قسمت کے بارے میں کچھ زیادہ ہی سوچتے ہیں۔
 
اب آٹھ کے عدد کو ہی لے لیجیے۔
 
یہ چینیوں کے لیے صرف ایک عدد نہیں بلکہ ماورائی قوتوں کی علامت ہے۔ اس کا چینی تلفظ ’امیر ہونے‘ سے بہت ملتا جلتا ہے، چنانچہ گاڑی کی آٹھ نمبر والی نمبر پلیٹ یا فون نمبر حاصل کرنے کے لیے لوگ بڑی رقم دینے کو تیار ہو جاتے ہیں۔
 
یہاں تک کہ زیر جامہ بھی آپ کی قسمت کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ نئے سال کے موقع پر لال رنگ کی نیکر پہن کر ماہجونگ کھیلنا اچھی قسمت یقینی بنانے کا کارآمد ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔
 
ظاہر ہے کہ چین میں اور بیرونِ ملک موجود چینیوں کے قسمت کے بارے میں الگ الگ رویے ہیں لیکن کچھ چیزیں ہیں جو مشترک ہیں اور روایتی چینی کلینڈر میں نیا سال ایک ایسا وقت ہے جو ہر کسی کے لیے اہم ہوتا ہے۔
 
میں تائیوان کے دارالحکومت تائی پے میں مقیم ہوں، یہاں چینی نئے سال کے آتے ہی ماحول ایک دم بدل جاتا ہے۔
 
عام طور پر کافی سنجیدہ اور معتبر نظر آنے والا یہ شہر زندہ دل لگنے لگتا ہے۔ لوگ خصوصی کرداروں اور شعروں سے اپنے گھر سجاتے ہیں، بڑی تعداد میں لاٹری خریدنے پہنچ جاتے ہیں اور مندروں میں الگ الگ دیوتاؤں کی پوجا کرتے ہیں جن کے ہاتھوں میں آنے والے نئے سال کی قسمت کی چابیاں ہوتی ہیں۔
 
یہاں تک کہ سیاست دان بھی مندروں کا رُخ کرتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آنے والا سال ان کے لیے اور ان کے حامیوں کے لیے کیسا ہو گا۔
 
 
تو سوال یہ ہے کہ چینی ثقافت میں قسمت کی یہ اہمیت شروع کہاں سے ہوئی؟ یونیورسٹی آف واشنگٹن میں علمِ بشریات کے پروفیسر سٹیون ہاریل جنھوں نے چینی ثقافت میں تقدیر کے حوالے سے کافی کچھ لکھا ہے، کہتے ہیں کہ اس کی جڑیں چین کے قدیم ماضی میں ہیں۔
 
ہیریل کہتے ہیں ’انگریزی کے لفظ ’لک‘ کے مفہوم میں ایک بے ترتیبی جھلکتی ہے، کہ کچھ بھی ہو سکتا ہے اور یہ ’لک‘ یا قسمت کی بات ہے، لیکن چینی ثقافت میں یہ تصور عام ہے کہ کچھ بھی بے ترتیب نہیں ہے۔ بے ترتیب ہونے کا تصور بھی چینی ثقافت میں نہیں پایا جاتا۔‘
 
وہ کہتے ہیں کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ’چینی ثقافت ترتیب اور نظام میں یقین رکھتی ہے، اس کے بنیادی اقدار میں یہ سوچ شامل ہے کہ ہر شے کے پیچھے کسی نہ کسی طرح کی ترتیب ہے، نظام ہے۔‘
 
لیئو چیئنگ تائی پے کے تاریخی ضلعے وانہوا میں مقیم ایک تاؤ راہب ہیں اور وہ پورے تائیوان کے مندروں میں منعقد ہونے والی تقریبات میں شامل ہوتے ہیں۔
 
وہ کہتے ہیں کہ روایتی طور پر زیادہ تر لوگ ایک سادہ سی سوچ کے قائل ہیں۔ ’تیان ژوڈِنگ‘ یعنی ’آسمان فیصلہ کرتا ہے۔‘
 
 
تاؤ مذہب کو ماننے والوں میں اس سوچ کے نتیجے میں مشتری کے 12 سالہ مدار اور درجن بھر دیگر ستاروں کی چال پر مبنی ایک پیچیدہ وضاحتی کائناتی نظام نے جنم لیا۔ مانا جاتا ہے کہ ہر انسان کی قسمت اس نظام کے مطابق کام کرتی ہے اور آج بھی یہ کئی چینیوں کے لیے بے تحاشہ اہمیت کے حامل ہیں اور قسمت کا حال بتانے والوں کے روزگار کا ایک ذریعہ بھی۔
 
زندگی کے نظام میں ایک پراسرار ترتیب کے ہاتھ پر یقین نے چین کی روایتی سیاسی سوچ میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ نسل در نسل چینی بادشاہوں نے اپنی حکومت کو یہ کہہ کر جائز قرار دیا کہ انھیں دراصل آسمانوں کی طرف سے اپنی رعایا میں امن وامان اور ترتیب قائم رکھنے کا حق حاصل ہوا ہے۔
 
لیکن اگر کچھ بھی بے ترتیب نہیں تو کیا عام انسانوں کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ تقدیر کے پلڑے پر اپنی انگلیاں رکھ کر اسے تھوڑا سا اِس طرف یا اُس طرف جھکا دیں؟
 
لیئو کہتے ہیں کہ جہاں آسمانوں نے ہر ایک کی تقدیر کا فیصلہ کر رکھا ہے وہیں روایتی چینی تخیل کے مطابق ’آسمان کبھی تمام دروازے بند نہیں کرتا‘ یعنی آپ کے پاس ہمیشہ رستہ ہوتا ہے۔
 
