اعلیٰ تعلیم اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن

(Sidra Malik, )

ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر

ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے قیام سے قبل ملک میں اعلیٰ تعلیم کے معاملات کی نگرانی یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے سپرد تھی۔2002 میں ایچ۔ای۔سی کے قیام کے بعد اعلیٰ تعلیم کے میدان میں نہایت مثبت پیش رفت ہوئی۔ درجنوں نئی جامعات قائم ہوئیں۔سینکڑوں طالب علموں اور اساتذہ کو بھاری بھرکم وظائف عطا ہوئے اور انہیں پی۔ایچ۔ڈی کے لئے بیرون ملک جانے کے مواقع میسر آئے۔کمیشن نے جامعات کو تحقیقی فنڈز فراہم کئے، جس کی وجہ سے تحقیق کے میدان میں بھی پاکستا ن آگے بڑھا۔ اساتذہ کی تنخواہوں میں بھی قابل ذکر اضافہ ہوا۔ انہیں ملکی اور غیر ملکی کانفرنسوں اور ورکشاپوں میں شرکت کے لئے وظائف ملنے لگے۔بلاشبہ اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ ایچ۔ای۔سی نے پاکستان میں علمی اور تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ میں نہایت مثبت کردار ادا کیا ۔ تاہم وقت گزرنے کیساتھ ساتھ محسوس یہ ہونے لگا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن جمود کا شکار ہو گیا ہے۔ رفتہ رفتہ اس کی کارکردگی میں کمی آنے لگی۔ کمیشن کی پالیسیاں بھی تنقید کی زد میں رہنے لگیں۔ کارکردگی متاثر ہونے کی ایک بنیادی وجہ تو یقینا فنڈز کی کمی تھی۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ تعلیم اور صحت جیسے اہم سماجی معاملات کو ہمارے ہاں بہت زیادہ ر توجہ حاصل نہیں ہوتی ۔ مختلف حکومتوں کی طرف سے تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی کے باعث ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو فنڈز کی کمی کا سامنا کرنا پڑا تو لامحالہ بہت سی علمی اور تحقیقی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب بیرون ملک زیر تعلیم طالب علموں کو ان کے تعلیمی وظائف کی اقساط ملنا بند ہو گئیں۔ دیار غیر میں یہ طالب علم مانگ تانگ کر گزر بسر کرتے رہے۔ گزشتہ کچھ برسوں سے بھی کمیشن کو محدود فنڈز کیساتھ گزارا کرنا پڑ رہا ہے۔نتیجتا کمیشن کی طرف سے سرکاری جامعات کو فنڈز کی فراہمی میں کمی آئی ہے۔ اس کے اثرات لامحالہ ملک بھر کی جامعات پر پڑے ہیں۔ آئے روز ہم ایسے قصے سنتے رہتے ہیں کہ فلاں فلاں نامور جامعہ اپنے اساتذہ اور دیگر ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کرنے سے قاصر ہے۔ یا جامعات کو اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں کمی کرنا پڑی۔ یا اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے بنکوں سے قرضے لینا پڑے۔

اگرچہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے مناسب تعلیمی بجٹ اور فنڈز کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ لیکن یہ کہنا قطعا درست نہیں کہ صرف تعلیمی بجٹ اور بھاری بھرکم فنڈز ہی تعلیمی میدان میں ترقی کے ضامن ہیں۔ نامور ماہرین تعلیم بتاتے ہیں کہ اچھی تدریس، مستند تحقیق ، طالب علموں کی اخلاقی تربیت اور بہت سے دیگر معاملات بھی معیار تعلیم سے جڑے ہوئے ہیں اور ان معاملات میں محدود وسائل اور بجٹ کے ساتھ بھی بہتری لائی جا سکتی ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ایچ۔ای۔سی کو بھی درپیش ہے۔ تعلیمی بجٹ کی کمی سے قطع نظر، کمیشن کی کارگزاری اور کچھ پالیسیاں جامعات کے اساتذہ اور ماہرین تعلیم کے لئے اضطراب کا باعث بنی رہتی ہیں۔برسوں سے نامور ماہرین تعلیم نوحہ کناں ہیں کہ معیار تعلیم مسلسل گراوٹ کا شکار ہے۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ بہت سی پرائیویٹ اور سرکاری جامعات میں ایم ۔فل اور پی ۔ایچ۔ڈی کی ناقص تعلیم دی جا رہی ہے۔ ایسے تعلیمی ادارے بھی موجود ہیں، جو اصل میں ڈگری بیچنے کی دکانیں ہیں۔ہائیر ایجوکیشن کمیشن کبھی کبھار انگڑائی لے کر جاگتا ہے۔ جامعات کا جائزہ لیتا ہے۔ کچھ پروگرام بند کرتا ہے۔ کچھ اداروں کو تنبیہ جاری کرتا ہے۔ تاہم نگرانی کا کوئی مستقل نظام موجود نہیں ۔ بالکل اسی طرح ہمارے ہاں ناقص تحقیقی مقالہ جات کی بھی بھرمار ہے۔کمیشن نے جامعہ کے اساتذہ کی ترقی کا معاملہ مقالہ جات کی اشاعت سے نتھی کر رکھا ہے۔ لہذا ریسرچ آرٹیکل لکھنا اور چھپوانا اساتذہ کی پیشہ وارانہ مجبوری بھی ہے۔لیکن ترقی سے ہٹ کر بھی تحقیقی مقالے لکھنے کی ایک اندھی دوڑجاری ہے۔ ڈاکٹر عمر سیف جیسے نامور پروفیسر صاحبان کئی بار توجہ دلا چکے ہیں کہ تحقیق کے نام پر اس چربے اور سرقے کا شعبہ تعلیم کو کوئی فائدہ نہیں۔ الٹا پاکستان کو مختلف فارمز اور رپورٹوں میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لہذا یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ مختلف جامعات کے اساتذہ بھی احتجاج کرتے نظر آتے ہیں کہ میرٹ پر تحقیقی جرنلز میں مقالہ چھپوانا نہایت مشکل ہو چلا ہے۔شکایات کے باوجود ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے کوئی شنوائی نہیں ہوتی ۔ہوتے ہوتے یہ قضیہ اب سینٹ میں جا پہنچا ہے۔ کچھ ہفتے پہلے یہ معاملہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت میں بھی زیر بحث آیا ہے۔ اب اس سلسلے میں ایک سب کمیٹی قائم ہو گئی ہے جو اس قصے کی تحقیق کرئے گی کہ تحقیقی مقالہ جات کس طریقہ کار کے تحت چھاپے جاتے رہے ہیں۔

