کون ہیں یہ لوگ؟

پچھلے کچھ عرصے سے بھارت کی عدالتوں میں طلاق، خلع ،عدت ،مہر کے سلسلے میں متعدد مقدمے دائرکئے گئے ہیں،ان مقدمات کا پس منظر بھلے ہی ایک جیسے ہوں لیکن عدالتوں کے جوفیصلے آرہے ہیں وہ متنازعے ہیں ۔ہر بار عدالتوں کی جانب سے دئیے جانےوالےفیصلے عوام میں یہ سوالات پیداکررہے ہیں کہ کیا آخر فیصلہ کرنےوالے جج کونسی بنیادوں پر علیحدہ علیحدہ فیصلے سُنارہے ہیں۔مثال کے طورپر چندی گڑھ،پنجاب ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ سُنایاکہ مسلم لڑکی شرعیہ قانون کے مطابق شادی کرسکتی ہے ،بھلے وہ 18 سال سے کم عمرکی کیوں نہ ہو۔ایسے ہی معاملے کو کیرل ہائی کورٹ کے فیصلے میں کہاگیاہے کہ نابالغ لڑکی کی شادی کو پوکسو قانون سے باہرنہیں رکھاجاسکتااور اس پر شرعیہ قانون نافذ نہیں ہوتا۔وہیں دوسری جانب طلاق،خلع اور مہرجیسے معاملات میں بھی عدالتیں متنازعہ فیصلے سُنارہی ہیں۔حال ہی میں ایک عورت نے سپریم کورٹ میں عرضی دائرکی ہے کہ مردوں کی طرح انہیں بھی طلاق دینے کا حق دیاجائے،اس پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کی ہے،جبکہ اسلام میں عورت کو بھی مردسے الگ ہونے کا اختیاردیاگیاہے،البتہ اس نظام کو طلاق نہیں بلکہ خلع کہاجاتاہے۔جب خلع کاآپشن اسلام میں پہلے سے ہی موجودہے تو کس بنیادپر عدالت اس معاملے کو سماعت کیلئے قبول کررہی ہے اس کا اندازہ نہیں ہورہاہے۔پھر ایک نیا معاملہ کیرل ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے جس میں بتایاگیاہے کہ خاتون نے شوہرکی رضامندی یا وصیت کے بغیرہی شوہر سےخلع لی ہوئی ہے،لیکن اس خلع کوعلماء ماننے سے انکار کررہے ہیں۔اس بات کو لیکر کیرل ہائی کورٹ نے سخت تبصرہ کیاہے کہ جن علماء کےپاس کوئی قانونی تربیت یا قانونی علم نہیں ہے وہ کیسے مسلم پرسنل لاء کے متعلق قانون کے کسی نکتہ پر فیصلہ کرسکتے ہیں۔عدالت نے بھی یہ کہاہے کہ عدالتیں ایسے علماء کی رائے کے سامنے ہتھیارنہیں ڈالیں گی جن کے پاس کوئی قانونی تربیت یا ڈگری نہیں ہے۔سوال یہ ہے کہ جب مسلم پرسنل لاء کو مسلم علماء نے قرآن وحدیث کی روشنی میں ترتیب دیاہو اور مسلم پرسنل لاء کو عدالتوں سے بہتر جانتے ہوں تو کیسے قانون کہےگاکہ علماء کے پاس شرعیہ قانون کے مطابق فیصلے کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔آخریہ کون لوگ ہیں جو قانون کی آڑمیں مسلمانوں کے پرسنل لاء کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے رہتے ہیں۔جب عدالتیں براہ راست مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کرینگے تو مسلم پرسنل لاء کی اہمیت کیا رہے جائیگی؟کس بنیادپرحکومتیں ،قاضی یا امیر شریعت کے عہدوں کو قبول کرتی ہے؟۔جیسے ایک ڈاکٹر کسی مشین کو انجینئر کی طرح ٹھیک نہیں کرسکتا اور اگر کرنا بھی چاہے تو وہ انجینئرکے پاس مشورہ لیکر یا اُس کی نمائندگی یا رہنمائی میں ٹھیک کرنے کی کوشش کرسکتاہے،بالکل اُسی طرح سے عدالتوں کو چاہیے کہ وہ مسلم پرسنل لاء جیسے معاملات پر مسلم علماء یا مسلم پرسنل لاء بورڈکے ساتھ تال میل قائم کرے۔جس طرح سے کسی قتل کی واردات کو سمجھنے کیلئے فارنسنک سائنس کا سہارالیاجاتاہے،اسی طرح سے شرعیہ قانون کوجاننے والوں کا بھی سہارالینے ہوگا۔ہم نے کئی ایسے وکلاء بھی دیکھے ہیں جنہیں طلاق اور خلع میں فرق ہی نہیں معلوم ہوتاہے اور نہ ہی وہ عدت کو سمجھ سکتے ہیں یاپھر طلاق کے مرحلہ وار نظام کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔ایسے میں مسلمانوں کے پرسنل لاء کے تعلق سے جو متنازعہ فیصلے آرہے ہیں وہ حقیقت میں پریشان کن ہیں،اس تعلق سے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ عدالتوں،ججوں،وزرائے قانون اور وکلاء کیلئے بورڈکی نگرانی میں رابطہ اجلاس کا اہتمام کریں،اس تعلق سے بیداری لانے کیلئے بورڈ سرگرم ہوجائے اور ایسے منصوبے بنائے جس سے اسلامی قانون کوقانون دانوں کےسامنے آسانی کے ساتھ پیش کیاجاسکے۔ایسانہ ہو کہ مسلم پرسنل لاءبورڈ صرف اصلاح معاشرہ یا مذمتی و تنقیدی بیانات تک محدودہوجائے۔اگر سرسری طور پر جائزہ لیں کہ ان بدترین حالات میں بورڈنے ایسے معاملات کو لیکر کتنے ورک شاپ کئے ہیں؟کتنے وکلاء اور قانون دانوں کے سامنےشرعیہ قانون کو پیش کیاہے؟۔


 

Muddasir Ahmed
About the Author: Muddasir Ahmed Read More Articles by Muddasir Ahmed: 258 Articles with 134118 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.