 
اور شاید اپنی قسمت کچھ حد تک اپنے ہاتھ میں لینے اور ایسا کرنے کے حیران کُن طریقوں کی موجودگی شاید ’لک‘ اور قسمت کا حال بتانے سے کہیں زیادہ اہم ہو۔
 
درحقیقت چینی دنیا میں قسمت بہتر بنانے کی کئی سروسز پر مبنی ایک وسیع تر صنعت پائی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر تائی پے میں کچھ مندروں میں آپ ایسے آن لائن پیکجز خرید سکتے ہیں جن میں ایک راہب پورا سال آپ کی قسمت کو بہتر بنانے اور بُری قسمت کو دور رکھنے کے لیے ہر ماہ خصوصی رسومات ادا کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایسلائٹ بک سٹور میں ایک سیکشن میں ایسی بے تحاشہ کتب موجود ہیں جو قارئین کو اپنی قسمت بدلنے کے طریقے سکھاتی ہیں۔
 
پجاری، راہب اور جوتشی قسمت بدلنے کے لیے کبھی آپ کو اپنا فون نمبر بدلنے کا مشورہ دیتے ہیں تو کبھی بزنس کارڈ کا ڈیزائن بدلنے کا، یہاں تک کہ نام بدلنا بھی غیر معمولی نہیں۔
 
کچھ لوگ پجاری کو بلا کر برے اثرات کے رد کے لیے ’تسے کائی‘ نامی رسم اتنی ہی باقاعدگی سے کرواتے ہیں جتنی باقاعدگی سے وہ ڈینٹسٹ کے پاس جاتے ہیں۔
 
اور یہ سب کچھ کسی ایک فرقے تک مخصوص نہیں بلکہ اس کے دروازے ہر کسی کے لیے کُھلے ہوتے ہیں۔
 
لیئو کہتے ہیں کہ ’ہم اسے یوبائے یوباؤیو کہتے ہیں۔ آپ دیوتاؤں کو مانتے ہیں یا نہیں اس بات سے فرق نہیں پڑتا۔ اگر آپ دعا کریں گے تو آپ پر رحمت ہو گی۔‘
 
مانا کہ دیوتاؤں کو فرق نہیں پڑتا کہ دعا کون مانگ رہا ہے لیکن دعا مانگنے والے اس حوالے سے کافی پختہ یقین رکھ کر آتے ہیں۔ تائیوان جیسی جگہ میں جہاں دیوتاؤں کی کمی نہیں، دعا مانگنے والے نتائج پر یقین رکھتے ہیں۔
 
اگر ایک دیوتا سے مانگی دعا پوری ہو جائے تو اس کی کافی مشہوری ہو جاتی ہے۔ درحقیقت یہی وجہ ہے کہ گمنام مقامی بہادروں، بزرگوں اور یہاں تک کہ مجرموں کو بھی وسیع تر قبولیت ملی ہے اور وہ بڑے، کثیر دیوتاؤں والے مندروں میں اپنی جگہ بنا چکے ہیں۔
 
مؤقف کی یہی سختی ہے جس نے حیران کن حد تک کھلا اور متنوع عقائد پر مبنی نظام تشکیل دیا ہے جس میں پختہ لکیریں خال خال ہی پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ تاؤ مذہب کے کسی مندر میں بدھ مت کی شخصیات کے مجسمے ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔
 
لیئو چیئنگ کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ اُن کے پاس بھی سکہ اچھالنے کی اپنی کہانی موجود ہے جو پہلی بار پرواز میں بیٹھنے والے لو چاؤ کی کہانی سے زیادہ اچھے انجام پر ختم ہوئی۔
 
کئی سال پہلے لیئو کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا پورے خاندان نے گرم جوشی سے خیر مقدم کیا۔ لیکن لیئو چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا بھی ہو۔
 
سنہ 2013 میں انھوں نے تائیوان سے جنوبی چین کے ڈاھواژنگ مندر تک کا سفر طے کیا۔ یہ بدھا کے ایک اوتار بودھیستوا گوانین کا مندر ہے، جنھیں ’رحم کی دیوی‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ایک پہاڑ پر بنے بودھیستوا گوانین کے مجسمے کے نیچے ایک تالاب ہے جس میں ڈریگن کے سر تراشے ہوئے ہیں۔
 
اس تالاب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی بھی ایک ڈریگن کے منھ میں سکہ پھینک سکے تو اس کے ہاں اولاد ہوتی ہے۔
 
 
لیئو نے اس کو تھوڑا اور مشکل بنا دیا۔ اُنھوں نے اپنی پیٹھ ڈریگن کی طرف کر کے سکہ اچھالا اور وہ سیدھا ڈریگن کے منھ میں جا گرا۔
 
اس کے کچھ ہی عرصے بعد لیئو کی اہلیہ دوبارہ حاملہ ہوئیں اور ان کے ہاں بیٹا ہوا۔ لیئو آج جن دیوتاؤں کی پوجا کرتے ہیں ان میں بودھیستوا گوانین کا ایک چھوٹا سا مجسمہ بھی شامل ہے۔
 
اور جہاں تک لو چاؤ کا سوال ہے تو ان کی قسمت اتنی اچھی نہیں نکلی۔ جہاز کے انجن کی طرف سکے اچھالنے کے پانچ ماہ بعد، اور اپنے مقدمے کی پیروی کرنے کے لیے اپنے بھائی سے مدد مانگنے کے باوجود وہ کیس ہار گئے اور اُنھیں ایک لاکھ 20 ہزار یوآن (13 ہزار 650 پاؤنڈ) سے زیادہ کا جرمانہ بھرنا پڑا۔
 
Partner Content: BBC Urdu
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
12 Jan, 2022 Views: 2501

Comments

آپ کی رائے