اسی طرح کمیشن کی وضع کردہ کچھ پالیسیاں بھی جامعات کیلئے مشکلات کا باعث ہیں۔ مثال کے طور پر ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ایک نئی پالیسی کے مطابق کسی بھی یونیورسٹی میں وزیٹنگ فیکلٹی ممبر بننے کے لئے ایم۔فل کی ڈگری لازمی قرار دے دی گئی ہے۔ ڈگری کی اہمیت مسلم ہے ۔یقینا یونیورسٹی سطح پر پڑھانے والے اساتذہ کو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہی ہونا چاہییے ۔ مگرایسی پالیسیاں بناتے وقت کچھ excptions بھی مدنظر رکھنی چاہییں۔ میرا تعلق چونکہ شعبہ صحافت اور ابلاغیات سے ہے تو اسی کی مثال لے لیجئے۔عام طور پر شعبہ صحافت اور ابلاغیات کے ٹیکنیکل اور پریکٹیکل کورسز وزیٹنگ فیکلٹی ممبرز کو دئیے جاتے ہیں۔مثلا عملی رپورٹنگ پڑھانے کیلئے کوئی تجربہ کار رپورٹر/ صحافی درکار ہوتا ہے۔ ڈرامہ ڈئریکشن پڑھانے کیلئے ڈرامہ ڈائریکٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔ کالم نگاری وہی پڑھا سکے گا جو خود کالم لکھنا جانتا ہو۔ میوزک کی تعلیم کوئی اچھا گائیک یا میوزیشن ہی دے سکے گا۔جبکہ ہمارے بیشتر ڈرامہ ڈائریکٹر، کالم نگار،صحافی، لکھاری ایسے ہیں جو برسوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ تاہم ایم۔فل کی ڈگری نہیں رکھتے۔ کچھ ڈرامہ ڈائریکٹر ایسے ہیں جو سرکاری ٹی وی میں ملازمت کرنے کے بعد ریٹائر ہوئے اور اب نجی شعبے میں متحرک ہیں۔ مگر ایچ۔ ای۔ سی کی پالیسی کے مطابق جامعات ان تجربہ کار پروفیشلز کو ڈرامہ ڈائریکشن یا رائٹینگ کا کوئی کورس پڑھنے کے لئے نہیں دی سکتیں۔یعنی ایوب خاور، حفیظ طاہر جیسے نامور ڈائریکٹرز جو مختلف جامعات کی وزیٹنگ فیکلٹی کا حصہ رہے ہیں۔ اب جامعات میں پڑھانے کے اہل نہیں رہے۔ اسی طرح کالم نگاری پڑھانے کے لئے عطا الحق قاسمی، عرفان صدیقی، جاوید چوہدری، عطاالرحمن، اور دیگر نامور کالم نگار کسی یونیورسٹی کی وزٹنگ فیکلٹی کا حصہ نہیں بن سکتے۔عارف نظامی اور حامد میر جیسے نامور صحافی تمام تر تجربے کے باوجود رپورٹنگ پڑھانے کے لئے اہل نہیں۔ جبکہ دوسری طرف کسی بھی سرکاری یا پرائیویٹ جامعہ سے عام سے نمبروں کیساتھ ایم ۔فل کی ڈگری کا حامل کوئی بھی نوجوان، کسی قسم کے پیشہ وارانہ تجربے کے بغیر ، یونیورسٹی سطح کے طالب علموں کو پڑھانے کے لئے اہل ہے۔غور کیجئے کہ یہ کیسی پالیسی ہے؟ کمیشن کو چاہیے کہ یہ اور ایسی دیگر پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لے اور ان میں ترمیم کرئے۔ بہت اچھا ہو اگر کمیشن کسی پالیسی کے نفاذ سے پہلے جامعات کے سربراہان سے مشاورت یقینی بنائے۔ یونیورسٹیوں کے اساتذہ سے فیڈ بیک لینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ آج کل تو ای۔میل کے ذریعے ملک بھر سے دفتر میں بیٹھے فیڈ بیک حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اسٹیک ہولڈروں سے مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا تب ہی صورتحال میں بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sidra Malik

Read More Articles by Sidra Malik: 152 Articles with 64522 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Jan, 2022 Views: 526

Comments

آپ کی رائے