صرف لاڈ پیار سے کام نہیں چلے گا، جوان ہوتے بچوں کی تربیت کے چند طریقے جو ہمیشہ ان کے کام آئیں

 
اپنی اولاد کو جوان ہوتے ہوئے دیکھنا ہر والدین کا دیرینہ خواب ہوتا ہے۔ اولاد کی بہترین تربیت کی کوشش، ان کو اچھا ماحول دینا، ان کے خواب پورے کرنا،ا ن کی خواہشات کی تکمیل، ان کو اچھی تعلیم و تربیت دینا ہی ہر والدین کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ لیکن آج کل دیکھا یہ جا رہا ہے کہ والدین اولاد کی ہر جائز و ناجائز خواہش کو پورا کرنا اپنا فرض بنا لیتے ہیں جس کی وجہ سے اولاد کے لئے" نہ" سننا اب برداشت سے باہر ہو گیا ہے اور وہ اس چیز کو سمجھنا ہی نہیں چاہتے کہ ان کو کسی بات کے لئے منع بھی کیا جا سکتا ہے۔ اگر کسی بات کے لئے ان کو منع کیا جائے تو ان کو لگتا ہے کہ ہمارے اوپر بہت ظلم ہو رہا ہے، خاص کر جوان ہوتے ہوئے بچے کسی بھی بات پر انکار سننا ہی نہیں چاہتے۔ اس میں قصور ان کے والدین کا ہوتا ہے جو ان کی ہر بات مان کر ان کو لاڈ پیار میں اتنا بگاڑ دیتے ہیں کہ ان کی برداشت ہی نہیں رہتی کہ ان کو منع کیا جائے۔
 
ماہرین کے مطابق اچھے والدین کے لیے ضروری ہے کہ :۔
 
اپنے بچوں کی حدود متعین کریں۔
 
اپنے بچوں کے ہر موڈ کو قبول کریں۔صرف اچھا موڈ ہی نہیں برے موڈ کو بھی قبول کریں۔۔بچوں کے خراب موڈ کے ڈر سے ان کی ہر بات ماننے کی اپنی عادت کو ختم کریں۔
 
یاد رکھیں آپ کے بچے آپ کا ہی عکس ہیں۔ جو آپ کا رویہ عمومی طور پر گھر میں ہوتا ہے وہی آپ کے بچے کاپی کرتے ہیں۔ اس لئے اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے عمدہ عادات و اطوار اپنائیں تو اس کے لئے آپ کو گھر کا ماحول اچھا بنانا ہوگا اپنےآپ کو بدلنا ہوگا۔
 
بچوں کا ہر قسم کا رویہ ان کے بات کرنے کا طریقہ ہے۔ یعنی وہ اپنے رویے سے اپنے موڈ کا بتا دیتے ہیں کہ ان کا موڈ اچھا ہے یا برا۔
 
اپنے بچوں کو خود مختار بنائیں،ان کو ان کے چھوٹے بڑے کام خود کرنے کی عادت ڈالیں۔ہر وقت ان کو سر پہ بٹھا کر نہ رکھیں بلکہ گھر کے چھوٹے موٹے کام کرنے کی شروع سے عادت ڈالیں۔
 
 
اپنے ساتھ کاموں میں مددگار بنائیں تاکہ آپ کو بھی اپنے لئے کچھ وقت مل سکے۔
 
اظہار رائے کی آزادی دیں کہ وہ کسی معاملے میں اگر بات کرنا چاہیں تو بات کرسکیں۔
 
معاشی طور پر خود کفیل ہونے دیں، بچوں کے لئے بہت سے ایسے کام ہیں جن کو کر کے وہ معاشی طور پر خود کفیل ہوسکتے ہیں۔ مثلاً ٹیوشن پڑھانا،کسی جگہ وقتی طور پر جاب کرنا ۔اور اب تو آن لائن بہت کام ہورہا ہے۔ آن لائن کوئی کام کر سکتے ہیں۔ اس سے ان میں خود اعتمادی بھی بڑھتی ہے اور آپ کا بوجھ بھی کچھ ہلکا ہوتا ہے۔
 
اپنے کام خود کرنے کی عادت ڈالیں ۔ہمارے ہاں ماں باپ جوان ہونے تک، بلکہ ان کی جب تک شادیاں نہ ہوجائیں اس وقت تک ان کو بچہ ہی سمجھتے رہتے ہیں، لڑکا ہو یا لڑکی اپنے کام خود کرنے کی ان کو عادت ہونی چاہیے۔
 
لوگوں سے ملنا جلنا سکھائیں، رشتے داروں کا تعارف کروائیں، ان کو اپنے ساتھ ان کے گھر لے کر جائیں تاکہ ان کو بھی پتہ چلے کہ انہیں بھی یہ سب نبھانا ہے۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ آج کل ماں باپ بچوں کو کسی تقریب میں لے کر نہیں جاتے کہ بچوں کو جانے کی کیا ضرورت ہے، اس سے بچوں کے نزدیک بھی رشتوں کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ اور وہ دوستوں کے ساتھ تو ہر جگہ چلے جاتے ہیں لیکن عزیز واقارب کے گھر جانا ان کو مصیبت لگتا ہے۔
 
 
اپنے مسئلے خود حل کرنا سکھائیں۔ ہر مسئلے کے حل کے لئے وہ آپ کی شکل نہ دیکھیں بلکہ ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ اگر کچھ مسئلہ ہو تو اس کو ہم خود حل کر سکتے ہیں۔ اپنا اتنا عادی نہ بنائیں کہ وہ آپ کے بغیر ایک قدم نہ چل سکیں۔ پاکستان سے باہر کے ممالک میں اگر دیکھا جائے تو وہاں چھوٹی عمر سے ہی بچوں کو الگ کر دیا جاتا ہے کہ وہ خود کھائیں، خود کمائیں، خود ہی اپنے سارے کام کریں۔ ہم ان کو الگ نہیں کر سکتے تو کم از کم اتنا تو کریں کہ ان کو اپنے کام خود کرنا آجائے۔
 
ہم نے اپنے بچوں کو اپنا اتناعادی بنالیا ہے کہ وہ ہمارے بغیر کچھ کر ہی نہیں سکتے۔ایسے میں ماں اور باپ دونوں کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ مائیں ماسیاں بن جاتی ہیں اور باپ مزدور۔اور بچے شہزادہ شہزادی بنے رہتے ہیں۔
 
اس لئے اپنے بچوں کی تربیت ان خطوط پر کیجیے کہ وہ آپ کے لئے بھی مددگار ثابت ہوں اور معاشرے کے لئے بھی کارآمد فرد ثابت ہو سکیں۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
13 Jan, 2022 Views: 14780

Comments

آپ کی رائے