20فیصد

اس وقت دنیا کی آبادی آٹھ ارب کے قریب ہے۔ اور دن بدن اضافے کے ساتھ پورے آٹھ ارب انسانوں کے لئے ایک تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا کیونکہ یہ ایک الگ موضوع ہے۔

میں اس آٹھ ارب انسانوں کی آبادی کودو حصوں میں تقسیم کرتاہوں۔ اگر میں اس سو فیصد آبادی دو حصوں میں تقسیم کروں تو میں 20 فیصد اور 80فیصد کے حسا ب سے تقسیم کروں گا۔

بیس فیصد کی آبادی میں وہ لوگ شامل ہوتے ہیں۔ جو دوسروں سے معزز ہوتے ہیں، اپنی فیملی اور بچوں کے ساتھ خوش رہتے ہیں، اپنی پسند کی ہر چیز خریدتے ہیں اور پہنتے ہیں، اپنی پسند کی جگہوں کی سیر کرتے ہیں، ایک صحت مند زندگی گزارتے ہیں اور ایک لمبی ذندگی گزارتے ہیں۔

جب کی دوسری طرف کی آبادی جو کہ کل آبادی کا 80فیصد ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو کہ پوری زندگی ہمیشہ دوسروں کے محتاج ہوتے ہیں(نوکر بن کر زندگی گزارتے ہیں یا کسی جگہ پر نوکری کرتے ہیں)، معاشرے میں ان کی کوئی خاص عزت نہیں ہوتی ہے، معاشی ٹینشن کی وجہ سے یہ اپنی زندگی کے کم دن جیتے ہیں، ان کی خریداری ایک محدود حد تک ہوتی ہے، اپنے روزگار کی تلاش میں یہ اکثر اپنوں سے جدا رہتے ہیں اور یہ انسانی اوسط کے زیادہ کام کرنے اور اپنی توجہ نہ رکھنے کی وجہ سے ایک بیماری کی زندگی گزارتے ہیں۔

وہ لوگ جو کل آبادی کا 20فیصد ہوتے ہیں ان کو ہم کامیاب لوگ تصور کرتے ہیں اور یہ یقینا کامیاب لوگ ہی ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو باقی کی 80فیصد پر حکومت کرتے ہیں۔ یہی لیڈر ہوتے ہیں باقی کی عوام ان کی رعایا ہوتی ہے۔ یہ لوگ بانٹنے والے ہوتے ہیں۔ اور ان سے 80فیصد لوگ وصول کرنے والے ہوتے ہیں۔

یہاں تک پڑھنے سے آپ بھی اندازہ ہوگیا ہوگا کہ آپ اس دنیا کی کل آبادی کے کونسے حصے میں ہیں۔ 20فیصد یا 80فیصد۔ آپ کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ وہ لوگ جو اس وقت 20فیصد یا کامیاب لوگ ہیں یہ لوگ کبھی اس 80فیصد کی آبادی میں شامل تھے اور ایک ناکام زندگی گزار رہے تھے۔ ان تمام لوگوں نے کچھ عادات پر عمل کیا جن کے بعد وہ ایک کامیا ب انسان بنے اور دنیا کے اہم ترین لوگوں میں شامل ہو گئے۔ وہ عادات درج ذیل ہیں۔

1۔ لوگوں سے براہ راست ملنا۔ لوگوں سے براہ راست ملنے سے آپ کی ذات میں نکھا ر آتا ہے۔ آپ یہ جان کے حیران رہ جائیں گے اس وقت دنیا کے 400کامیا ب لوگوں کا سروے بتاتا ہے کہ ان کو کوئی بھی سوشل اکائنٹ نہیں ہے۔ یہ لوگ سوشل میڈیا پر اپنا قیمتی وقت ضائع نہیں کرتے ہیں۔ اس سے انسان کی زندگی میں سکون آتا ہے۔ اور ایک امن وسکون والی زندگی ہی ایک Creativeانسان پیدا کرتی ہے۔

2۔ گھر سے باہر نکلنا۔ انسان اگر ایک کمرے میں بند رہے تو اس کی سوچ محدود ہو جاتی ہے۔ اپنی سوچ کو وسعت دینے کے لئے گھر سے باہر نکلیں۔ اس کائنات کو دیکھیں اس پر غور کریں اس سے آپ کے دماغ میں نئے نئے آیڈیاز آئیں گے۔ اور آپنی زندگی میں خود بخود چھوٹے ٹارگٹ بنتے جائیں گے۔ اور آپ کی زندگی میں جدت آئے گی،

