میرے تیرے وجود کا سلگتا ہوا انگارہ

ہم اپنی آنا کی خاطر کیسے کیسے قدم اٹھاتے ہیں اور کیا کیا کر جاتے ہیں ۔ ہم فقط یہ یاد کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ کہ مفاد پرستی کا فاہدہ کیا ہے ۔ اور موذی وائرس کو استعمال میں کیسے لانا ہے ۔ بس اس وجہ سے ہمارے کچھ خاص رشتے ہم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ جاتے ہیں۔ جو کہ معاشرے کی طرف سے ہونے والی بدمعاشیاں سے اپنے اعتبار کی شمعیں ہمیشہ کے لیے ٹھہنڈی کر لیتے ہیں ۔فقط اس بات پر کے اشرف المخلوقات نام ہی دھوکے کا ہے۔ مگر میرے لیے یہ بات حیران کن ثابت ہوتی ہے ۔ وہ جوان جو اپنے ملک و دین و اسلام کی سربلندی اور حق و صداقت کی بلندی کے لیے اپنے سب رشتوں اور اپنے معاشرے سے الگ ہو کر تپتے ہوئے صحراؤں، سیاچن گلیشیئر کی جما دینے والی ہواؤں، ہزاروں من سمندر کے پانی کے نیچے اور کٹی پٹی زمین کی رونق بنتے ہیں ۔ جہاں ایک صاحب زر کبھی جانے کا نام تک بھی نہیں لے گا۔ مگر میرے وطن عزیز کی لاکھوں ماؤں نے اپنے صلاح الدین ایوبی ،ٹیپو سلطان اور محمد بن قاسم کی صورت میں اس پاک مٹی پر قربان کرنے کے واسطے قسم کھا رکھی ہے ۔ یہ وہ ماہیں ہیں جن کی کوک سے شیر کا دل رکھنے والے جوان پیدا ہوتے ہیں ۔ جن کو کبھی تو مارخور سے تشبیہ دی جاتی ہے تو کبھی برفوں کا چیتا۔ مگر ہم معاشرے والے کیا جانے کہ ان کا خون کتنا مہنگا ہے۔ ان کے نزدیک تو بس یہ مفت کی تنخواہ لیتے ہیں کاش کہ کوئی صاحب ذی شعور انسان ان کی زندگی کا مشاہدہ کر سکتا اور ان جہاد فی سبیل اللہ کی قسم کھانے والوں کے حالات زندگی کو سمجھ سکتا ۔ مگر کیا کریں یہ لوگ فطرتی منافقت کا کردار نبھاتے آ رہیں ہیں ۔ ان کو کیا فکر کہ کون کب کیسے کہا ملک کی سالمیت پر کٹتا ہے ۔یہ لوگ تو اسمبلیوں میں بیٹھ کر ان جنت کے شہزادوں کو بجٹ گنتی کرواتے ہیں۔ کاش کوئی تو سامنے آ ے جو ہمارے سپوت جوانوں کی زندگی کو دیکھ سکے۔ اور اس طرح گزار سکے۔ مگر ان کی ذات ان کو اس پاک مقصد کو کرنے کے لیے کیسے تیار کر سکتی ہے ۔ کیو کہ ملک دشمن عناصر ان کی سر پرستی کرتے ہیں۔ بس ان کو ایک کام آ تا ہے جو کہ انتہائی شرم ناک بات ہے وہ مجھے بتاتے ہوئے شرمندگی ہوتی ہے ۔ اسی لیے ان سب رہنماؤں کی ایک دوسرے کے سامنے عزت نفس ہے ہی نہیں اور ان کے چاہتے والے تو بس اس عمل پر کسی چرسی بھنگی کی طرح لگے ہوئے ہیں جو کہ کی مریدی میں ہر دم مست رہتے ہیں ۔۔ اب سوال تو بنتا ہے یہ رہنماں کون ہیں۔ میرے لحاظ سے ان کی پہچان ان کے زبانی ہی کروانی چاہیے تاکہ کسی کو کوئی اعتراز ہی نہ ہو سب سے پہلے میا ں گروپ جن کے چاہنے والوں کو پٹواری نام سے جانا جاتا ہے ۔ اور دوسرے جو کہ دور جدید کی ضرورت اور ینگ بوائز کا سرمایا نیازی گروپ کی پہچان یوتھیاں گروپ ہے ۔ اسی لیے آ پ خود موازنہ کر سکتے ہیں ۔ پٹواری کو قبضہ گروپ اور یوتھیاں کو ناچنے اور نچانے والا سمجھا جاتا ہیے۔۔ اب رہی عوام کی بات اور دوسرے سیاسی بٹیر جو کہ ان سے جڑے ہوئے ہیں ۔ اسی لیے میں ان پر بات نہیں کرو گا۔ یہ وہ مفاد پرست عناصر ہیں جن کا ملکی سالمیت سے کوئی لینا دینا نہیں اور یہ فقط اپنی انا اپنی بد معاشی اور غنڈہ گردی کے علاؤہ کچھ کر ہی نہیں سکتے ہیں ۔ اسی لیے میں عرض کرتا ہوں خدارا ان کے دیے ہو بیانات پر کبھی غور نہیں کریں' یہ عوام الناس کو اپنے اداروں کے خلاف کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے سامنے ملکی سرحدوں کی کوئی اہمیت نہیں اور نہ اس جوان کی فکر ہے جو دنیا میں آ تے ہی چند سال بعد اپنی بنیادی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنی جوانی کو قربان کرنے کے واسطے کھڑا ہوتا ہے ۔ اسے نہ تو رات کی تاریکی کی فکر ہوتی ہے۔ اور نہ کسی چیز کاڈر اگر اسے ڈر ہوتا ہے تو فقط خدا کی ذات کا ڈر ہوتا ہے ۔ اور اپنے ساتھ جڑے لوگوں کی عزت نفس کا کہ کسی بات سے ان کی ذات پر آ نچ نہ آ جائے ۔ نہیں تو جواب ان کے پاس بھی بہت ہوتے ہیں ۔ اسی لیے میری اپیل ہے آ پ تمام بھائیوں سے کہ خداوند عالم کی عزت کے واسطے ان وردی والوں کا احترام کیا کریں ان ہی کے دم سے ہم اتنی گہری اور جان نکال دینے والی راتوں میں بھی آ رام سکھ چین کی نیند سوتے ہیں ۔خدارا اس ملک کی عزت ہماری عزت ہے۔ اور اس کو قائم رکھنا ہم سب پر فرض ہے ۔
 

Muhammad afzal Jhanwala
About the Author: Muhammad afzal Jhanwala Read More Articles by Muhammad afzal Jhanwala : 2 Articles with 366 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.