|
|
بیٹی کو گھر سے رخصت کرتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر
اکثر والدین اس کی خوشی اور سکون کے لیے دعا گو ہوتے ہیں۔ بیٹیاں اچھی توسب
کو ہی لگتی ہیں لیکن اس کے نصیب سے ہر فرد کو ڈر لگتا ہے۔ بیٹی کی بد نصیبی
اور دکھ کا اثر صرف اس بیٹی پر ہی نہیں پڑتا بلکہ اس دکھ کی آنج والدین کو
بھی بے سکون کر دیتی ہے- |
|
ایسی ہی ایک بیٹی کی ویڈيو جالیہ دنوں میں سوشل میڈيا پر
گردش کر رہی ہے۔ جس کے والدین نے اس کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کیا۔ اس کو
بی ایس سی اور بی ایڈ تک تعلیم دلوائی۔ اس کے بعد ہومیوپیتھک ڈاکٹر بھی
بنایا اور پھر اچھا رشتہ دیکھ کر اس کی شادی کر دی- |
|
یہ ویڈیو ایدھی ہوم راولپنڈی کی پناہ گاہ میں بنائی گئی
ہے جہاں پر ایک خاتون نے پناہ لی ہوئی ہے۔ اس عورت کے نام کو نہیں بتایا
گیا اس عورت کا سب سے بڑا قصور یہ ہے کہ اس کے شوہر نے شادی کے انیس سال
بعد اس کو بانجھ قرار دے کر طلاق دے دی اور خود دوسری شادی کر لی- |
|
|
|
شوہر کے گھر کے بعد کسی بھی عورت کا واحد سہارا اس کا
میکہ ہوتا ہے مگر اس بدنصیب بیٹی کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا اور وہ جب شوہر
کے گھر سے دھتکارے جانے کے بعد میکے گئی تو وہاں باپ کی موت کے بعد ماں
بھائيوں اور بھابیوں کے رحم و کرم پر رہنے پر مجبور تھیں- |
|
ان حالات میں انہوں نے طلاق یافتہ نند کے لیے اپنے
دروازے بند کر دیے اور بغیر اس بات کا احساس کیے کہ اس طلاق میں اس کا کوئی
قصور نہ تھا سارے الزامات کا ملبہ اپنی نند پر ڈال کو اسکو اپنے ساتھ رکھنے
سے منع کر دیا - |
|
ہمارا معاشرہ مردوں کا معاشرہ ہے جہاں پر ایک اکیلی عورت
کو چاہے وہ پڑھی لکھی بھی ہو اپنے اخراجات پورے کر سکتی ہوں تب بھی اسکو
تنہا رہنے کی اجازت نہیں مل سکتی ہے- یہی وجہ ہے کہ تعلیم یافتہ ہونے کے
باوجود میکے اور سسرال سے دھتکارے جانے کے باوجود وہ ایدھی ہوم میں پناہ
لینے پر مجبور ہو گئی- |
|
اس خاتون کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج کل کے دور میں بڑھتی
ہوئی طلاق کی شرح کا بنیادی سبب نئی نسل میں عدم برداشت ہے جس کی وجہ سے
چھوٹی چھوٹی باتوں پر گھر ٹوٹ جاتا ہے- جس کی وجہ سے سب سے بڑا نقصان لڑکی
کو بھگتنا پڑتا ہے اور ہر کوئی اس کو طلاق یافتہ کہہ کر گناہ گار قرار دے
دیتا ہے- |
|
|
|
ایسی بیٹیاں معاشرے کے لیے ایک سوالیہ نشان ہوتی ہیں اور
اپنی مظلومیت کے سبب ہم سب کی ہمدردی اور محبت کی حق دار ہوتی ہیں- |