بیٹی کرے آرام اور بہو کرے کام، بیٹی اور بہو کے درمیان کچھ ایسے فرق جو ہر گھر میں پائے جاتے ہیں لیکن اب انہیں بدلنا چاہیے

 
اکلوتے بیٹے کے لیے رشتے کی تلاش میں میری شرط صرف کم عمر اور خوبصورت لڑکی کی تھی میرا یہ ماننا تھا کہ ایسی لڑکیاں سسرال کے ماحول میں ڈھل جاتی ہیں مگر جب شادی کے بعد بہو گھر آئی تو میرے اندر کی روائتی ساس کہیں سے جاگ اٹھی-
 
میری خواہش ہوتی تھی کہ وہ میرے منہ سے نکلتی ہر بات کو فوراً جان لے ناشتے کے لیے گرما گرم پراٹھے بنائے جو گول ہونے کے ساتھ ساتھ خستہ اور لچھے دار بھی ہوں۔ اس کے علاوہ اس کو میک اپ کرنا بھی آتا ہو کھانے کے لیے طرح طرح کے چائينیز اور دیسی کھانے بھی بنا سکے- مگر جب وہ ایسا کرنے میں ناکام ہو تو پھر خیال آتا کہ اس کی ماں نے اس کو یہ بھی نہیں سکھایا-
 
بیٹی اور بہو میں کچھ ایسے فرق جو ہر گھر میں نظر آتا ہے
ان حالات کا سامنا کرنے کے بعد حقیقت پسندی سے میں نے اس چیز کو نوٹ کیا کہ میرا رویہ اس ساس کی طرح ہونے لگا ہے جو روایتی ساس کا ہوتا ہے- یہ محسوس کر کے میں نے خود کو کسی حد تک تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور ان تمام چیزوں کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا جو بیٹی اور بہو میں فرق کرنے کا سبب بنتے تھے-
 
بیٹی دیر تک سوئے تو ٹھیک اور اگر بہو دیر سے جاگے تو قیامت
اکثر گھروں میں بہو کا دیر تک سونا نحوست قرار دیا جاتا ہے اور بیٹی کے کمرے کی لائٹ بجھا کر پردے بھی برابر کر دیے جاتے ہیں کہ اس نے پرائے گھر جانا ہے- ماں باپ کے گھر ہی آرام مل سکتا ہے جب کہ بہو کو صبح صبح جگانا ضروری سمجھا جاتا ہے-
 
یہ بات نند بھاوج میں فاصلوں کا سبب بنتی ہے اور بہو خود کو کبھی بھی گھر کا حصہ نہیں بنا پاتی ہے اس کو ہر وقت اجنبیت کا احساس رہتا ہے- اس وجہ سے یہ ایک ساس کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اس فرق کو ختم کرے-
 
 
بیٹی کو کھانا بنانے کی ضرورت نہیں مگر بہو کو ہر طرح کا کھانا بنانا آنا چاہیے
شادی کے لیےکم عمر بہو کی تلاش کرنے والے یہ سمجھنے کے لیے تیار نظر نہیں آتے ہیں کہ وقت ہی انسان کو سب کچھ سکھا سکتا ہے اور آج کل کی بچیاں اپنی پڑھائی میں مقابلے کے سبب اس حد تک مصروف رہتی ہیں کہ وہ گھریلو خانہ داری کے امور نہیں سیکھ پاتی ہیں- اس وجہ سے یہ سوچنا کہ شادی کے پہلے دن سے ہی بہو تو سارے کام کرے مگر بیٹی چونکہ پڑھ رہی ہے اس وجہ سے اس کے لیے سب معاف ہے ایک غلط سوچ کو ظاہر کرتا ہے-
 
بیٹی کی سہیلیاں جائز اور بہو کی سہیلیاں بری
اکثر جب بہو کو لے کر آتے ہیں تو اپنے گھر کے دروازے صرف بہو کے گھر والوں کے لیے تو کھولتے ہیں مگر اس بات کی اجازت نہیں دیتے ہیں کہ بہو اپنی کسی سہیلی سے ملے یا اس کے گھر آجاسکے- اور اگر بہو کی کسی سہیلی کی آمد ہو جائے تو پورا سسرال اپنی سراغ رسانی کی خواہش کی تکمیل ان کی گفتگو سن کر تے ہیں اور اس طرح کے رویے کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ دوبارہ آنے سے توبہ گار ہو جاتی ہے- مگر یہی سہیلیاں جب بیٹی کی ہوں تو خوش مزاجی کے ساری حدوں کو پھلانگ کر نہ صرف ان کو وقت فراہم کیا جاتا ہے بلکہ اس کو گھر تک چھوڑنے بھی جایا جاتا ہے-
 
بیٹی آرام اور بہو کام کرے
اب تو گھر اس کا ہی ہے اس نے ہی سنبھالنا ہے اور بیٹی تو مہمان ہے کچھ دنوں کی اس وجہ سے اس کو آرام کروانا اور اس کے لیے مزیدار کھانے بنانا بھی ایک ایسا کام ہوتا ہے جو کہ ہر گھر میں ہی نظر آتا ہے -رویوں کا یہ فرق بہو کے لیے سسرال کی زندگی کو خوبصورت بنانے کے بجائے اذیت ناک بنا ڈالتا ہے-
 
 
بیٹی کی پسند کا خیال اور بہو کی پسند پر ناک چڑھانا
اگر بیٹی کو سبزياں نہیں پسند تو اس کے لیے ساتھ میں کچھ نہ اور کچھ پکا کر دیا جاتا ہے اور اگر یہی مسئلہ بہو کے ساتھ ہو اور وہ کچھ نہ کھاتی ہو تو فوراً ناک بھوں چڑھا لیے جاتے ہیں کہ ہر حال میں گزارا کرنا آنا چاہیے اس طرح تو نہیں کرنا چاہیے وغیرہ وغیرہ-
 
یاد رکھیں!
بہو کو پرایا سمجھنا اور بیٹی کو اپنا سمجھنا مکافات عمل کا سبب بن سکتا ہے اور آنے والے وقت میں اگر خدا نخواستہ یہ رویہ بیٹی کے سسرال والوں نے اس کے ساتھ روا رکھا تو سب سے زيادہ دکھ اور تکلیف آپ کو خود ہو گی- اس وجہ سے ایسا کچھ بھی کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیں کہ جو آج آپ بو رہے ہیں آنے والے وقت میں اس فصل کو آپ نے ہی کاٹنا ہو گا-
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
23 Jan, 2022 Views: 1210

Comments

آپ کی رائے