3۔ رش والی جگہوں پر جانے سے گریز کرنا۔ تنہائی ایک ایسی چیز ہے جو کہ انسان کی خود بخود اصلاح کرتی ہے۔ سائیکالوجی کی زبان میں اس کو مراقبہ کرنا کہتے ہیں ۔ اور اشفاق احمد صاحب اس کو ـ(ٹولگانا ) کہتے ہیں۔ اس میں انسان خود ہی اپنی غلطیا ں نکالتا ہے۔ یہ کا م یقینا اکیلے بیٹھ کر ہی ہوسکتا ہے۔ جتنا آپ اکیلے رہیں گے اتنی آپ کی اپنی اصلاح ہوگی۔ اس لئے کم سے کم رش والی جگہوں پر جائیں۔
4۔ کتابوں کا مطالعہ۔ بڑے انسان بڑی کتابوں سے بنتے ہیں۔ بڑی کتابیں انسان کے اند ر خوش اخلاقی، ہمدردی، برداشت اور وژن پیدا کرتی ہیں۔ اور یہ انسان کا ہمیشہ ساتھ رہنے والا ساتھی ہے۔

5۔ ہر مہینے کا بجٹ بنانا۔یہ ایک ایسی تکنیک اور اصول ہے کہ جس نے انسان مایو س زندگی نہیں گزار سکتا ہے۔ ہر مہینے کا بجٹ بنانے سے آپ اپنے اوپر کچھ اصول اور قانون لگائیں اور اور آپ کی زندگی ایک صحیح راستے پر چل پڑے گی۔ اور اس سے آپ کبھی بھی دوسروں کے محتاج نہیں ہونگے۔

6۔ بچوں سے پیار کرنا ۔ بچوں سے پیا ر کرنے سے آپ کے اندر ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اور آپ کو ایک حقیقی خوشی ملتی ہے۔ لہذا بچوں سے پیا ر کریں اگر اپنے بچے نہیں ہیں تو دوسروں کے بچوں کو تحفے دیا کریں ان سے پیار سے پیش آیا کریں۔

7۔ ویک اینڈ منانا۔ انسانی جسم میں مسلسل کام کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ انسا نی جسم اور دماغ کو وقفے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آئن سٹائن جس نے دنیا کو بے شمار سائنسی ایجادات دی ۔ اور اسے بیسویں صدی کا ذہین ترین انسان مانا جاتا ہے۔ وہ بھی مسلسل کام نہیں کرتا تھا۔ بلکہ جب وہ کام کرتے کرتے تھک جاتا تھا توآرام کرتا تھا اور پیانوں بجاتا تھا۔ اور پھر تازہ دم ہو کرکام شروع کر دیتا تھا۔ اگر آپ زندگی میں ایک انرجی چاہتے ہیں تو ویک اینڈ منایا کریں۔

8۔ عبادت اور دعا کرنا۔ انسان کی دو چیزیں اگر ٹھیک کام کر رہی ہیں تو وہ بالکل صحت مند ہے ۔ 1۔ جسم 2۔ روح ۔ جسم بیمار ہوتو اﷲ تعالیٰ نے ہر بیماری کی دوا اس دنیا میں بھیجی ہے۔ اور روح بیمار ہوجائے تو اس کے لئے بھی اﷲ تعالیٰ نے عبادت جیسی نعمت انسان کو عطا کی ہے۔ دنیا کے تمام مذاہت میں عبادت کا تصور ہوتا ہے۔ یہ عبادت روح کی پرورش کرتی ہے اور دعا روح کو سکون دیتی ہے۔
میرا یقین ہے کہ اگر آپ اور میں ان آٹھ اصولوں پر عمل کریں تو ہم اس دنیا میں ایک کامیاب اور سکون سے بھر پور زندگی گزار سکیں گے۔ اور ہم اس دنیا کے ان 20فیصد لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جن کو دنیا کامیاب کہتی ہے۔ اور یہ تاریخ میں اپنا نام چھوڑ کے جاتے ہیں۔ اور تاریخ ان کو یاد کرتی ہے۔
 

Saleem Abbas
About the Author: Saleem Abbas Read More Articles by Saleem Abbas: 2 Articles with 283 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.