'ہمارے بیٹے کی شادی طے ہو گئی ہے۔ اب رشتے نہ لائیں‘ ایک ایسا شہر جو اپنی بدتمیزیوں کے لیے مشہور ہے

 
ستمبر میں ایک بارش والے دن میں انڈین ریاست مہاراشٹر کے شہر پونے کے پرانے علاقے میں واقع محلہ سداشیو پیٹھ کی گلیوں میں گھوم رہی تھی جب میری نظر ایک مندر کے سامنے نصب ایک رنگین سائن بورڈ پر پڑی۔
 
اس بورڈ پر مقامی مراٹھی زبان میں لکھا تھا: ’یہ پرائیویٹ پارکنگ ہے۔ مندر جانے والا کوئی بھی شخص اپنی گاڑی یہاں نہیں کھڑا کر سکتا۔ اگر گاڑی پارک کریں گے تو ٹائر کی ہوا نکال دی جائے گی، گاڑی کو زنجیروں میں لاک کر دیا جائے گا۔ 500 روپے جرمانہ ادا کرنے کے بعد ہی گاڑی مالک کے حوالے کی جائے گی۔‘
 
’نو پارکنگ‘ کے اس بے باک انداز نے میرے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دی اور یہ مسکراہٹ بطور خاص گہری اس لیے تھی کیونکہ صرف ایک گھنٹہ پہلے ہی میں بریانی سے لطف اندوز ہونے کے لیے ایک مشہور مقامی ریستوران ’ایس پیز بریانی ہاؤس‘ میں تھی جہاں چسپاں کیے گئے ایک نوٹس پر لکھا تھا ’ہمارے یہاں بریانی کبھی بھی ختم ہو سکتی ہے۔ ایسے میں کوئی نہ ناراض ہو اور نہ ہی انتظامیہ سے بحث کرے۔‘
 
پونے کے پرانے علاقوں میں اس طرح کی دو ٹوک اور دھمکی آمیز باتیں کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ بدنام زمانہ پونے کے سائن بورڈ زیادہ تر کار پارکنگ، ریستوران، دکانوں اور مکانات پر نصب یا چسپاں کیے جاتے ہیں۔ کچھ تو دہائیوں سے وہاں موجود ہیں اور کچھ وقتا فوقتا نمودار ہوتے رہتے ہیں۔ یہ سائن بورڈ اتنے مشہور ہیں کہ سوشل میڈیا پر بھی ان کی شان میں قصیدے سننے کو ملتے ہیں۔
 
اگرچہ کچھ مزاحیہ ہوتے ہیں تو کسی میں شدید طنز ہوتا ہے، اتنا شدید طنز کہ جو بدتمیزی کے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔ پرانے پونے کے محلوں سے گزرتے ہوئے میں نے جو سائن بورڈز دیکھے اُن میں سے میرے چند پسندیدہ اس طرح ہیں:
 
 
’اگر ایک بار میں گھنٹی کا جواب نہ دیا جائے تو سمجھ لیں کہ ہم آپ سے ملنا نہیں چاہتے: چلے جائیں‘
 
’دروازے کی گھنٹی بجانے کے بعد انتظار کریں۔ یہاں رہنے والے انسان ہیں، سپائیڈرمین نہیں‘
 
’اگر کوئی یہاں گاڑی کھڑی کرے گا تو گاڑی کا ٹائر پنکچر کر دیا جائے گا‘
 
'ہمارے بیٹے کی شادی طے ہو گئی ہے۔ اب رشتے نہ لائیں‘
 
پونے یونیورسٹی کے سکول آف سوشل سائنسز کے ریٹائرڈ ڈائریکٹر ڈاکٹر شریدھر مدھوکر دکشت نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ 1960 یا 1970 کی دہائی کے آس پاس کا وقت تھا جب یہ سائن بورڈز وجود میں آئے۔ پونے والے صاف گو ہیں اور ان سائن بورڈز کے ذریعے کوئی بات بتانے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔‘
 
پونے میں رہنے والے پورے انڈیا میں خودسر اور دوسروں کے لیے جذبات سے عاری سمجھے جاتے ہیں، بعض اوقات تو بدتمیزی کی حد تک۔ وہ کم الفاظ کا استعمال کرنے والے لوگ ہیں اور جو کچھ بھی وہ بولتے ہیں وہ اکثر روکھا اور دو ٹوک ہوتا ہے۔ درحقیقت، پونے والوں کا یہ رویہ اتنا مشہور ہے کہ اسے مراٹھی فلم میں بھی دکھایا گیا ہے۔ اسے فلم ’ممبئی، پونے، ممبئی‘ اور ٹیلی ویژن پروگرام ’پونیری پونیکر‘ میں دیکھا جا سکتا ہے۔
 
 
مہاراشٹر کے شمال مغرب میں واقع شہر ناسک سے تعلق رکھنے والے سافٹ ویئر انجینیئر چیتن چندراترے کا کہنا ہے کہ ’پونے والوں کے ساتھ دوستی کرنے کے لیے وقت اور کوشش کی ضرورت ہے۔ میرے پونے کے روم میٹ ہمیشہ میری مراٹھی (زبان) کا مذاق اڑاتے اور جب میں کالج میں تھا تو ہمیشہ میری درستگی کرتے رہتے۔ مجھے اُن کے سرکل میں شامل ہونے میں چند مہینے لگے۔‘
 
پونے والوں کے ساتھ دوستی کرنے کے لیے وقت اور کوشش کی ضرورت ہے
جب رشمی جوشی ناسک سے پونے کے ایک ریستوراں میں اپنے ممکنہ دولھے سے ملنے کے لیے پہنچیں تو وہ یہ سُن کر حیران رہ گئيں کہ ان کے ممکنہ دولھے نے ان سے نصف بل ادا کرنے کے لیے کہا۔ دولھے میاں کا تعلق پونے سے تھا۔ ’مجھے اس کی قطعی امید نہیں تھی، کیونکہ میں نے سوچا تھا کہ وہ پہلی ملاقات میں مجھے متاثر کرنے کی کوشش کریں گے۔‘
 
درحقیقت پونے والے کسی بھی باہر والے شخص کے لیے سخت گیر ثابت ہوتے ہیں۔ ممبئی پونے سے صرف 150 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اور پونے والوں کے ساتھ ممبئی والوں کے رشتے ’لو، ہیٹ‘ یعنی محبت اور نفرت پر مبنی ہیں۔ اور وہ اکثر پونے والوں کو ان کے ہتک آمیز انداز کے لیے نشانہ بناتے ہیں۔
 
Partner Content: BBC Urdu
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
20 Jan, 2022 Views: 8806

Comments

آپ کی رائے