سیلاب زدگان کے دکھ اور ان کا روائتی حل

اس بار اس تباہی کے حل کو بدلنا ہو گا

یہ درست ہے کہ اس وقت ان آفت ذدہ لوگوں کا دکھ ہر کوئی محسوس کر رہا ہے ۔ ہر آنکھ نم ہو جاتی ہے ان کے ذکر پر ۔ ہر لب سے آن کے لیے دعا نکلتی ہے ۔ ہم سب استغفار کر رہے ہیں کے ربِ باری تعالٰی ہم سب کو بخش دے ۔ مگر کیا کوئی یہ بھی چاہتا ہے کہ وہ جو اس آفت میں برباد ہو گئے ہیں ۔ رب کریم نے برادر ممالک کو ان کی مدد کے لیے وسیلہ امداد بنایا ہے ۔ ہم سب مل کر پائی کا حساب رکھیں اور اس امداد کو حق داروں تک پہنچنے کو یقینی بنائیں ۔ اس سے پہلے کے پہلے کی طرح یہ رقم بھی بیرونِ ملک اکاونٹ میں منتقل ہو جائے اور حق داروں کو صرف خیموں ۔ راشن اور کمبل دے کر فارغ کر دیا جائے ۔

اور پھر کہیں مہینوں تک ٹی وی پر اخباروں میں اور عدالتوں میں یہ رونا رویا جاتا رہے کہ کس کس نے کتنا کتنا روپیہ لوٹ کر کون کون سی جائیدادیں بنا لیں ۔

میرے پیارے ہم وطنوں آپ سب نے یہ تو سن رکھا ہو گا کہ سانپ گزر جاے تو لکیر پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ اس لیے اس بار وقت رہتے آواز اٹھاؤ اور روز مرہ کہ امدادی کاروائی کا پائی پائی کا حساب مانگو اپنی حکومت سے ۔ یہ رقم جو پاکستان کے تباہ حال شہری کے لیے دی جا رہی ہے اسے امیر کو امیر تر نہ بننے دیا جائے ۔

اپنے وطنوں کے لئے اور اپنے وطن کی بہتری کے لئے بولنا سیکھیں اور حساب مانگیں ہر اس چیز کا جو آپ کا حق ہے ۔ بعد میں بننے والی تفتیشی کمیٹیاں آج تک کسی ایک کیس کا درست فیصلہ نہیں سنا سکی اور نا ہی کوئی عدالت کسی کو سزا سنا سکتی ہے ۔ صرف عوام خود ہی اپنے لیے انصاف کا فیصلہ کر سکتی ہے کیوں کے ملک کے ہر معاشی بحران کو عوام نے جھیلا ہے ۔
ص
 

Farzana jabeen
About the Author: Farzana jabeen Read More Articles by Farzana jabeen: 39 Articles with 31580 views میں ایک عام سی گھریلو عورت ہوں ۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر غور کرنے والی ۔ زندگی نے مجھے جو سبق سکھائے ہیں میں کوشش کرتی ہوں کےاپنی تحریروں میں اْن کو شامل.. View More