کہ لائف میں اکیلیے ہی خوش رہنا سیکھو۔" />

بچپن کتنا حسین تھا

بچپن میں" مسٹر بِین " صرف انٹرٹینمنٹ کیلیئے دیکھتے تھے..لیکن آج پتہ چلا وہ " شو" ایک سبق تھا
کہ لائف میں اکیلیے ہی خوش رہنا سیکھو۔

سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا صبح اٹھا اسکول گیا واپس آیا باہر کھیلنے چلا گیا مجھے صرف خوشیوں کا ہی پتہ تھا ہر وقت ہسنا کھیلنا کھانا پینا سونا اسکول جانا واپس آنا بس یہی کام ہی تھا .
پھر بڑا ہو گیا زمہ داریاں آگئیں کھیلنے کودنے کے دن چلے گئے پھر دکھوں نے آ گھیرا اپنوں کو دور جاتے دیکھا ، لوگوں کو ناراض ہوتے دیکھا ایسا کہیں کہ سب کچھ ہی بدل گیا یا شاید اب زندگی کے کھیلنے کی باری تھی .
اب راتوں کو دیر تک جاگنا ، ہر روز رونا اور پھر کسی کو محسوس بھی نا ہونے دینا کہ ہم کتنا ٹوٹ چکے ہیں ہمیں سہارے کی ضرورت ہے پیار کے 2 بول کی ضرورت ہے ہم جی بھر کے رونا چاہتے ہیں اب سوچتا ہوں کہ بچپن کتنا مزے دار تھا کسی بات کی ٹینشن نہیں ہوتی تھی .
کھلونے ٹوٹتے تھے لیکن اب دل ٹوٹ جاتے ہیں ، مان ٹوٹ جاتے ہیں ، بھروسے ٹوٹ جاتے ہیں
اب اکیلا ہی رہنا سیکھ گیا ہوں کسی کے قریب نہیں ہوتا اور نا ہی کسی کو قریب آنے دیتا ہوں کیونکہ جب لوگ چھوڑ جاتے ہیں تو بہت دکھ ہوتا ہے
ہر وقت کا ہسنا تجھے برباد نہ کر دے تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر..
بچپن میں" مسٹر بِین " صرف انٹرٹینمنٹ کیلیئے دیکھتے تھے..لیکن آج پتہ چلا وہ " شو" ایک سبق تھا
کہ لائف میں اکیلیے ہی خوش رہنا سیکھو..
خود کلامی کی عادت ڈال لیجئے یہ طے ہے کہ اکیلے چھوڑ دیئے جاؤ گے
 

Kashif Sultan
About the Author: Kashif Sultan Read More Articles by Kashif Sultan: 9 Articles with 8705 views میں تو آوارہ ہوں دیوانہ ہوں
سودائی ہوں
چلتی پھرتی ہوئی رسوائی بھی
رسوائی ہوں
.. View More