سندھ میں سرداری نظام کب تک نافذ رہے گا؟


معاشرے کی ترقی نچلے طبقے کو تعلیم یافتہ بنانے سے اور انہیں اپنی صلاحیتوں کے مطابق فیصلے کرنے کی قوت سے ماخذ ہے، کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا جب تک وہاں انصاف کا نظام درست نا ہو، چھوٹے، بڑوں کے لیے ایک ہی قانون نا ہو۔

سرداری نظام کوئی آج کی پیداور نہیں ہے بلکہ یے انگریزوں کا وہ ہتھیار ہے جسے وہ نئے علاقے فتح کرنے کے بعد وہاں کے پسماندہ لوگوں پر استعمال کرتے تھے، تاکہ ان وہاں کے لوگ اپنے حقوق کے لیے آواز نا اٹھا سکے ، بر صغیر میں بھی یے سرداری اور وڈیرا شاہی نظام انگریزوں کا تحفہ ہے، جسے پاکستان کی آزادی کے بعد پاکستان کے مختلف علاقوں میں نافذ کیا گیا لیکن وقت کی ترقی اور تعلیم نے اس سرداری اور وڈیرا شاہی نظام کو کئی علاقوں سے اکھاڑ دیا لیکن پاکستان کا صوبہ سندھ وہ واحد بدنصیب صوبہ یے جہاں یے نظام آج بھی اپنی جڑیں مضبوط کیے بیٹھا ہے، اور پاکستان کی ترقی میں ایک مظبوط رکاوٹ ہے۔۔

سندھ آج بھی ان پسماندہ خطوں میں شمار ہوتا یے جہاں آج بھی سرداری اور وڈیرپائی نظام سرفہرست ہے، جہاں آج بھی غریب کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے صرف اس لیے قید کیا جاتا ہہ کہ وہ کسی سردار یا وڈیرے کے فیصلوں کا انکاری ہوتا ہے، اکیسویں صدی کے اس دور میں جہاں تعلیم کے بغیر زندگی گذارنا مشکل سا یے وہاں نچلے طبقے کے لوگوں کو تعلیم سے صرفِ اس لیے دور رکھا جاتا ہے کہ اگر کسی نے علم حاصل کرلیا تو وہ ہمارے لاقونیت کے نظام پر سوال نا اٹھا لے۔

جہاں دنیا ترقی کی راہوں کو چھو رہی ہے وہاں سندھ کے لوگ اپنی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہیں، تعلیم سے لیکر اپنے حقوق کی بات کرنا بھی ایک جرم سا ہے، جہاں دنیا انفرادیت کے حقوق کی بات کر رہی ہے وہیں سندھ کے لوگ معاشرتی حقوق سے بھی محروم ہیں، جس کا سبب سندھ میں آج بھی لاقونیت، سرداری نظام سر عام ہے، جہاں چند لوگوں کے مفادات کی خاطر کئی لوگوں کی جان بھی چلی جائے تو معمولی سی بات ہے۔

لاقونیت سرداری نظام کی وہ رگ ہے جس کو اگر قانون کے ذریعے ختم کیا جائے تو سرداری نظام، وڈیرپائی نظام ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتا ہے، سالوں سے ناگزیر یے نظام سندھ کے لوگوں کو اتنا پیچھے دھکیل دیا ہے جو وہ بنیادی حقوق کے لیے بھی آواز نہیں اٹھا سکتے، اور نا ہی ان بنیادی ضروریات کا خیال اپنے ذھن میں لا سکتے ہیں۔

آج بھی سندھ کی کئی بیٹیاں غیرت کے نام پر سر عام قتل کی جاتی ہیں، اور کتنی ہی بہنوں کی زندگیاں قبائلی فیصلوں کی آڑ میں جہنم سے بھی بدتر بنائی جاتی ہیں اور کتنے ہی نوجوانوں کی زندگیوں کو ختم کیا جاتا ہے تاکہ کوئی بھی شخص اس سرداری نظام کے خلاف اپنی آواز نا اٹھا سکے۔۔

سرداری نظام کے وجود کو برقرار رکھنے میں حکومتی قوتوں کا بھی ایک اہم کردار رہا ہے، وہاں کے لوگوں کو تعلیم سے دور رکھنا اور بنیادی حقوق پر خاموش رہنے پر مجبور کرنے میں حکومت بھی وڈیروں کے شایان شان کھڑی ہوتی رہی یے۔ پاکستان کے صوبہ سندھ کو اس موضی نظام سے آزاد کروانے کی اشد ضرورت ہے ، کیونکہ پاکستان کی ترقی میں یہ سرداری، وڈیرا شاہی نظام ایک اہم رکاوٹ ہے، سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے قانون لائے جس سرداروں کے اختیارات کو لغام لگایا جا سکے اور یے لا قانونیت کی ثقافت ہمیشہ کے لیے بند ہو سکے تاکہ یہاں کے لوگ اپنے معاشرتی حقوق حاصل کر سکے۔
 

Muhammad Hassan Soomro
About the Author: Muhammad Hassan Soomro Read More Articles by Muhammad Hassan Soomro : 4 Articles with 569 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.